فریکشنل ریزرو بینکنگ

سانچہ:Banking

فریکشنل ریزرو بینکنگ اس حکمت عملی کا نام ہے جس میں بینک لوگوں کی جمع شدہ رقم کا ایک حصہ اپنے پاس رکھتا ہے اور باقی قرض کے طور پر دے کر سود بھی کماتا ہے اور نئی کرنسی تخلیق بھی کرتا ہے۔ یہ تخلیق شدہ نئی کرنسی کھاتہ کرنسی پر مشتمل ہوتی ہے۔

فریکشنل ریزرو بینکنگ کو منی ملٹیپلائر (money multiplier) بھی کہتے ہیں۔

اگرچہ پڑھایا یہی جاتا ہے کہ بینک کم مدت کے قرضے (ڈپازٹ) کے عوض لمبی مدت کے لیے قرضے دیتے ہیں جس کی وجہ سے بینک لیکویڈیٹی (زیر گردش نوٹوں) کی کمی کے خطرات سے دوچار رہتے ہیں۔ لیکن درحقیقت لیکویڈٹی کی کمی فریکشنل ریزرو بینکنگ سے جنم لیتی ہے۔[1] اسی طرح یہ بات بالکل غلط ہے کہ بینک قرض خواہوں سے زیادہ سود لیتے ہیں اور کھاتے داران کو کم سود دے کر منافع کماتے ہیں۔ بینک جب قرض جاری کرتے ہیں تو نئی کرنسی تخلیق ہوتی ہے۔

" banks create new money when they create new credit"[2]

تاریخترميم

مصر میں حضرت یوسف کے زمانے سے اناج ذخیرہ کرنے اور جمع کردہ اناج کی رسیدیں جاری کرنے کا نظام موجود تھا۔[3]
جب سکندر اعظم نے ہندوستان پر حملہ کیا تھا اس وقت ہندوستان میں سونے چاندی کے سکے بھی موجود تھے اور ان کی حفاظت کے لیے بینک بھی تھے۔
دمشق میں 1200ء اور بارسلونا میں 1401ء میں بینک قائم ہوئے۔ اسی دوران وینس میں بھی بینک بنے۔ چونکہ یہ قرضے بھی جاری کرتے تھے (یعنی فریکشنل ریزور بینکنگ کرتے تھے) اس لیے آئے دن بینک فیل ہو جاتے تھے۔ 1361ء میں وینس کی حکومت نے فریکشنل ریزرو بینکنگ کے خلاف قانون بنائے اور آڈٹ سسٹم لازمی قرار دیا۔ 1524ء میں وینس میں بینکوں کی نگرانی کے لیے بورڈ آف ایگزامنر تشکیل دیا گیا اور دو سال بعد یہ قانون بھی بنا کہ بینک ایک دوسرے کے درمیان لین دین کا تصفیہ چیک کی بجائے اصلی سکوں میں کریں۔
ان اقدامات کے باوجود دو بڑے بینک (house of Pisano and Tiepolo) فریکشنل ریزرو بینکنگ کی بنیاد پر قرض جاری کرتے رہے اور جب کھاتے داران کو ادائیگیوں کے قابل نہ رہے تو 1584ء میں بند ہو گئے اور حکومت نے انہیں ضبط کر کے حکومتی بینک Banco della Piazza del Rialto بنایا جو صرف کھاتے داران سے رقم لیتا اور دیتا تھا۔ اس بینک کو قرضے جاری کرنے کی بالکل اجازت نہیں تھی۔ یہ بینک مختلف مد میں فیس لے کر اپنا منافع حاصل کرتا تھا۔ اس بینک نے تیزی سے ترقی کری اور جلد ہی اس کے کاغذی نوٹ بیرون ملک بھی قبول کیے جانے لگے۔ لیکن سیاست دان چونکہ پیسے کے بھوکے ہوتے ہیں اس لیے انہوں نے 1619ء میں Banco del Giro تشکیل دیا جو فریکشنل ریزور بینکنگ کے ذریعے حکومت کو قرضے جاری کرتا تھا۔ چونکہ اس کے جلد دیوالیہ ہو جانے کا خطرہ تھا اس لیے 18 سال بعد Banco della Piazza del Rialto کو اس میں ضم کر دیا گیا۔
پندرھویں اور سولہویں صدی عیسوی میں یورپ میں بےشمار بینک بنے اور فریکشنل ریزرو بینکنگ کی وجہ سے سب آخر کار دیوالیہ ہو گئے۔ لیکن نقصان بینک کے مالکوں کا نہیں ہوا بلکہ کھاتے داران کا پیسہ ڈوبا۔ بینک مالکان نے خوب پیسہ کمایا۔

