جعفر ابن ابی طالب

جعفر ابن ابی طالب جعفر طیار کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ علی کرم اللہ وجہہ کے بھائی اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا زاد بھائی تھے۔ آغاز اسلام کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ مسلمانوں نے حبشہ کو ہجرت کی تو آپ مہاجرین کے قائد تھے۔ شاہ حبشہ نجاشی کے دربار میں آپ کی تقریر ادب کا شہ پارہ اور اسلام کا خلاصہ تصور کی جاتی ہے۔ جنگ موتہ میں اسلامی لشکر کے سپہ سالار تھے۔ اسی جنگ میں شہادت پائی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے طیار ’’تیز اڑنے والا، جنت کی طرف‘‘ کا لقب مرحمت فرمایا۔

جعفر ابن ابی طالب
Jafar Bin Abu Taleb Name.gif
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 589  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ[1]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 629 (39–40 سال)[2]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
موتہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات لڑائی میں مارا گیا  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ اسماء بنت عمیس  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد محمد بن جعفر،  عون بن جعفر،  عبداللہ بن جعفر  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد ابو طالب  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ فاطمہ بنت اسد  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
عملی زندگی
پیشہ واعظ،  عسکری قائد  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں جنگ موتہ  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں


نام،نسبترميم

جعفر نام،ابوعبداللہ کنیت،والدکا نام عبدالمناف (ابوطالب) اوروالدہ کا نام فاطمہ تھا،شجرہ نسب یہ ہے جعفر بن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم مبن عبدمناف بن قصی القرشی الہاشمی۔ آنحضرت ﷺ کے ابن عم اورحضرت علی کرم اللہ وجہہ ؓ کے سگے بھائی تھے،اورعمر میں ان سے تقریبا دس سال بڑے تھے۔

اسلامترميم

آنحضرت ﷺ ایک روز حضرت علی ؓ کے ساتھ مشغول عبادت تھے،خاندان ہاشم کے سردارابوطالب نے اپنے دوعزیزوں کو بارگاہ صمدیت میں سربسجود دیکھا تو دل پرخاص اثرہوا، اپنے صاحبزادہ حضرت جعفر ؓ کی طرف دیکھ کر کہا، جعفر ؓ تم بھی اپنے ابن عم کے پہلو میں کھڑے ہوجاؤ، حضرت جعفر ؓ نے بائیں طرف کھڑے ہوکر نماز ادا کی،ان کو خدائے لایزال کی عبادت وپرستش میں ایسا مزہ ملا کہ وہ بہت جلد یعنی آنحضرت ﷺ کے زید بن ارقم ؓ کے گھر میں پناہ گزین ہونے کے قبل ہمیشہ کے لیے اس کے پرستاروں میں داخل ہو گئے ،اس وقت تک اکتیس بتیس آدمی اس سعادت سے مشرف ہوئے تھے۔

ہجرت حبشترميم

مشرکینِ مکہ کی ستم آرائیوں سے تنگ آکر جب مسلمانوں کی جماعت نے حبش کی راہ لی تو حضرت جعفرؓ بھی اس کے ساتھ ہو گئے؛ لیکن قریش نے یہاں بھی چین لینے نہ دیا، نجاشی کے دربار میں مکہ سے گراں قدرتحائف کے ساتھ ایک وفد آیا اوراس نے درباری پادریوں کوتائید پر آمادہ کرکے نجاشی سے درخواست کی کہ"ہماری قوم کے چند ناسمجھ نوجوان اپنے آبائی مذہب سے برگشتہ ہوکر حضور کے قلمرو ے حکومت میں چلے آئے ہیں، انہوں نے ایک ایسا نرالا مذہب ایجاد کیا ہے جس کو پہلے کوئی جانتا بھی نہ تھا، ہم کو ان کے بندگوں اوررشتہ داروں نے بھیجا ہے کہ حضور ان لوگوں کو ہمارے ساتھ واپس کر دیں،درباریوں نے بھی بلند آہنگی کے ساتھ اس مطالبہ کی تائید کی،نجاشی نے مسلمانوں سے بلا کر پوچھا کہ وہ کون سانیا مذہب ہے جس کے لیے تم لوگوں نے اپنا خاندانی مذہب چھوڑدیا؟

حضرت جعفر ؓ کی دربارِ حبش میں اسلام پر تقریرترميم

مسلمانوں نے نجاشی سے گفتگو کے لیے اپنی طرف سے حضرت جعفر ؓ کو منتخب کیا،انہوں نے اس طرح تقریر کی

