فضل حق خیر آبادی

ہندوستانی صوفی محقق و مفتی

جنگ آزادی ہند 1857ء علامہ فضل حق شہید (1797ء تا 20 اگست 1861ء) بن مولانا فضل امام خیر آبادی مسلم رہنمائے جنگ علمائے اہل سنت میں سے تھے۔ فضل حق خیر آبادی 1857ء کی جنگ آزادی کے روح رواں تھے۔ وہ ایک فلسفی، ایک شاعر، ایک مذہبی عالم تھے، لیکن ان کے شہرت کی بنیادی وجہ ہندوستان کی جنگ آزادی میں انگریز قبضہ آوروں کے خلاف جہاد کا فتوٰی بنا۔

فضل حق خیر آبادی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1797ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خیرآباد، سیتاپور   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 20 اگست 1861ء (63–64 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جزائر انڈمان   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت برطانوی ہند   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
فرقہ سنی
فقہی مسلک حنفی
والد فضل امام خیرآبادی
عملی زندگی
پیشہ مصنف ،  مفتی   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں جنگ آزادی ہند 1857ء   ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

پیدائش

ترمیم

علامہ فضل حق 1797ء کو خیرآباد کے علاقے میں پیدا ہوئے، اعلیٰ تعلیم حاصل کی ،منطق وفلسفہ کی دنیا میں تصانیف چھوڑ یں۔ بہادر شاہ ظفر کے ساتھ ہندوستان کو انگریزوں سے آزاد کرانے کی جان توڑ محنت کی، عشق و محبت رسول پر کئی کتابیں لکھیں اور قوانین سازی کی۔[1]

سوانح

ترمیم

فضل حق خیر آبادی لکھنؤ میں ایک قاضی القضاۃ تھے۔ انگریزوں کے جاسوس گوری شنکر نے 28 اگست 1857ء کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ: "مولوی فضلِ حق جب سے دہلی آیا ہے،شہریوں اور فوج کو انگریزوں کے خلاف اُکسانے میں مصروف ہے۔ وہ کہتا پھرتا ہے کہ اس نے آگرہ گزٹ میں برطانوی پارلیمنٹ کا ایک اعلان پڑھا ہے جس میں انگریزی فوج کو دہلی کے تمام باشندوں کو قتل کردینے اور پورے شہر کو مسمارکردینے کے لیے کہا گیا ہے۔ آنے والی نسلوں کو یہ بتانے کے لیے کہ یہاں دہلی کا شہر آباد تھا،شاہی مسجد کا صرف ایک مینار باقی چھوڑا جائے گا"۔[2]

فتویٰ جہاد

ترمیم

علامہ فضلِ حق خیرآبادی نے جنگ آزادی میں انگریزوں کے عزائم بھانپ لیے تھے۔ جامع مسجد دہلی میں نماز جمعہ کے بعد علما کے سامنے تقریر کی اور اِستِفتاء پیش کیا۔ جس میں انگریز کے خلاف جہاد کے لیے کہا گیا تھا۔ جہاد کے اس فتوے پر مفتی صدرالدین خان، مولوی عبد القادر، قاضی فیض اللہ، مولانا فیض احمد بدایونی، وزیر خان اکبر آبادی، سید مبارک حسین رامپوری نے دستخط کیے۔ اس فتوے کے جاری ہوتے ہی ہندوستان بھر میں قتال و جدال شروع ہو گیا۔ اُن علما کو اس فتوے کے نتائج و عواقب کا ادراک تھا۔ علامہ فضل حق خیر آبادی رحمۃ اﷲ علیہ کا جہاد کا فتویٰ جاری کرنا تھا کہ ہندوستان بھر میں انگریز کے خلاف ایک بہت بڑی عظیم لہر دوڑگئی اور گلی گلی، قریہ قریہ، کوچہ کوچہ، بستی بستی، شہر شہر وہ قتال وہ جدال ہوا کہ انگریزحکومت کی چولہیں ہل گئیں۔ مگر آپ جانتے ہیں کہ انگریز بڑا مکار اور خبیث ہے اس نے اپنی تدبیر یں لڑا کر بڑے بڑے لوگوں کو خرید کر اور ڈرا دھمکا کر بے شمار لوگوں کو قتل کرنے کے بعد اس نے تحریک کو کُچل دیا۔ آزادی کی تحریک کوکُچل تودیا مگر حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی نے آزادی کا سنگ بنیادرکھ دیا تھا اس کو بظاہر انگریز نے وقتی طور پر کُچل دیا۔ دہلی پر انگریزوں کا قبضہ ہونے کے بعد کسی طرح یہاں سے نکل کرعلامہ فضلِ حق اودھ پہنچے۔ جنوری 1859ء میں آپ کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلا اور کالاپانی کی سزا ہوئی۔ آپ نے اپنا مقدمہ خود لڑا اور عدالت میں کہا کہ: "جہاد کا فتویٰ میرا لکھا ہوا ہے اور میں آج بھی اپنے اس فتویٰ پر قائم ہوں"۔ 1857ء کی جنگ آزادی ناکام ہونے کے بعد ان کو انگریز نے قید کر دیا۔ جب ان کا بیٹا عبد الحق خیر آبادی انھیں آزاد کروانے کے لیےپورٹ بلیئر پر 13 فروری 1861ء کو پہنچا لیکن بہت دیر ہو چکی تھی - فضل حق خیر آبادی کو پہلے ہی 12 فروری کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔[3]

