قومی اسمبلی پاکستان

پاکستان میں قانون ساز اسمبلی

قومی اسمبلی پاکستان کی پارلیمان کا ایوان زیریں ہے۔ جس کی صدارت اسپیکر کرتا ہے جو صدر اور ایوان بالا سینیٹ کے چیئرمین کی عدم موجودگی میں ملک کے صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دیتا ہے۔ عام انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کا سربراہ عموماً وزیر اعظم منتخب ہوتا ہے جو قائد ایوان بھی ہوتا ہے۔

قومی اسمبلی پاکستان
ایوان زیریں پاکستان
15ویں قومی اسمبلی پاکستان
Emblem of national Assembly
قسم
قسم
مدت
5 سال
تاریخ
آغاز اجلاس نو
13 اگست 2018ء (2018ء-08-13)
قیادت
شہباز شریف، مسلم لیگ ن
از 11اپریل 2022
ساخت
نشستیں342
  • اسمبلیاں تحلیل (از صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان )
بتاریخ: 3 اپریل 2022
National Assembly 2018.svg
سیاسی گروہ
حکومت (179)

حزب اختلاف (162)

(132)

انتخابات
پچھلے انتخابات
25 جولائی 2018ء
مقام ملاقات
Pakistani parliament house.jpg
پارلیمنٹ ہاؤس، اسلام آباد
ویب سائٹ
www.na.gov.pk

پاکستان کی قومی اسمبلی کے موجودہ اسپیکر راجہ پرویز اشرف ہیں جبکہ زاہد اکرم درانی ان کے ڈپٹی اسپیکر ہیں۔موجودہ ہونے والے قائد ایوان شہباز شریف ہیں قائد حزب اختلاف راجہ ریاض ہیں جن کا تعلق پاکستان تحریک انصاف (ناراض گروپ) سے ہے۔

آئین پاکستان کے مطابق قومی اسمبلی 342 نشستوں پر مشتمل ہے جس میں سے 272 نشستوں پر اراکین براہ راست انتخاب کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں مذہبی اقلیتوں کے لیے 10 اور خواتین کے لیے 60 نشستیں بھی مخصوص ہیں، جنہیں 5 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرنے والی جماعتوں کے درمیان میں نمائندگی کے تناسب سے تقسیم کیا جاتا ہے۔ قومی اسمبلی میں خواتین کی موجودہ تعداد 72 ہے۔

قومی اسمبلی کے اراکین کثیر الجماعتی انتخابات کے ذریعے عوام کی جانب سے منتخب کیے جاتے ہیں جو پانچ سال میں منعقد ہوتے ہیں۔ آئین کے تحت قومی اسمبلی کی نشست کے لیے مقابلہ کرنے والے امیدواروں کا پاکستانی شہری ہونا 18 سال سے زائد العمر ہونا ضروری ہے۔

آئین پاکستان کی شق 58 کے تحت صدر پاکستان کو اختیار حاصل ہے کہ وہ پانچ سالہ مدت ختم ہونے سے قبل بھی اسمبلی کو تحلیل کر دے تاہم اس کے لیے عدالت عظمیٰ کی منظوری کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسمبلی تحلیل ہونے کی صورت میں نوے (٩٠) دن کے اندر نئے انتخابات کا انعقاد ضروری ہوتا ہے۔

3 اپریل 2022 کو جب وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جا چکی تھی۔ اس تحریک کو وزیرقانون فواد چوہدری، اور ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے مل کر عمران خان کے سازشی احکامات پر عمل کرتے ہوئے غیر آئینی طریقے سے رد کیا اور یوں وزیراعظم نے صدر پاکستان کو قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کا غیر آئینی مشورہ دیا جس پر صدر نے خلاف آئین جا کر عمل کیا مگر عدالت عظمٰی نے از خود کاروائی عمل میں لاتے ہوئے وزیراعظم عمران نیازی، ڈپٹی سپیکر قاسم سوری، وزیر قانون فواد چوہدری اور صدر پاکستان عارف علوی کے آئین کے خلاف سازشی اقدامات کو کالعدم قرار دے کر ملکی نظام کو بچا لیا۔ [1] صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 3 اپریل 2022 کو 15ویں قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی کوشش کی مگر اس خلافِ آئین سازشی عمل کو عدالت عظمٰی نے کالعدم قرار دے دیا اور یوں سازشی عناصر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

وضاحتترميم

مزید دیکھیےترميم

بیرونی روابطترميم

حوالہ جاتترميم

  1. "Imran Khan advised President Alvi to Dissolve Assembly". 3 April 2022.