بادشاہ سلامت!ہماری قوم نہایت جاہل تھی،ہم بت پوجتے تھے، مردار کھاتے تھے،بدکاریاں کرتے تھے،رشتہ داروں اورپڑوسیوں کو ستاتے تھے،طاقت ورکمزوروں کو کھاجاتا تھا، غرض! ہم اسی بدبختی میں تھے کہ خدا نے خود ہی ہماری جماعت میں سے ایک شخص کو ہمارے پاس رسول بنا کر بھیجا، ہم اس کی شرافت،راستی،دیانت داری اورپاکبازی سے اچھی طرح آگاہ تھے،اس نے ہم کو شرک وبت پرستی سے روک کر توحید کی دعوت دی،راست بازی، امانت داری، ہمسایہ اوررشتہ داروں سے محبت کاسبق ہم کو سکھایا اورہم سے کہا کہ ہم جھوٹ نہ بولیں،بے وجہ دنیا میں خونریزی نہ کریں،بدکاری اورفریب سے بازآئیں،یتیم کا مال نہ کھائیں،شریف عورتوں پر بدنامی کا داغ نہ لگائیں،بت پرستی چھوڑدیں،ایک خدا پر ایمان لائیں، نماز پر پڑھیں،روزے رکھیں، زکوٰۃ دیں،ہم اس پر ایمان لائے اوراس کی تعلیم پرچلے ہم نے بتوں کو پوجنا چھوڑا،صرف ایک خدا کی پرستش کی،اورحلال کو حلال اورحرام کو حرام سمجھا، اس پر ہماری قوم ہماری جان کی دشمن ہو گئی، اس نے طرح طرح سے ظلم و تشدد کرکے ہم کو پھر بت پرستی اورجاہلیت کے برے کاموں میں مبتلا کرنا چاہا، یہاں تک کہ ہم لوگ ان کے ظلم و ستم سے تنگ آکر آپ کی حکومت میں چلے آئے۔

نجاشی نے کہا تمہارے نبی پر جو کتاب نازل ہوئی، اس کو کہیں سے پڑھ کر سناؤ، حضرت جعفر ؓ نے سورۂ مریم کی چند آیتیں تلاوت کیں تو نجاشی پر ایک خاص کیفیت طاری ہو گئی اس نے کہا خدا کی قسم !یہ اور تورات ایک ہی چراغ کے پرتو ہیں اورقریش کے سفیروں سے مخاطب ہوکر کہا واللہ! میں ان کو کبھی واپس جانے نہ دوں گا۔

سفرائے قریش نے ایک د فعہ پھر کوشش کی اور دوسرے روز دربار میں باریاب ہوکر عرض کیا حضور!کچھ یہ بھی جانتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق ان لوگوں کا کیاخیال ہے،نجاشی نے جواب دینے کے لیے مسلمانوں کو بلایا،ان لوگوں کو سخت تردد تھا کہ کیا جواب دیں حضرت جعفر ؓ نے کہا کچھ بھی ہو،خدا اوررسول نے جو کچھ بتایا ہے ہم اس سے انحراف نہیں کریں گے،غرض دربار میں پہنچا تو نجاشی نے پوچھا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت تمہارا کیا اعتقاد ہے؟" حضرت جعفر ؓ نے کہا واللہ جو کچھ تم نے کہا عیسی بن مریم اس سے اس تنکے کے برابر بھی زیادہ نہیں ہیں، یہ سن کر دربار کے پادری جو ابن اللہ کا عقیدہ رکھتے تھے،نہایت برہم ہوئے ،نتھنوں سے خرخراہٹ کی آوازیں آنے لگیں، لیکن نجاشی نے کچھ پروا نہ کی اورقریش کی سفارت ناکام واپس آئی۔ [3]

حبش سے مدینہترميم

حضرت جعفر ؓ آنحضرت ﷺ کے مدینہ کی ہجرت کے چھ سال بعد تک حبشہ ہی میں رہے،7ھ میں وہ حبش سے مدینہ آئے،یہ وہ زمانہ تھا کہ خیبر فتح ہو گیا تھا اور مسلمان اس کی خوشی منا رہے تھے کہ مسلمانوں کو اپنے دور افتادہ بھائیوں کہ واپسی کی دوہری خوشی حاصل ہوئی،حضرت جعفر ؓ سامنے آئے تو آنحضرت ﷺ نے ان کو گلے سے لگایا اورپیشانی چوم کر فرمایا، میں نہیں جانتا کہ مجھ کو جعفر کے آنے سے زیادہ خوشی ہوئی یا خیبر کی فتح سے۔ [4] حضرت جعفر ؓ کی واپسی کو ابھی ایک سال بھی گذرنے نہ پایا تھا کہ ان کے امتحان کا وقت آگیا۔

