مرکزی مینیو کھولیں

جدہ

مغربی سعودی عرب کا اہم تجارتی اور ثقافتی شہر

دیگر استعمالات کے لیے، دیکھیے جدہ (ضد ابہام)۔

جدہ (انگریزی: Jeddah/Jiddah/Jedda؛ عربی: جدة‎؛ انگریزی تلفظ: /ˈɛdə/؛ حجازی تلفظ: [ˈd͡ʒɪd.da]) تاریخی خطہ حجاز کے تاریخی علاقہ تہامہ میں بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ایک شہر ہے جو مغربی سعودی عرب کا اہم تجارتی اور ثقافتی مرکز ہے۔ نیز یہ المکہ علاقہ کا سب سے بڑا شہر [3] اور بحیرہ احمر کی سب سے بڑی بندرگاہ بھی ہے۔ تقریباً چار ملین (2017ء کے مطابق) کی آبادی والا یہ شہر دار الحکومت ریاض کے بعد سعودی عرب کا دوسرا سب سے بڑا شہر اور سعودی عرب کا اقتصادی دار الحکومت ہے۔[4]

جدہ
Jeddah

جدة
شہر
رات کا نظارہ
رات کا نظارہ
عرفیت: جل پری، بحیرہ احمر کی دلہن
نعرہ: جدہ مختلف ہے (عربی: جدہ غیر)
جدہ Jeddah is located in سعودی عرب
جدہ Jeddah
جدہ
Jeddah
سعودی عرب میں جدہ کا محل وقوع
متناسقات: 21°32′36″N 39°10′22″E / 21.54333°N 39.17278°E / 21.54333; 39.17278متناسقات: 21°32′36″N 39°10′22″E / 21.54333°N 39.17278°E / 21.54333; 39.17278
ملک سعودی عرب
علاقہ المکہ علاقہ
قیام چھٹی صدی ق م
حکومت
 • شہر میئر صالح الترکی[1]
 • شہر گورنر مشعل بن ماجد
 • صوبائی گورنر خالد الفیصل
رقبہ
 • شہر 1,600 کلو میٹر2 (600 مربع میل)
 • شہری 1,686 کلو میٹر2 (651 مربع میل)
 • میٹرو 47 کلو میٹر2 (18 مربع میل)
بلندی 12 میل (39 فٹ)
آبادی (2014)[2]
 • شہر 3,976,000
 • کثافت 2,500/کلو میٹر2 (6,400/مربع میل)
منطقۂ وقت متناسق عالمی وقت+03:00 (UTC+3)
 • گرما (گرمائی وقت) متناسق عالمی وقت+03:00 (UTC)
ڈاک رمز 5 عددی رمز 21 سے شروع (مثلاً 21577)
ٹیلی فون کوڈ +966-12
ویب سائٹ www.jeddah.gov.sa/english/index.php
یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ
باضابطہ نام تاریخی جدہ اور باب مکہ
معیار ثقافتی: ii, iv, vi
حوالہ 1361
کندہ کاری 2014 (38 اجلاس)
علاقہ 17.92 ha
بفر زون 113.58 ha

علاوہ ازیں شہر جدہ حرمین شریفین (اسلام کے مقدس ترین مقامات مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام اور مدینہ منورہ کی مسجد نبوی) کے لیے اہم گزرگاہ ہے۔ گو کہ مدینہ منورہ میں بھی ہوائی اڈا موجود ہے جس کے ذریعہ کچھ حجاج اور زائرین براہ راست وہاں پہنچ جاتے ہیں تاہم اس سلسلہ میں جدہ کے ہوائی اڈے کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس سے قبل بہت سے زائرین بحری جہازوں کے ذریعہ جدہ اسلامی بندرگاہ سے بھی آتے تھے تاہم اب زیادہ تر ہوائی سفر ہی کرتے ہیں۔

اقتصادی طور پر جدہ سعودی عرب اور مشرق وسطی میں قائدانہ کردار حاصل کرنے کے لیے سائنس اور انجینئری میں مزید ترقی پزیر سرمایہ کاری پر اپنی توجہ مرکوز کر رہا ہے۔[5] 2009ء میں اختراع کے لحاظ سے جدہ "افریقا-مشرق وسطی" خطہ میں "اختراع شہر اشاریہ" فہرست میں آزادانہ طور پر چوتھے نمبر پر تھا۔[6]

جدہ کو سعودی عرب کے تفریحی شہروں میں بنیادی اہمیت حاصل ہے اور عالمگیریت اور عالمی شہر تحقیق نیٹ ورک نے اسے بیٹا عالمی شہر قرار دیا ہے۔ بحیرہ احمر سے قریب ہونے کی وجہ سے ملک کے دوسرے حصوں کے برعکس ماہی گیری اور سمندری غذا یہاں کی ثقافت پر غالب ہے۔ شہر کا شعار (عربی: جدة غیر) ہے جس کے معنی "جدہ مختلف ہے" کے ہیں۔ شعار وسیع پیمانے پر دونوں مقامی اور غیر ملکی زائرین کے درمیان استعمال کیا جاتا ہے۔ شہر پہلے سعودی عرب کا "سب سے زیادہ کھلا" شہر سمجھا جاتا تھا کیونکہ دیگر شہروں کی بنسبت یہاں اسلامی اقدار پر عمل میں قدرے رعایت تھی۔