1609ء میں بینک آف ایمسٹرڈیم بنا جو قرضے جاری نہیں کرتا تھا اور صرف سونے چاندی کی رسیدیں جاری کرتا تھا۔ چونکہ یہ فریکشنل ریزرو بینکنگ نہیں کرتا تھا اس لیے لگ بھگ سو سال بعد بھی لوگوں کا ان کاغذی رسیدوں پر اعتبار قائم تھا۔ لیکن جب اس بینک نے فریکشنل ریزرو بینکنگ شروع کی اور ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کو بھاری قرضے دینے شروع کیے تو اس کے زوال کا آغاز ہوا۔ جنوری 1790ء میں عام لوگوں کو اس بات کا علم ہوا۔ دس مہینوں بعد بینک بند ہو گیا اور شہر کی حکومت نے اسے اپنی تحویل میں لے لیا۔ 1814ء میں Nederlandsche Bank بنا اور 1819ء میں بینک آف ایمسٹرڈیم کو سرکاری طور پر ختم کر دیا گیا۔
جرمنی کا بینک آف ہیمبرگ بھی دو سو سالوں تک بغیر فریکشنل ریزرو بینکنگ کے ایمانداری سے کام کرتا رہا۔ جب 1813ء میں نپولین نے اس پر قبضہ کیا تو سونے چاندی کے سکوں پر مشتمل بینک ریزرو کو حساب کے کھاتوں کے عین مطابق پایا۔[4]

