فقیر محمد جہلمی دبیر اہل سنت مالک سراج الاخبار،جہلم۔ اہل سنت کے ممتاز عالم دین، صاحب طرز ادیب، مصنف، مترجم اور مؤرخ تھے۔

فقیر محمد جہلمی
ادیب
پیدائشی نامفقیر محمد
قلمی نامفقیر محمد جہلمی
تخلصجہلمی
ولادت1844ء جہلم
ابتداجہلم، پاکستان
وفات1916ء جہلم (پنجاب)
اصناف ادبشاعری
ذیلی اصنافغزل، نعت
تعداد تصانیف10
تصنیف اولحدائق الحنفیہ
تصنیف آخرالسیف الصارم لمنکر شان الامام الاعظم
معروف تصانیفحدائق الحنفیہ،السیف الصارم لمنکر شان الامام الاعظم
ویب سائٹ/ آفیشل ویب سائٹ

ولادتترميم

فقیر محمد جہلمی ابن حافظ محمد سفارش 1260ھ؍1844ء میں جمعرات کی راتر کو موضع چتن (جہلم کی غربی جانب دومیل کے فاصلے پر واقع ہے) میں پیدا ہوئے۔

تعلیمترميم

قرآن پاک پڑھنے کے بعد میاں قطب الدین موضع ٹاہلیا نوالہ سے تعلیم حاصل کرتے رہے پھر مولانا نور محمد (موضع کھائی کوٹلی ضلع جہلم) تلمیذ مولانا رحم اللہ مہاجر مکی کے پاس جاکر کئی سال تک استفادہ کرتے رہے اور صرف، نحو، فقہ اور دیگر علوم کی کتابیں پڑھیں،بعد ازاں راولپنڈی جاکر مولانا عبد الکریم اورمولانا محمد حسن فیروز والہ سے تعلیم حاصل کی۔1276ھ میں دہلی گئے، پہلے مولوی نذیر حسین دہلوی کے پاس پنجابی کٹرہ میں پہنچے، انہوں نے عذر کیا کہ ہم معقولات نہیں پڑھا سکتے اس لیے مولانامفتی محمدصدر الدین خاں آزردہ، صدر الصدور دہلی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ڈیڑھ سال کے عرصہ میں کتب متداولہ پڑھیں ۔1377ھ میں وطن واپس چلے آئے اور کچھ عرصہ بعد مولانا کرم الٰہی (م1287ھ) کی خدمت میں لاہور پہنچے اور استفادہ کیا ۔

فن خطاطیترميم

فن خطاطی سیکھنے کا شوق پید اہوا چنانچہ با قاعدہ یہ فن حاصل کر کے مطبع آفتاب پنجاب لاہور میں کتابت کا کام کرنے لگے۔ آپ کے اساتذہ میں مرزا امام ویردی، صوفی غلام محی الدین وکیل اور میر احمد حسن کاتب دہلوی شامل ہیں۔

مناظرترميم

1284ھ میں مناظر اسلام مولانا حافظ ولی اللہ لاہوری کا پادری عما د الدین سے امر تسر میں مناظرہ ہوا تو مولانا فقیر محمد ر کو بھی رد مسیحیت کا شوق پیدا ہوا،چنانچہ حافظ صاحب سے استفادہ کر کے اس فن میں مہارت حاصل کی۔ مولانا فقیر محمد نے مسیحیت اور عقائد باطلہ کے رد میں معتد بہ کلام کیا اور تمام عمر علم و ادب اور مذہب کی خدمت میں صرف کردی۔ 11 ؍محرم 1291ھ سے 1301ھ تک اخبار آفتاب پنجاب کے ایڈیٹر رہے۔ 13؍ذی الحجہ 1302ھ سے جہلم میں اپنے لخت جگر محمد سراج الدین کے نام پر مطبع سراج المطابع قائم کیا او ر اخبار سراج الاخبار جاری کیا، اس اخبار نے اپنے دور کے اعتقادی فتنو ں خاص طور پر فتنۂ مرزائیت کی تروید کے لیے بڑا کام کیا ۔

تصنیفاتترميم

مولانا کو تصنیف و تالیف سے خصوصی لگاؤ تھا، انہوں نے اہم کتابیں یادگار چھوڑیں علمی طبقہ میں بہت وقعت کی نظر سے دیکھا گیا، تصانیف کے نام یہ ہیں:۔

  • اردو ترجمہ تصدیق المسیح۔
  • حاشیہ ضیانۃ الانسان عن وسوسۃ الشیطان۔
  • حاشیہ ابحاث ضروری (ہر دو تصانیف مناظر اسلام حافظ ولی اللہ لاہوری)
  • تکلمہ مباحثہ دینی (مناظرہ ما بین مناظر اسلام مولانا حافظ ولی اللہ لاہوری دپادری عماد الدین)
  • زبدۃ الاقاویل ترجیح القرآں علی الاناجیل۔
  • رسالہ آٖفتاب محمدی
  • عمدۃ الابحاث فی وقوع طلاق الثلاث (اس امر میں کہ تین طلاقیں بیک وقت واقع ہو جاتی ہیں، ایک غیر مقلد کے شکوک و شہابت کا جواب۔)
  • حدائق الحنفیہ (حنفی علما کا تذکرہ) وغیرہ وغیرہ، اس کتاب کو سب سے زیادہ شہرت ملی۔
  • السیف الصارم لمنکر شان الامام الاعظم۔
  • صلوةالوتر کصلوةالمغرب (مولوی احمداللہ و مولوی حسام الدین صاحبان ساکن کوٹلہ آئمہ علاقہ تحصیل و ضلع جہلم کے فتوی کے جواب میں تالیف کی جو ایک رکعت وتر یا تین رکعت بیک تشہد کے قائل تھے)

وفاتترميم

مولانا فقیر محمد جہلمی کا وصال 1335ھ؍1916ء میں ہوا [1][2]

حوالہ جاتترميم

  1. "دبیر اہل سنت مولانا فقیر محمد جہلمی رحمۃ اللہ علیہ NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah". 26 نومبر 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 24 جولا‎ئی 2017. 
  2. حدائق الحنفیہ:22