فہرست

اشتقاقیات اور ہجےترميم

جدہ شہر تقریباً 3000 سال پرانا ہے۔ روایات کے مطابق جدة بن جرم بن ربان بن حلوان بن عمران بن الحاف بن قضاعہ جو اسلام سے قبل عرب میں پیدا ہوئے تھے اور ان کے خاندان والوں نے شہر کا نام ان کے نام پر رکھ دیا۔ 647ء میں خلیفہ راشد عثمان بن عفان نے جدہ کو مکہ میں آنے والے حجاج کے لیے بندرگاہ کے طور پر تبدیل کرنے کا حکم دیا۔ عربی زبان میں اعراب کے مختلف استعمال سے لفظ کے معنی یکسر تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اشتقاقیات اور اعراب کے مختلف استعمال کے لحاظ سے کئی قابل ذکر نظریات موجود ہیں:

  • کہا جاتا ہے کہ شہر کا اصل نام جُدَّة ہے جس کے عربی میں معنی ساحل کے ہیں۔ [7]
  • دوسرا نظریہ یہ ہے کہ شہر کا نام جَدَّة ہے جس کے معنی "دادی" کے ہیں۔ شہر میں ایک قدیم قبرستان ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں آدم علیہ السلام کی بیوی حوا دفن ہیں۔ روایات کے مطابق آدم اور حوا کی زمین پر ملاقات عرفات کے میدان میں ہوئی اور حوا کی وفات کے بعد ان کو جدہ میں دفن کیا۔ [8]
  • جِدّة وہ تلفظ ہے جو مقامی لوگ استعمال کرتے ہیں۔ [9]

مشہور بربر سیاح ابن بطوطہ نے اندازہً 1330ء جدہ کو سفر کیا اور اسے جِدّة کے نام سے درج کیا۔ [10]

محکمہ خارجہ ودولت مشترکہ برطانیہ اور دیگر برطانوی حکومت کی دیگر شاخیں اس کا نام انگریزی میں ("Jedda") تحریر کرتی رہی ہیں۔ تاہم 2007ء اس کے ہجے تبدیل کر کے ("Jeddah") استعمال کیا جا رہا ہے۔ [11]

تھامس لارنس نے محسوس کیا کہ انگریزی میں عربی ناموں کی نقل حرفی استبدادی ہے۔ اس نے اپنی تحریروں میں نام کے لیے تین مختلف ہجے استعمال کیے۔ [12]

تاریخترميم

 
جدہ 1800ء کی دہائی میں
 
جدہ 1938ء میں

قبل اسلامترميم

آثاریاتی تحقیقات سے بتا چلتا ہے کہ شہر سنگی دور سے آباد رہا ہے۔ شہر کے مشرق میں واقع "وادی بریمان" اور شمال مشرق میں واقع "وادی بویب" سے ثمود کی تحریریں اور نوادرات ملے ہیں۔

کچھ مؤرخین کے مطابق یمن کا قبیلہ بنی قضاعہ 115 قبل مسیح میں سد مارب کی تباہی کے بعد یہاں آ کر آباد ہوا۔ بعض لوگوں کے خیال میں بنی قضاعہ کی آمد سے قبل بھی یہاں ماہی گیر آباد تھے جو اسے سمندر میں با آسانی داخل ہونے اور پرسکون جگہ تصور کرتے تھے۔ قدیم شہر کی کہدائی سے بھی بنی قضاعہ کے دور کے ماہی گیر قصبے ہونے کی علامات ملی ہیں۔ [13] کچھ مؤرخین کے مطابق 323 اور 356 ق م میں سکندر اعظم کی جدہ میں آمد سے قبل یہ شہر آباد تھا۔ [14] جدہ انباط دور میں بھی ایک اہم بندرگاہ کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ جدہ میں قبل اسلامی دور کے مشربیہ بھی ملے ہیں۔

مصری مورخ محمد لبیب البتنونی نے اپنی کتاب حجاز کا سفر (عربی: الرحلة الحجازية) میں لکھا ہے کہ "ہو سکتا ہے کہ قبل اسلام اس جگہ حوا کے حوالے سے کوئی ہیکل موجود رہا ہو جیسا کہ سواع بن شيث بن آدم کا تھا۔" [15] کچھ روایات کے مطابق عمرو بن لحی جو جنوں کا پیروکار تھا اور جس نے جزیرہ عرب میں ابراہیمی مذاہب سے ہٹ کر بت پرستی متعارف کروائی، جدہ گیا اور وہاں سے پانچ بت لایا جن کی پوجا نوح علیہ اسلام کی قوم کرتی تھی۔ اسی سے بت پرستی پورے عرب میں پھیل گئی۔ [16]ابن الکلبی ماہر انساب اور مؤرخ عرب کے مطابق جدہ کے ساحل پر بنی کنانہ کے بت موجود تھے۔ [17]

عرب مؤرخین کے مطابق اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ام البشر حوا اس جگہ پر اتری ہوں۔ سکندر اعظم 356 ق م~323 ق م میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے آباو اجداد میں سے ایک نضر بن کنانہ کے دور میں مکہ آیا اور اس کے بعد وہ جدہ گیا جہاں سے وہ بحری راستے شمالی افریقا کی طرف روانہ ہوا۔ [18]