غزوۂ موتہترميم

جمادی الاولیٰ 8ھ میں موتہ پر فوج کشی ہوئی، آنحضرت ﷺ نے فوج کا علم حضرت زید بن حارثہ ؓ کو عطا کرکے فرمایا کہ"اگرزید شہیدہوں تو جعفر ؓ اوراگر جعفر ؓ بھی شہید ہوں تو عبد اللہ ابن رواحہ ؓ،اس جماعت کے امیر ہوں گے،(بخاری کتاب لالمغازی باب غزوۂ موتہ)چونکہ حضرت جعفر ؓ اپنے مخصوص تعلقات کی بنا پر متوقع تھے کہ شرفِ امارت ان ہی کو حاصل ہوگا،اس لیے انہوں نے کھڑے ہوکر عرض کیا"یارسول اللہ!میراکبھی یہ خیال نہ تھا کہ آپ ﷺ زید ؓ کو مجھ پر امیر بنائیں گے،ارشاد ہوا اس کو جانے دو تم نہیں جان سکتے کہ بہتری کس میں ہے،[5] آنحضرت ﷺ اس غزوۂ کے انجام و نتیجہ سے آگاہ تھے،اس لیے فرمایا کہ اگر زید ؓ شہید ہوں تو جعفر علم سنبھالیں،اگروہ بھی شہید ہوں تو عبد اللہ بن بن رواحہ ان کی جگہ لیں۔ [6]

شہادتترميم

موتہ پہنچ کر معرکہ کارزار گرم ہوا،تین ہزار غازیان دین کے مقابلہ میں غنیم کا ایک لاکھ ٹڈی دل لشکر تھا،امیر فوجِ حضرت زید ؓ شہید ہوئے تو حضرت جعفر ؓ گھوڑے سے کود پڑے اورعلم کو سنبھال کر غنیم کی صفیں چیرتے ہوئے آگے بڑھے دشمنوں کا ہر طرف سے نرغہ تھا،تیغ وتبر،تیروسنان کی بارش ہورہی تھی یہاں تک کہ تمام بدن زخموں سے چھلنی ہو گیا،دونوں ہاتھ بھی یکے بعد دیگرے شہید ہوئے مگر اس جانباز نے اس حالت میں بھی توحید کے جھنڈے کو سرنگوں ہونے نہ دیا،[7]بالآخر شہید ہوکر گرے تو عبد اللہ بن رواحہ ؓ نے اوران کے بعد حضرت خالد سیف اللہ نے علم ہاتھ میں لیا اورمسلمانوں کو بچالائے۔ [8]

حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ اس جنگ میں شریک تھے، فرماتے ہیں کہ میں نے جعفر ؓ کی لاش کو تلاش کرکے دیکھا تو صرف سامنے کی طرف بچاس زخم تھے،تمام بدن کے زخموں کا شمار تو نوے سے بھی متجاوز تھا،[9] لیکن ان میں سے کوئی زخم پشت پر نہ تھا۔ [10]

رسول اللہ ﷺ کا حزن وملالترميم

میدانِ جنگ میں جو کچھ ہورہا تھا،خدا کے حکم سے آنحضرت ﷺ کے سامنے تھے، چنانچہ آنے سے پہلے ہی آپ ﷺ نے حضرت جعفر ؓ وغیرہ کی شہادت کا حال بیان فرمادیا،اس وقت آپ کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو گئے اور روئے انور پر حزن و ملال کے آثار نمایاں تھے۔ [11] حضرت جعفر ؓ کی اہلیہ محترمہ حضرت اسماء بنت عمیس ؓ فرماتی ہیں کہ میں آٹا گوندھ چکی تھی،اور لڑکوں کو نہلا دھلا کر صاف کپڑے پہنارہی تھی کہ آنحضرت ﷺ تشریف لائے اورفرمایا جعفر ؓ کے بچوں کو لاؤ، میں نے ان کو حاضر خدمت کیا، تو آپ ﷺ نے آبدیدہ ہوکر ان کو پیار فرمایا، میں نے کہا میرے ماں باپ فداہوں،حضور آبدیدہ کیوں ہیں کیا جعفر اوران کے ساتھیوں کے متعلق کوئی اطلاع آئی ہے، فرمایا ہاں! شہید ہو گئے،یہ سن کر میں چیخنے چلانے لگی،محلہ کی عورتیں میرے ارد گرد جمع ہوگئیں، آنحضرت ﷺ واپس تشریف لے گئے،اورازواج مطہرات ؓ سے فرمایا کہ آلِ جعفر ؓ کا خیال رکھنا،آج وہ اپنے ہوش میں نہیں ہیں۔ [12] سیدہ جنت حضرت فاطمہ زہرا ؓ کو بھی اپنے عم محترم کی مفارقت کا شاید غم تھا، شہادت کی خبر سن کر بادیدہ ترواعماہ! واعماہ!کہتے ہوئے بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوئیں،آنحضرت ﷺ نے فرمایا،بے شک!جعفر ؓ جیسے شخص پر رونے والیوں کو رونا چاہیے، آپ ﷺ کو عرصہ تک شدید غم رہا،یہاں تک کہ روح الامین نے یہ بشارت دی کہ"خدانے جعفر ؓ کو دو کٹے ہوئے بازوؤں کے بدلہ میں دو نئے بازو عنایت کیے ہیں، جن سے وہ ملائکہ جنت کے ساتھ مصروفِ پرواز رہتے ہیں۔ [13]