ادبی خدمات

ترمیم

فضل حق خیرآبادی اور ان کے والدِ مولانا فضل امام خیرآبادی (وفات 1244ھ/1829ء) دونوں اپنے عہد کے جید عالم اور مشاہیر میں شمار کیے جاتے تھے اور مرجع العلماء والادباء تھے۔ دونوں کی شخصیت حکمت و دانش کے اعتبار سے یگانۂ روزگار تھی ان حضرات کو معقولات میں جو تبحّر حاصل تھا۔ سر سید احمد خان فضل حق خیرآبادی سے سیاسی و دینی لحاظ سے مختلف الخیال اور جدا جدا عقیدہ رکھتے تھے، بلکہ بعض معاملات مں شدید مخالفت بھی کی، لیکن ملاحظہ فرمائیے کہ سر سید کے ذہن و قلب پر علامہ فضل حق خیرآبادی کی حکمت و دانش کے اثرات کتنے گہرے تھے، سر سید لکھتے ہیں : ’’جمیع علوم و فنون میں یکتائے روزگا رہیں اور منطق و حکمت کی تو گویا انھیں کی فکرِ عالی نے بِنا ڈالی ہے با رہا دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ اپنے آپ کو یگانۂ فن سمجھتے تھے جب ان کی زبان سے ایک حرف سنا، دعوائے کمال کو فراموش کر کے نسبتِ شاگردی کو اپنا فخر سمجھا، بہ ایں کمالات علم و ادب میں ایسا عَلمِ سرفرازی بلند کیا ہے کہ فصاحت کے واسطے ان کی شستۂ محضر عروجِ معارج ہے اور بلاغت کے واسطے ان کی طبعِ رسا دست آویز بلندیِ معارج ہے۔ سحبان کو ان کی فصاحت سے سرمایۂ خوش بیانی اور امرا القیس کو ان کے افکارِ بلند سے دست گاہِ عروج و معانی، الفاظ پاکیزہ ان کے رشکِ گوہرِ خوش آب اور معانی رنگین ان کے غیرتِ لعلِ ناب، سرو ان کی سطورِ عبارت کے آگے پا بہ گِل اور گُل ان کی عبارتِ رنگں ا کے سامنے خجل، نرگس ان کے سواد سے نگاہ ملا دیتی۔ مصحفِ گل کے پڑھنے سے عاجز نہ رہتی۔ اور سوسن اگر ان کی عبارتِ فصیح سے زبان کو آشنا کرتی، صفتِ گویائی سے عاری نہ ہوتی۔‘‘(سر سید: آثارالصنادید، ص 281)[4]

اسلامیات اور الہیات کے سکالر ہونے کے علاوہ، وہ خاص طور پر اردو، عربی اور فارسی ادب کی بھی ایک ادبی شخصیت تھے۔ انھوں نے سب سے پہلے مرزا غالب کی درخواست پر اس کے میں دیوان پر نظر ثانی کی تھی۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. "تاریخِ ولادت"۔ 20 اکتوبر 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 فروری 2017 
  2. "سیرت و خصائص"۔ 20 اکتوبر 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 فروری 2017 
  3. "دینی خدمات"۔ 20 اکتوبر 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 فروری 2017 
  4. تصانیف

بیرونی حوالہ جات

ترمیم