خلافت راشدہترميم

جدہ کو امتیازی حیثیت تب حاصل ہوئی جب 647ء میں خلیفہ عثمان بن عفان نے اسے مکہ حج اور زیارت کی بیت سے آنے والے زائرین کے لیے ایک بندرگاہ بنانے کا حکم دیا۔ اس سے قبل جدہ کے جنوب مغرب میں شعیبہ بندرگاہ اس مقصد کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ [19]703ء میں ایک قلیل مدت کے لیے جدہ پر مملکت اکسوم کے قزاقوں کا قبضہ ہو گیا۔ [20] جدہ اس دور سے موجودہ دور تک حجاج کے لیے اہم ترین بندرگاہ رہا ہے، گو کہ موجودہ دور میں زیادہ تر حجاج بحری کی بجائے ہوائی راستہ اختیار کرتے ہیں تاہم اب بھی سفر حج یا عمرہ کے لیے ان کی ابتدائی منزل جدہ ہی ہوتی ہے۔

خلافت امویہترميم

 
معاویہ بن ابو سفیان کے دور کا سکہ

خلافت راشدہ کے بعد خلافت امویہ کا دور آیا جو حجاز سمیت جدہ کے 661ء سے 750ء تک حکمران تھے۔ اس تاریخی دور میں جدہ میں اہم واقعات کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ تاہم جدہ کی اہمیت شہری بندرگاہ، ماہی گیری اور سمندری سفر خاص طور پر حج کے لیے برقرار رہی۔ مورخین کا یہ خیال ہے کہ اعزازی شریف مکہ سب سے پہلے اسی دور میں تعینات کیا گیا تھا۔

خلافت عباسیہترميم

 
ابو جعفر المنصور کے دور کا سکہ

750ء میں عباسی انقلاب کے بعد خلافت عباسیہ کا دور آیا جنہوں نے خلافت امویہ کے تقریباً تمام علاقے پر قبضہ کر لیا ما سوائے بورغواطہ اور اندلس جو نسبتاً دور واقع تھے۔ خلافت عباسیہ بغداد میں اپنے دار الخلافہ کے تحت 1258ء تک حکومت کرتی رہی تاہم حجاز ان کے تحت صرف 876ء تک رہا جب مصر کے طولون حکمرانوں نے مصر، سوریہ، اردن اور حجاز پر قبضہ کر لیا۔

طولون اور اخشید اماراتترميم

 
احمد بن طولون کے دور کا دینار

876ء میں حجاز طولونوں کے زیر نگیں آنے کے بعد خلافت عباسیہ اور طولونوں میں علاقے پر قبضے کے لیے تقریباً 30 سال تک رسہ کشی چلتی رہی اور آخرکار 900ء میں طولون جزیرہ نما عرب سے دست بردار ہو گئے۔

930ء میں حجازی شہر مدینہ منورہ، مکہ اور طائف قرامطہ کے قبضے میں آ گئے تاہم اس کو کوئی تاریخی سند نہیں کہ انہوں نے جدہ پر بھی حملہ کیا ہو۔

ابتدائی 935ء میں مصر کی نئی طاقت اخشید نے حجاز پر قبضہ کر لیا۔ اخشیدی دور میں تاریخ میں حجاز کے بارے میں کوئی تفصیلات موجود نہیں۔ جدہ اس دور میں بھی بغیر فصیل شہر تھا۔

خلافت فاطمیہترميم

 
مستنصرباللہ کے دور کا سکہ

شمالی افریقا میں قائم ہونے والی دولت فاطمیہ نے اخشیدوں سے مصر بشمول حجاز اور جدہ حاصل کر لیا۔ فاطمیوں نے بحیرہ روم اور بحر ہند میں براستہ بحیرہ احمر ایک وسیع تجارتی نیٹ ورک تیار کیا۔ جس کی وجہ سے جدہ نے اس دور میں خاصی ترقی کی۔ تجارتی اور سفارتی تعلقات کو چین اور اس کے سونگ خاندان تک بڑھایا، جس نے بالآخر تہامہ اقتصادی راہداری کو جنم دیا۔

ناصر خسرو فارسی کے مشہور شاعر، فلسفی، اسماعیلی دانشور اور سیاح نے 1050ء میں شہر کا دورہ کیا اور کہا شہر میں بہت سی اچھی چیزیں اور تجارت سے شہر خوشحال ہے۔ اس کی آبادی 5000 نفوس پر مشتمل ہے۔ [21].

