قاسم سوری

پاکستان میں سیاستدان

قاسم خان سوری ایک پاکستانی سیاست دان جو پاکستان قومی اسمبلی کے رکن اور موجودہ نائب اسپیکر قومی اسمبلی پاکستان ہیں۔

قاسم سوری
نائب اسپیکر قومی اسمبلی پاکستان
مدت منصب
15 اگست 2018ء – 16 اپریل 2022ء
مرتضٰی جاوید عباسی
 
پاکستان قومی اسمبلی کے رکن
آغاز منصب
13 اگست 2018ء
معلومات شخصیت
پیدائش 16 جنوری 1969ء (55 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کوئٹہ   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت پاکستان   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت پاکستان تحریک انصاف   ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد 3[1]
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ بلوچستان   ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان ،  کاروباری شخصیت   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان پشتو   ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابتدائی زندگی اور تعلیم

ترمیم

وہ جنوری 1969ء کو کوئٹہ کے خلجی پشتون خاندان میں پیدا ہوئے۔[1] ان کے والد کا طب کا کاروبار تھا جو سنہ 1997ء میں والد کی وفات کے بعد قاسم نے سنبھالا۔[1]

قاسم نے اپنی ابتدائی تعلیم کوئٹہ اسلامیہ اسکول سے حاصل کی اور 1988ء کو فیڈرل گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا۔ انھوں نے سنہ 1990ء میں سیاسیات میں بیچلر کی سند اور 1992ء میں بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹر کی سند، دونوں جامعہ بلوچستان سے حاصل کی۔[1]

سیاسی زندگی

ترمیم

قاسم سنہ 1996ء سے پاکستان تحریک انصاف سے منسلک ہیں لیکن سنہ 2007ء سے فعال رکن بنے۔[2]

وہ پاکستان کے عام انتخابات، 2013ء میں حلقہ این 259 (کوئٹہ) سے قومی اسمبلی پاکستان کی نشست کے لیے پی ٹی آئی کے امیدوار کے طور پر کھڑے ہوئے، لیکن ناکامیاب رہے۔ انھوں نے محمود خان اچکزئی کے مقابلے میں 16,006 ووٹ حاصل کیے اور نشست ہار گئے۔[3]

وہ پاکستان کے عام انتخابات، 2018ء میں حلقہ این 256 (کوئٹہ-2) سے قومی اسمبلی پاکستان کی نشست کے لیے پی ٹی آئی کے امیدوار کے طور پر کھڑے ہوئے اور رکن منتخب ہوئے۔[4] انھوں نے 25,973 ووٹ پائے اور نوابزادہ لشکری رئیسانی کو شکست دی۔[5]

انتخابات میں قاسم کی کامیابی کے بعد، پی ٹی آئی نے ان کو 13 اگست 2018ء کو قومی اسمبلی پاکستان کا ڈپٹی اسپیکر نامزد کیا۔[6] 15 اگست 2018ء کو وہ نائب اسپیکر قومی اسمبلی پاکستان منتخب ہوئے۔ انھوں نے 183 ووٹ حاصل کیے اور اپنے مد مقابل اسد محمود کو شکست دی۔[7]

10 اپریل 2022 کو عمران خان کے خلاف تحریک عد م اعتماد کی تحریک کے رد عمل کے طور پر انھوں نے عین اس وقت استعفی دے دیا جب اگلے وزیر اعظم کے طور پر انتخاب ہونے جا رہا تھا ۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. ^ ا ب پ ت ٹ Muhammad Akbar Notezai (14 اگست 2018)۔ "Qasim Suri: perseverance pays off"۔ DAWN.COM۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 اگست 2018 
  2. "PTI nominates Qasim Khan Suri for NA deputy speaker slot | The Express Tribune"۔ ایکسپریس ٹریبیون۔ 13 اگست 2018۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 اگست 2018 
  3. "2013 election result" (PDF)۔ ECP۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 اگست 2018 
  4. "Imran Khan's PTI on top as election results come in"۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 اگست 2018 
  5. "Election results: Imran Khan's PTI on top"۔ Geo News۔ 09 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 جولائی 2018 
  6. "PTI nominates Balochistan MNA Qasim Suri for deputy speaker post"۔ DAWN.COM۔ 13 اگست 2018۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 اگست 2018 
  7. "PTI's Asad Qaiser sworn in as NA speaker amid opposition ruckus"۔ DAWN.COM۔ 15 August 2018۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 اگست 2018