فضائل ومحاسنترميم

حضرت جعفر ؓ کشادہ دست وفیاض تھے،غرباءومساکین کو کھانا کھلانے میں ان کو خاص لطف حاصل ہوتا تھا،آنحضرت ﷺ ان کو ابوالمساکین کے نام سے یاد فرمایا کرتے تھے، حضرت ابوہرہرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں اکثر بھوک کے باعث پیٹ کو کنکروں سے دبائے رکھتا تھا، اورآیت یاد بھی رہتی تو اس کو لوگوں سے پوچھتا پھرتا کہ شاید کوئی مجھ کو اپنے گھر لے جائے اورکچھ کھلائے،لیکن میں نے جعفر ؓ کو مسکینوں کے حق میں سب سے بہتر پایا،وہ ہم لوگوں (اصحاب صفہ) کو اپنے گھر لے جاتے تھے، اورجو کچھ ہوتا تھا، سامنے لاکر رکھ دیتے تھے،یہاں تک کہ بعض اوقات گھی یا شہد کا خال مشکیزہ تک لادیتے اور اس کو پھاڑ کر ہمارے سامنے رکھ دیتے اور ہم اس کو چاٹ لیتے تھے۔ [14]

حضرت جعفر ؓ کے فضائل ومناقب کا پایہ نہایت بلند تھا،خود آنحضرت ﷺ ان سے فرمایا کرتے تھے کہ"جعفر ؓ!تم میری صورت وسیرت دونوں میں مجھ سے مشابہ ہو،[15]آنحضرت ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے سے پہلے جس قدر نبی گذرے ہیں ان کو صرف سات رفیق دیے گئے تھے، لیکن میرے رفقائے خاص کی تعداد چودہ ہے، ان میں سے ایک جعفر ؓ بھی ہیں،[16] حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ"رسول اللہ ﷺ کے بعد جعفر ؓ سب سے افضل ہیں،(جامع ترمذی مناقب حضرت جعفر ؓ) حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ ان کے صاحبزادہ کو سلام کرتے تو کہتے، السلام علیک یاابن ذی الجناحین،[17] حضرت عبد اللہ بن جعفر ؓ فرماتے ہیں کہ بعض اوقات میں حضرت علی ؓ سے کچھ مانگتا تو وہ انکار کردیتے ،لیکن جب اپنے والد جعفر ؓ کا واسطہ دیتا تو بغیر کچھ دیے نہ رہتے ۔

اولادترميم

بیویوں کی صحیح تعداد نہیں معلوم،آپ کی بیوی اسماء سے تین صاحبزادے تھے.

ان میں صرف عبد اللہ سے نسل چلی۔

حوالہ جاتترميم

  1. عنوان : Джафар ибн Абу Талиб
  2. عنوان : Джафар ибн Абу Талиб
  3. (مسند احمد :1/201 تا 203)
  4. (طبقات ابن سعد ،جلد 4 قسم اول صفحہ 123 مختصراً بخاری ذکر غزوۂ خیبر میں ہے)
  5. (طبقات ابن سعد قسم اول :3/ 32)
  6. (طبقات ابن سعد حصہِ مغازی غزوۂ موتہ)
  7. (اسدالغابہ:1/288)
  8. (طبقات ابن سعد حصہ مغازی،12منہ)
  9. (بخاری باب غزوۂ موتہ)
  10. (بخاری باب غزوۂ موتہ)
  11. (اسد الغابہ:1/ 288)
  12. (مستدرک حاکم :3/209)
  13. (مستدرک حاکم :3/209)
  14. (صحیح بخاری مناقب حضرت جعفر ؓ)
  15. (صحیح بخاری مناقب حضرت جعفر ؓ)
  16. (جامع ترمذی مناقب اہل بیت)
  17. (صحیح بخاری غزوۂ موتہ)

بیرونی روابطترميم