ایوبی سلطنتترميم

 
صلاح الدین ایوبی کے دور کا درہم

صلاح الدین ایوبی نے 1171ء میں یروشلم کی فتح کے بعد خود کو مصر کا سلطان ہونے کا اعلان کر دیا۔ دولت فاطمیہ کے آخری فرمانروا العاضد کے دولت فاطمیہ تحلیل ہو گئی اور یوں ایوبی سلطنت قائم ہوئی۔ 1177ء میں حجاز بشمول جدہ ایوبی سلطنت میں شامل ہو گئے اور ابو الہاشم الطالب حجاز کا شریف بنا۔ نسبتاً ایک مختصر دور میں ایوبیوں نے خطے میں اقتصادی خوشحالی پر بہت کام کیا۔ ایوبیوں کی طرف سے فراہم کردہ سہولیات اور سرپرستی ک وجہ سے علاقے میں اسلامی دانشورانہ سرگرمیوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ علاقے میں متعدد نئے مدارس قائم کیے گئے۔ اقتصادی خوشحالی کی وجہ سے جدہ نے سندھ، جنوب مشرقی ایشیا، مشرقی افریقا اور دیگر دور دراز علاقوں سے مسلم ملاحوں اور تاجروں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔

مملوک سلطنتترميم

1254ء میں قاہرہ سیاسی انتشار اور ایوبی سلطنت کے زوال کے بعد مملوک سلطنت کا قیام ہوا۔ اسی دور میں پرتگیزی جویا واسکو ڈے گاما نے راس امید کے گرد سے راستہ تلاش کر لیا اور 1497ء میں زنجبار کے ساحل سے حاصل کردہ ملاحوں کی مدد سے بحر ہند کے ساحلوں ساموتیری اور کالیکٹ تک جا پہنچا۔ اس نے بحیرہ احمر میں حج کی غرض سے جانے والے مسلم بحری بیڑوں پر بھی حملے شروع کر دیے اور ارد گرد کے علاقوں میں اپنا رعب قائم کیا۔ گجرات اور یمن نے مصر سے مدد مانگی۔ سلطان الاشرف قانصوہ غوری نے 50 جہازوں کے ایک بیڑے کو روانہ کیا جس کا امیر البحر حسین الکردی تھا۔ جدہ کے گرد پرتگیزی حملوں سے بچاو کے لیے ایک فصیل سے قلعہ بندی کی گئی جس سے جزیرہ نما عرب اور بحیرہ احمر کو محفوظ بنایا گیا۔ اس دیوار کے کچھ حصے اب بھی قدیم شہر میں موجود ہیں۔ گو کہ پرتگیزی حملوں سے شہر کو محفوظ کر دیا گیا تھا تاہم اب بھی بحر ہند میں بیڑے ان کے رہم و کرم پر تھے۔ اسی سلسلے میں 1509ء میں معرکہ دیو جو پرتگیزی سلطنت بمقابلہ سلطنت گجرات، برجی مملوک اور ساموتیری جن کو جمہوریہ وینس کی حمایت بھی حاصل تھی کے مابین ہوا۔ [22] پرتگیزی فوجیوں کا قبرستان آج بھی قدیم شہر میں موجود ہے جسے مقامی لوگ نصاری قبرستان (عربی: مقبرة النصارى) کہتے ہیں۔ [23]

جغرافیہ نگار اور سیاحابن جبیر اور سیاح اور مورخ ابن بطوطہ نے شہر میں فارسی طرز تعمیر کی عمارتوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ شمس الدین المقدسی نے اپنی کتاب احسن التقاسیم فی معرفة الاقالیم میں جدہ کے بارے میں کہا ہے کہ وہ بڑی آبادی والا شہر ہے جہاں کے لوگ تجارت پیشہ ہیں جس ایک قریب مکہ، مصر اور یمن موجود ہیں۔ وہاں ایک خفیہ مسجد بھی موجود ہے۔ وہ شاندار عمارتیں ہیں جبکہ گلیاں تنگ ہیں۔

سلطنت عثمانیہترميم

 
عثمانی امیر البحر سلمان رئیس نے 1517ء میں پرتگیزی حملے کے خلاف شہر کا کامیابی سے دفاع کیا

1517ء میں سلیم اول کے دور میں سلطنت عثمانیہ نے مملوک سلطنت کے علاقے مصر اور شام پر قبضہ کر لیا۔ [24]مملوک سلطنت کے زوال سے دیگر علاقے جن میں حجاز اور اس کے شہر جن میں مکہ، مدینہ اور جدہ شامل میں سلطنت عثمانیہ کا حصہ بنے۔ 1525ء میں عثمانیوں نے پرتگیزی ہند کے گورنر لوپو سواریس دے البرگاریا بحیرہ احمر میں شکست دینے کے بعد جدہ کی دیواروں کو مضبوط کیا۔ ترکوں نے چھ دیدبان اور فصیل میں چھ نئے دروازے بھی بنائے۔ یہ خاص طور پر پرتگیزی حملے کے خلاف دفاع کے لیے تعمیر کیے گئے تھے۔ ان چھ دروازوں میں باب مکہ مشرقی طرف، باب المغرب مغربی سمت میں بندرگاہ کی طرف بنایا گیا۔ باب شریف جنوب کی سمت میں تھا۔ دیگر دروازوں میں باب البنط، باب الشام (جسے باب الشرف بھی کہا جاتا ہے) اور باب مدینہ جو شمال کی سمت میں تھا۔ [25] ترکوں نے قشلہ جدہ ایک چھوٹا قلع بھی تعمیر کیا۔ یہ قدیم شہر میں واقع ہے جسے مقامی نوجوانوں کو فوج میں بھرتی کرنے کے بنایا گیا تھا۔ انیسویں صدی میں یہ دیدبان اور دروازے کم ہو کر چار ہو گئے۔