اقتباسترميم

  • اگر ایک بینک کے پاس دس لاکھ ڈالر ہوں تو وہ دوسرے بینک کو ایک کروڑ ڈالر کا قرضہ دے سکتا ہے اور دوسرا بینک اب کسی ملک کو دس کروڑ ڈالر کا قرضہ دے سکتا ہے۔ اس طرح آج دنیا پر 184,000 ارب ڈالر کا قرضہ چڑھ چکا ہے۔
"For example, if bank A has a million dollar, it can lend 10 millions to bank B, which can lend 100 millions to a country, since bank B owns 10 millions. This is basically how the world ended up owing 184 trillion dollars (184 000 000 000 000$) to private banks as of today."[5]
  • فریکشنل ریزو بینکنگ دراصل فراڈ ہے۔ اس جرم پر مقدمہ ہونا چاہیے مگر موجودہ بینکنگ کے قوانین کے تحت یہ تسلیم شدہ معمول ہے۔
Fractional reserve banking (FRB) is fraudulent. It should be prosecuted as a crime rather than accepted as normal practice under current banking laws.[6][7]
  • قرض واجب الادا ذمہ داری (Liability) ہوتی ہے لیکن بینکنگ کے قوانین قرض کو اثاثہ (asset) تصور کرتے ہیں۔ قوانین عوام کے قرضوں کو ایک نگاہ سے دیکھتے ہیں جبکہ بینک اور حکومت کے قرضوں کو دوسری نگاہ سے۔
Bonds have now become "assets" of the Banks in the Reserve System which they then use as "reserves" to "create" more "credit" to lend. [8]
  • بینک کا میکانزم اس طرح کا بنایا گیا ہے کہ یہ عوام کی نجی جائداد ہڑپ کر لے۔
the banks are machines designed to slowly (or sometimes quickly) siphon private property away from the public until private property is a memory.[9]
  • اسٹاک مارکیٹ میں شدید تیزی اور شدید مندی کی بڑی وجہ فریکشنل ریزرو بینکنگ ہے۔
"Note that an important vehicle in setting the boom-bust cycle is the existence of the fractional reserve banking, which through the expansion of money out of thin air sets an economic boom while through the contraction of money out of thin air sets an economic bust."[10]
  • اگر فریکشنل ریزرو بینکنگ نہ ہوتی تو بزنس سائیکل بھی نہ ہوتے۔ کریڈٹ جتنا زیادہ ہوتا ہے اگلا کریش بھی اُتنا بڑا ہوتا ہے۔
Without fractional reserve banking or the ability of banks to loan money into existence, there would be no credit cycle, and the symptoms, a business or trade cycle, would not exist either. There is also a proportionality: the more the expansion of credit, the greater the eventual crash.[11]
  • فریکشنل ریزرو بینکنگ کو قانونی شکل انگلینڈ کے 1844ء کے بینک چارٹر ایکٹ سے ملی جس کی مدد سے بینک جب قرض جاری کرتے ہیں تو دولت تخلیق کرتے ہیں۔
Modern banking has its roots in England’s Bank Charter Act of 1844, which led to the practice of loaning money into existence, commonly described as fractional reserve banking.[12]
  • تاریخ بتاتی ہے کہ بہت زیادہ قرضے ترقی پزیر ممالک میں مالیاتی بحران کا سبب بنتے ہیں جس کی وجہ سے عوام کو شدید نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
"History shows that large debt surges often coincide with financial crises in developing countries, at great cost to the population,"[13]
  • "اب یہ واضح ہے کہ اگر قرضے دینا بند ہو جائیں تو ہم بینکر بھی ختم ہو جائینگے۔ ہمارا نصب العین یہ ہے کہ یہ ملک اور ساری دنیا ہمیشہ اچھے قرض خواہوں سے بھری رہے اور ان قرض خواہوں کی کبھی قرض سے جان نہ چھوٹے۔۔۔۔ قرض دینے کا بنیادی راز یہ ہے کہ قرضہ اس طرح دیا جائے کہ وہ اس وقت تک ادا نہ کیا جا سکے جب تک کہ نیا قرض نہ لیا جائے۔ اور یہ صرف اس وقت ممکن ہے جب تک ہم اپنی مرضی سے قیمتیں گرا اور چڑھا سکتے ہیں۔"
"Now it is obvious that if money-lending comes to an end we [money-lenders] come to an end with it. Our business therefore is to see that this country, and the whole world, is kept full of good borrowers and that these good borrowers are not allowed to become capitalists of independent means, able to finance their own undertakings.... The true secret of money-lending is to lend in such a way that the debt can never be repaid except by contracting a new debt. That can only be accomplished if the price-level remains free to rise or fall as we may determine.[14]
  • Hyperinflation is built into the system by design.[15]
  • جب کوئی شخص مکان یا گاڑی خریدنے کے لیے بینک سے قرض لینے جاتا ہے تو بینک اس سے معمولی بیعانہ (down payment) کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جب وہ شخص بیعانہ بینک میں جمع (deposit) کر دیتا ہے تو اب بینک فریکشنل ریزرو بینکنگ کی مدد سے اسی رقم کو 20 گنا بڑا کر کے مکان یا گاڑی خریدار کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اس عمل میں بینک کی جیب سے ایک پائی بھی کم نہیں ہوتی مگر خریدار سالوں تک قسطیں ادا کرتا رہتا ہے جو بینک کا منافع بن جاتی ہیں۔ [16][17]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم