قاضی محمد سلیمان منصور پوری

قاضی محمد سلیمان سلمان منصورپوری (پیدائش: 1867ء– وفات: 30 مئی 1930ء) سیرت نگار، مؤرخ تھے۔ اُن کی وجہ شہرت اُن کی تصنیف رحمۃ للعالمین ہے۔

پیدائشسلیمان منصورپوری

1284ھ/ 1867ء

منصور پور، ریاست پٹیالہ، برٹش راج، موجودہ ضلع پٹیالہ، پنجاب، بھارت
وفاتجمعہ یکم محرم الحرام 1349ھ/ 30 مئی 1930ء
(عمر: 64 سال قمری، 63 سال شمسی)

جدہ، مملکت حجاز و نجد، موجودہ المکہ علاقہ، سعودی عرب
نسلشامی
مذہباسلام
فقہفقہ اہلحدیث

ولادتترميم

قاضی محمد سلیمان منصور پوری 1867ء کو منصور پور (سابق ریاست پٹیالہ بھارت)میں پیدا ہوئے۔

تعلیم و ملازمتترميم

ابتدائی تعلیم والد قاضی احمد شاہ سے حاصل کی۔ والدریاست پٹیالہ میں نائب تحصیلدار تھے سترہ سال کی عمر میں مہندرا کالج پٹیالہ سے منشی فاضل کے امتحان میں پنجاب یونیورسٹی میں اول آئے۔ اس کے بعد انہوں نے ریاست پٹیالہ میں محکمہ تعلیم ،مال اوردیوانی میں ملازمت اختیار کی۔ اپنی قابلیت و صلاحیت ترقی کرتے ہوئے 1924ء میں سیشن جج مقرر ہو گئے ۔

تصنیفاتترميم

قاضی محمد سلیمان منصور پوری نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ قابلیت ،صلاحیت اور علم کو اسلام کے لیے موثر طریقے سے استعمال کیا۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور رسول ﷺسے انتہائی محبت اور عقیدت کا اظہار اُن کی جملہ تصانیف سے بخوبی ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد کتابیں تصنیف کیں جن میں کتب سیرت کے نام درجِ ذیل ہیں۔

مصروفیات زندگیترميم

قاضی محمد سلیمان منصور پوری بحیثیت جج انتہائی مصروف ہونے کے باوجود نہ صرف یہ کہ علمی اور تصنیفی کام کرتے تھے بلکہ روزانہ درسِ قرآن بھی دیتے تھے۔ متعدد عیسائیوں اور پادریوں سے مناظرے بھی کیے۔ آپ کی کوشش سے غازی محمود دهرمپال دوبارہ مسلمان ہوا۔ جب اس کی بیوی گیان دیوی جو برہمن آریہ تھی سے ان کی شادی کو ناجائز کہا گیا تب قاضی محمد سلیمان منصور پوری نے دھرم پال کی رہنمائی کی، حمایت کے لئے آگے آئے۔ تسلی بخش جواب و پیار ملنے پر دھرم پال ان کے ہاتھ پر دوبارہ مسلمان ہوگیا[1]۔ دروس و تبلیغ کے خاطر دوردراز کے سفر بھی کرتے تھے۔ وہ عربی میں مہارت رکھتے تھے اور قرآن پاک کے تفسیری نکات بھی بیان کرتے تھے۔ انہوں نے دو مرتبہ حج کیا۔

وفاتترميم

قاضی سلیمان منصورپوری کا انتقال دوسرے حج سے واپسی پر جدہ کی بندرگاہ سے کچھ فاصلے پر بحری جہاز میں بروز جمعہ یکم محرم الحرام 1349ھ/ 30 مئی 1930ء کو صبح گیارہ بجے ہوا۔[2][3] اُس وقت عمر قمری حساب سے 64 سال اور بااعتبارِ شمسی 63 سال تھی۔

حوالہ جاتترميم

  1. "قاضی محمد سلیمان منصور پوری"تالیفِ:محمد اسحاق بھٹی۔سولھواں باب: قاضی صاحب اور غازی محمود دھرم پال https://mail.kitabosunnat.com/kutub-library/qazi-muhammad-suleman-mansor-puri
  2. محمد اسحاق بھٹی:  قاضی سلیمان منصورپوری، ص 396۔ مطبوعہ لاہور 2007ء
  3. اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلد 19صفحہ 436 دانشگاہ پنجاب لاہور