احمد پاشا الجزار ایک عثمانی فوجی افسر جنہیں محاصرہ عکہ کے لیے جانا جاتا ہے اپنے کیریئر کا ابتدائی حصہ جدہ میں گزرا۔ 1750ء میں انہوں نے اپنے کماڈر عبد اللہ بیگ کے قتل کی پاداش میں ستر فسادیوں کو قتل کروایا جس کی وجہ سے انہیں الجزار (قصائی) کہا جانے لگا۔

15 جون 1858ء کو شہر میں فسادات پھوٹ پڑے۔ خیال کیا جاتا ہے اس کی وجہ بحیرہ احمر میں برطانوی پالیسی کا رد عمل تھا جسے ایک ایک سابقہ پولیس سربراہ نے اٹھایا اور لوگوں کو فساد پر اکسایا۔ قتل عام کے نتیجے میں 25 مسیحی، جن می برطانوی اور فرانسیسی قونسل، ان کے خاندان کو لوگ اور ایک امیر یونانی تاجر شامل تھا ہلاک ہوئے۔ [26] اس کے رد عمل میں برطانوی فریگیٹ "ایچ ایم ایس سائکلوپس" بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا اور دو دن تک شہر پر بمباری کرتا رہا۔ [27]

پہلی سعودی ریاست اور عثمانی-سعودی جنگترميم

1802ء نجد میں قائم امارت درعیہ نے عثمانوں سے مکہ اور جدہ حاصل کر لیے۔ جس غالب بن مساعد شریف مکہ نے اس کی اطلاع عثمانی سلطان محمود ثانی کو دی تو سلطان نے مصر کے والی محمد علی پاشا کو دوبارہ شہر پر قبصہ کرنے کا حکم دیا۔ محمد علی پاشا نے 1813ء میں معرکہ جدہ کے بعد شہر پر پھر قبضہ کر لیا۔ موجودہ شریف مکہ کو قیدی بنا کر قسطنطنیہ روانہ کر دیا گیا۔ اس کے کچھ دن بعد مکہ پر بھی دوبارہ قبضہ کر لیا گیا اور سلطان محمود ثانی نے غالب آفندی کو دوبارہ شریف حجاز بنا دیا۔

پہلی جنگ عظیم اور مملکت ہاشمیہترميم

 
محمد ابو زنادہ جدہ کا حاکم اور شریف مکہ جو علی بن حسین حجازی کا مشیر تھا جب وہ جدہ سے عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعود کے حق میں دست بردار ہوا۔

پہلی جنگ عظیم کے دوران شریف مکہ حسین ابن علی نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کر دی جس کا مقصد ترکوں سے آزادی اور ایک متحد عرب ریاست کی تشلیل جو سوریہ میں حلب اور یمن میں عدن تک پھیلی ہو۔

شاہ حسین نے مملکت حجاز کا اعلان کیا جس کے بعد وہ نجد کے سلطان عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعود سے نبرد آزما ہوا۔ سقوط مکہ کے بعد شاہ حسین تخت سے سبکدوش ہو گیا اور اس کا بیٹا علی بن حسین حجازی نیا بادشاہ بنا۔

مملکت سعودی عربترميم

 
عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعود 1925ء میں جدہ میں داخل ہونے پر عبد اللہ علی رضا کے ہمراہ

اس کے کچھ ماہ بعد ہی نجد سے اٹھنے والے عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعود نے مدینہ منورہ اور جدہ پر معرکہ جدہ کے بعد جدہ والوں سے ایک معاہدے کے تحت قبضہ کر لیا۔ علی بن حسین حجازی کو معزول کر دیا گیا جو بغداد چلا گیا اور آخر کار عمان، اردن میں جا بسا جہاں اس کی اولاد نے مملکت ہاشمیہ قائم کی۔

دسمبر 1925ء میں جدہ پر قبضہ کرنے کے بعد 1926ء میں عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعود "سلطان نجد" کی بجائے اپنے بادشاہ (ملک) ہونے کا اعلان کر دیا۔ اس دن جدہ ایک نئے صوبے مکہ کا حصہ بنا جس کا صدر مقام مکہ تھا یوں جدہ نے جزیرہ نما عرب کی سیاست میں اپنا تاریخی کردار کھو دیا۔

1928ء سے 1932ء جدہ میں شاہ عبد العزیز کے لیے نئے خزام محل کی تعمیر کی گئی۔ یہ محل قدیم شہر کے جنوب میں واقع ہے اور اس کی تعمیر کی نگرانی انجینئر محمد بن عوض بن لادن نے کی۔ 1963ء کے بعد اس محل کو شاہی مہمان خانہ کے طور پر استعمال کیا گیا۔ 1995ء سے اسے مقامی عجائب گھر آثاریات اور نسل نگاری کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ [28]

شہر کی باقی ماندہ دیواریں اور دروازے 1947ء میں منہدم کر دیے گئے۔ 1982ء میں لگنے والی ایک آگ نے شہر کے مرکز میں کئی قدیم عمارتوں کو نقصان پہنچایا، تاہم قدیم گھروں (بیت تصیف، بیت غالب) کو گرا کر جدید بلند عمارتوں کی تعمیر کی تجارتی دلچسپی کے باوجود اب بھی زیادہ تر عمارتیں اپنی اصل حالت میں سلامت ہیں۔ 1979ء میں قدیم جدہ کے ہر گھر کا سروے کیا گیا جس سے پتا چلتا ہے کہ یہاں اب بھی 1000 سے زیادہ روایتی عمارات موجود تھیں۔ تاہم تاریخی قدر کے لحاظسے عظیم ڈھانچوں کی تعداد بہت کم تھی. 1990ء میں جدہ تاریخی علاقائی تحفظ کا محکمہ قائم کیا گیا۔ [29][30]

