فتح ابن خاقان – ابو محمد الفتح بن احمد بن غرطوج (پیدائش: 817ء – وفات: 11 دسمبر 861ء) خلافت عباسیہ کے دسویں خلیفہ المتوکل علی اللہ کا مصاحبِ خاص، گورنر مصر اور وزیر تھا۔ فتح ابن خاقان خلیفہ المتوکل علی اللہ کے وفاداروں میں شمار کیا جاتا ہے جس نے خلیفہ کے قتل کے وقت خلیفہ کی جان بچاتے ہوئے اپنی جان سے بھی دریغ نہ کیا اور قتل ہوگیا۔ خلافت عباسیہ کا وہ پہلا مصاحبِ خاص یا وزیر تھا جسے کتب پسند (کتابوں کا شوقین شخص) وزیر بھی کہا جاتا ہے۔

فتح ابن خاقان
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 815  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بغداد  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 11 دسمبر 861 (45–46 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سامراء  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات قتل  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
مزاحم ابن خاقان  ویکی ڈیٹا پر (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر،  وزیر،  گورنر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سوانحترميم

پیدائش اور خاندانترميم

فتح ابن خاقان کی پیدائش غالباً 817ء میں ہوئی۔ اُس کا باپ خاقان خلیفہ المعتصم باللہ کا وفادار مصاحب تھا۔ المعتصم باللہ کے زیر سایہ خاقان اور اُس کا خاندان محل میں ہی رہا حتیٰ کہ فتح ابھی سات سال کا تھا کہ اُسے المتوکل علی اللہ نے اپنا متبنیٰ کرلیا تھا۔ بعد ازاں جب المتوکل علی اللہ خلیفہ بن گیا تو فتح کو بلاد الشام اور مصر کی گورنری پر بھی فائز کیا گیا۔

سیاسی حالات اور وفاتترميم

فتح ابن خاقان خلیفہ المتوکل علی اللہ کا منظورِ نظر مصاحبِ خاص تھا۔ اِس زود رنج سبک سر خلیفہ پر خصوصاً اُس کے عہد کے آخری سالوں میں فتح ابن خاقان اور وزیر عبیداللہ ابن یحییٰ کا غیر معمولی اثر تھا۔ یہ دونوں المتوکل علی اللہ کے دوسرے بیٹے المعتز باللہ کے پرجوش حامی تھے اور اِنہوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ خلیفہ کا بڑا بیٹا المنتصر باللہ جانشین نہ بننے پائے۔ المنتصر باللہ کی برسرِ عام توہین کی گئی اور اُس کے متعدد نام رکھے گئے جن میں المُستَعْجِل (قبل از وقت‘ جلدی کرنے والا) اور المُنتَظِر (بے تاب‘ یعنی تخت کے لئے بے تاب)۔ حتیٰ کہ ایک موقع پر المتوکل علی اللہ کے حکم سے فتح ابن خاقان نے المنتصر باللہ سے بدسلوکی بھی کی۔ فتح نے دوسرے ممتاز اور با رسوخ افراد کو بے دخل کیے رکھا تا آنکہ المتوکل علی اللہ نے اپنی عاقبت و نا اندیشی کا سامانِ زوال مہیا کرلیا۔ جب خلیفہ نے فتح کو اصفہان اور خطۂ ماد میں ترک سپہ سالار وصیف ترکی کی جائداد ضبط کرنے کا حکم دیا تو وصیف ترکی کو خلیفہ کے اِس اِرادے کا پتا چل گیا۔ اُس نے المنتصر باللہ اور کئی دوسرے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لیا تاکہ خلیفہ المتوکل علی اللہ سے نجات حاصل کی جاسکے۔ شوال 247ھ مطابق 11 دسمبر 861ء کو خلیفہ المتوکل علی اللہ کو قتل کردیا گیا۔ فتح ابن خاقان اُس وقت وہیں موجود تھا، جس نے مزاحمت کی اور اُسے بھی المنتصر باللہ کے حامیوں نے قتل کردیا۔[1] بعد ازاں یہ مشہور کردیا گیا کہ فتح ابن خاقان نے ہی خلیفہ کو قتل کردیا جس کے نتیجے میں فتح ابن خاقان کو بھی قتل کیا گیا۔ یہ واقعہ شوال 247ھ مطابق 11 دسمبر 861ء کو پیش آیا۔[2]

حوالہ جاتترميم

  1. اردو دائرہ معارف اسلامیہ: جلد 15، صفحہ 159۔
  2. ابن طقطقی: الفخری، صفحہ 277، مطبوعہ لاہور، جون 2007ء