جدید شہر نے اپنی پرانی سرحدوں سے باہر کئی گنا زیادہ پھیل چکا ہے۔ ابتدا میں ترقی کا رجحان مکہ روڈ کی طرف تھا کیونکہ اسی سمت میں خزام محل بھی تعمیر کیا گیا تھا۔ تاہم بعد میں یہ رجحان مدینہ روڈ اور شمال میں ساحل کے ساتھ کی طرف منتقل ہو چکا ہے۔ اب شہر ابحر کھاڑی جو شہر سے 27 کلومیٹر (17 میل) کے فاصلے پر واقع سے سے بھی آگے بڑھ چکا ہے۔

جغرافیہترميم

 
خلائی سیارے سے جدہ کی تصویر

جدہ سعودی عرب میں بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے جسے تہامہ کہتے ہیں میں واقع ہے۔ جدہ حجازی تہامہ خطہ میں واقع ہے جو سلسلہ کوہ حجاز کا زیریں علاقہ ہے۔ تاریخی، سیاسی اور ثقافتی طور پر جدہ ولایت حجاز اور مملکت حجاز اور دیگر علاقائی سیاسی اکائیوں کا ایک بڑا اور اہم شہر تھا۔ زمین رقبے کے لحاظ سے یہ دنیا کا سواں سب سے بڑا شہر ہے۔

آب و ہواترميم

کوپن موسمی زمرہ بندی کے مطابق جدہ استوائی درجہ حرارت رینج میں واقع ہے اور اس کی آب و ہوا خشک ہے۔ سعودی عرب کے دیگر شہروں کے برعکس جدہ موسم سرما میں گرم درجہ حرارت برقرار رکھتا ہے۔ جو علی الصبح 15 °س (59 °ف) سے دوپہر میں 28 ° س (82 ° ف) کے درمیان ہوتا ہے۔ موسم گرما کا درجہ انتہائی گرم ہوتا ہے جو دوپہر میں 43 °س (109 °ف) تک اور شام کو 30 ° س (86 ° ف) تک گر جاتا ہے۔ گرمیاں بہت بھاپ والی ہوتی ہیں، نقطہ شبنم خاص طور پر ستمبر میں 27 ° س (80 ° ف) سے زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ جدہ میں بارش بہت کم ہوتی ہے اور یہ عام طور پر نومبر اور دسمبر میں کم مقدار میں ہوتی ہے۔ طوفان برق و باد موسم سرما میں ہوتے ہیں۔ 2008ء کا طوفان برق و باد حالیہ تاریخ میں سب سے زیادہ تھا جس تقریباً 80 ملی میٹر (3 انچ) بارش ہوئی۔ 10 فروری، 1993ء کو جدہ سب سے کم درجہ حرارت 9.8 ° س (49.6 ° ف) ریکارڈ کیا گیا تھا۔ [31]22 جون، 2010ء کو جدہ میں سب سے زیادہ درجہ حرارت 52.0 ° س (125.6 ° ف) ریکارڈ کیا گیا تھا۔ [31]

طوفان گرد موسم گرما میں اور بعض اوقات موسم سرما میں بھی آتے ہیں۔ یہ طوفان گرد جزیرہ نما عرب کے ریگستانوں یا شمالی افریقا سے آتے ہیں۔

آب ہوا معلومات برائے جدہ (1985ء–2010ء)
مہینا جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر سال
بلند ترین °س (°ف) 35.0
(95)
36.0
(96.8)
40.2
(104.4)
44.5
(112.1)
48.2
(118.8)
52.0
(125.6)
47.0
(116.6)
46.0
(114.8)
48.0
(118.4)
46.4
(115.5)
40.0
(104)
37.0
(98.6)
52.0
(125.6)
اوسط بلند °س (°ف) 29.0
(84.2)
29.5
(85.1)
31.8
(89.2)
34.9
(94.8)
37.2
(99)
38.3
(100.9)
39.4
(102.9)
38.8
(101.8)
37.6
(99.7)
36.7
(98.1)
33.5
(92.3)
30.7
(87.3)
34.8
(94.6)
یومیہ اوسط °س (°ف) 24.5
(76.1)
24.8
(76.6)
26.1
(79)
28.5
(83.3)
30.2
(86.4)
31.2
(88.2)
32.7
(90.9)
32.7
(90.9)
31.5
(88.7)
29.8
(85.6)
27.4
(81.3)
25.9
(78.6)
28.8
(83.8)
اوسط کم °س (°ف) 20.3
(68.5)
20.1
(68.2)
21.4
(70.5)
22.1
(71.8)
24.0
(75.2)
24.8
(76.6)
26.6
(79.9)
27.6
(81.7)
26.4
(79.5)
24.1
(75.4)
22.3
(72.1)
21.0
(69.8)
23.4
(74.1)
ریکارڈ کم °س (°ف) 11.0
(51.8)
9.8
(49.6)
10.0
(50)
12.0
(53.6)
16.4
(61.5)
20.0
(68)
20.5
(68.9)
22.0
(71.6)
17.0
(62.6)
15.6
(60.1)
15.0
(59)
11.4
(52.5)
9.8
(49.6)
اوسط بارش مم (انچ) 9.9
(0.39)
3.7
(0.146)
2.9
(0.114)
2.8
(0.11)
0.2
(0.008)
0.0
(0)
0.3
(0.012)
0.5
(0.02)
0.1
(0.004)
1.1
(0.043)
26.4
(1.039)
13.1
(0.516)
61.0
(2.402)
اوسط اضافی رطوبت (%) 60 60 60 57 56 58 53 59 67 66 65 63 60
ماخذ: جدہ علاقائی آب و ہوا مرکز[32]
جدہ اوسط سمندری درجہ حرارت[33]
جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر
26.3 °C (79.3 °F) 25.7 °C (78.3 °F) 25.8 °C (78.4 °F) 26.8 °C (80.2 °F) 28.1 °C (82.6 °F) 29.0 °C (84.2 °F) 30.6 °C (87.1 °F) 31.6 °C (88.9 °F) 31.1 °C (88.0 °F) 30.7 °C (87.3 °F) 29.1 °C (84.4 °F) 27.9 °C (82.2 °F)

معیشتترميم

جدہ طویل عرصے سے ایک بندرگاہ شہر ہے۔ مکہ کے لیے بندرگاہ شہر ہونے سے قبل بھی یہ علاقہ کا تجارتی مرکز تھا۔ درآمدات کا مرکز ہونے کے علاوہ افریقا، یورپ اور نہر سوئز کو جانے والے بحری جہازوں کے لیے ایک اہم بندرگاہ بھی ہے۔ [34]مشرق وسطی اور شمالی افریقا کے تمام دار الحکومت جدہ سے دو گھنٹے کی مسافت پر ہیں جو اسے دوبئی کے بعد مشرق وسطی کا دوسرا تجارتی مرکز بناتے ہیں۔ [35] جدہ ایک صنعتی شہر بھی ہے اور یہ سعودی عرب کا ریاض، جبیل اور ینبع کے بعد چوتھا سب سے بڑا صنعتی شہر ہے۔

جدہ ایوان تجارت و صنعتترميم

 
جدہ ایوان تجارت و صنعت

جدہ ایوان تجارت و صنعت ملک کی قدیم ترین کاروبار خدمات تنظیموں میں سے ایک ہے۔ یہ جنوری 1946ء کو ایک شاہی فرمان کے ذریعے عمل میں آئی۔ تب سے یہ ایوان قومی معیشت اور کاروباری برادری کی خدمت کر رہا ہے، اس کی ترقی میں حصہ لے رہا ہے۔ [36]

جدہ ایوان تجارت و صنعت کی خدماتترميم

  • تجارتی خدمات
  • قانونی خدمات
  • اسپورٹ پروگرام
  • تصدیق خدمات
  • اشاعت
  • تجارتی وفود خدمات

جدہ صنعتی شہرترميم

جدہ صنعتی شہر کا پہلا مرحلہ 1971ء کو 12 ملین مربع میٹر علاقے میں قائم کیا گیا۔ [37] یہ صنعت کے لیے ضروری سہولیات اور رہائشی اکائیاں، معاون خدمات اور نقل و حمل کی دستیابی میں معاونت فراہم کرتا ہے۔ اس کا مقام خاص حکمت عملی کے تحت منتخب کیا گیا تھا۔ یہ شہر سے قریب واقع ہے تاہم اس کے اور شہر کے درمیانی راستے میں کوئی رہائشی تعمیرات موجود نہیں تاکہ کوئی مضر کو اخراج سے لوگوں کی صحت متاثر نہ ہو۔ یہ جدہ اسلامی بندرگاہ کے بالکل پاس واقع ہے جس سے بحری نقل و حمل کے لیے بڑی گاڑیاں باآسانی سامان لا اور لے جا سکتی ہیں۔ یہاں مقامی اور بین الاقوامی صنعتی منصوبوں کی تقریباً 1،073 فیکٹریاں موجود ہیں۔

جدہ صنعتی شہر - پہلا مرحلہترميم

 
جدہ صنعتی شہر کا پہلا مرحلہ

جدہ صنعتی شہر کا پہلا مرحلہ 1971ء کو 12 ملین مربع میٹر علاقے میں قائم کیا ہوا۔ [38] پہلے مرحلے میں تمام بنیادی سلولیات بشمول سڑکوں کا جال، بجلی کی خدمات، پانی کی خدمات، موصلات اور حفظان صحت کی خدمات موجود ہیں۔ نئے صنعتی منصوبوں کے بوجھ کی وجہ سے نئے مرحلے بنائے گئے ہیں تاہم وہ پہلے مرحلے کی بانسبت شہر سے خاصے دور واقع ہیں۔

پہلے مرحلے میں مندرجہ ذیل صنعتیں موجود ہیں:

  • گاڑیاں اور ٹریلرز
  • ربڑ اور پلاسٹک کی مصنوعات کی تیاری
  • پیٹرولیم کی مصنوعات
  • کیمیائی مواد اور مصنوعات
  • دیگر مینوفیکچررز کی صنعت
  • میڈیکل انڈسٹری
  • لکڑی اور فرنیچر کی صنعت
  • بجلی اور بجلی کے آلات کی صنعت
  • دھاتیں اور عمارت سازی کی صنعت
  • کھانے کی مصنوعات اور مشروبات کی تیاری
  • کمپیوٹر اور الیکٹرانک اور بصریاتی مصنوعات
  • پرنٹنگ اور پبلشنگ
  • سامان اور مشینری
  • کاغذ اور اس کی مصنوعات.

جدہ صنعتی شہر - دوسرا مرحلہترميم

جدہ صنعتی شہر کا دوسرا مرحلہ پہلے مرحلے سی جنوب میں 35 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ [39] اس کا قیام 2009ء میں عمل آیا۔ اس کا رقبہ 8 ملین مربع میڑ ہے۔ شہر میں سڑک نیٹ ورک، پانی، بجلی، مواصلات، صنعتی سیکورٹی اور حفظان صحت کی خدمات کے تحت تمام بنیادی خدمات موجود ہیں۔

جدہ صنعتی شہر - تیسرا مرحلہترميم

جدہ صنعتی شہر کے تیسرے مرحلے کا قیام 2012ء میں عمل آیا۔ اس کا رقبہ 80 ملین مربع میڑ ہے۔ [40] شہر میں سڑک نیٹ ورک، پانی، بجلی، مواصلات، صنعتی سیکورٹی اور حفظان صحت کی خدمات کے تحت تمام بنیادی خدمات موجود ہیں۔ جدہ صنعتی شہر کا سب سے بڑا مرحلہ ہے۔

اسلامی ترقیاتی بینکترميم

اسلامی ترقیاتی بینک جدہ، سعودی عرب میں واقع ایک کثیر المقاصد ترقیاتی ادارہ ہے۔ اس کا قیام 1973ء میں تنظیم تعاون اسلامی کے رکن ممالک کے وزرائے خزانہ اور اس وقت کے سعودی عرب کے فرمانروا فیصل بن عبدالعزیز آل سعود کی مدد سے میں عمل آیا اور 20 اکتوبر 1975ء کو اس نے اپنی سرگرمیاں شروع کیں۔ [41] موجودہ دور میں اس کے 57 ارکان ہیں۔ [42]

جدہ اقتصادی فورمترميم

جدہ اقتصادی فورم اقتصادی ایک فورم ہے جس کا سالانہ اجلاس 1999ء کے بعد سے موسم سرما کے دوران جدہ، سعودی عرب میں ہوتا ہے۔ فورم نے کئی مشہور مقررین کو مدعو کیا ہے جن میں جارج ایچ ڈبلیو بش، جان میجر، بل کلنٹن، گیرہارڈ شروڈر سابقہ جرمن چانسلر، میڈلین آلبرائیٹ، ولید بن طلال، اردن کی رانیا العبد اللہ، رجب طیب ایردوان وزیر اعظم ترکی، رفیق حریری لبنان کے سابقہ وزیر اعظم، مہاتیر محمد ملائیشیا کے وزیر اعظم اور لبنی علیان، ہیلری کلنٹن، کلاوس شواب، حیات سندی اور وکٹوریہ، سویڈن کی ولی عہد شہزادی شامل ہیں۔

بین الاقوامی تنظیمیںترميم

جدہ میں کئی بین الاقوامی تنظیموں کے دفاتر موجود ہیں تاہم یہاں صرف ان تنظیموں کا ذکر کیا جا رہا ہے جن کے صدر دفتر جدہ میں واقع ہیں۔

تنظیم تعاون اسلامیترميم

 
تنظیم تعاون اسلامی کا صدر دفتر، جدہ

تنظیم تعاون اسلامی ایک بین‌الاقوامی تنظیم ہے جس میں مشرق وسطی، شمالی، مغربی اورجنوبی افریقا، وسط ایشیا، یورپ، جنوب مشرقی ایشیا اور برصغیر اور جنوبی امریکا کے 57 مسلم اکثریتی ممالک شامل ہیں۔ او آئی سی دنیا بھر کے 1.2 ارب مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہے۔ او آئی سی کا مستقل دفتر سعودی عرب کے شہر جدہ میں قائم ہے۔ [43]

بین الاقوامی تنظیم برائے اعانت، بہبود اور ترقیترميم

بین الاقوامی تنظیم برائے اعانت، بہبود اور ترقی سابقہ نام بین الاقوامی اسلامی اعانتی تنظیم رابطہ عالم اسلامی کی سعودی عرب میں 1978ء میں قائم کردہ ایک فلاحی تنظیم ہے۔ [44][45] رابطہ عالم اسلامی کا صدر دفتر مکہ میں جبکہ بین الاقوامی تنظیم برائے اعانت، بہبود اور ترقی کا صدر دفتر جدہ میں واقع ہے۔

قونسل خانےترميم

 
پاکستان قونصل خانہ، جدہ
 
بھارتی قونصل خانہ، جدہ

سعودی عرب میں ریاستہائے متحدہ امریکا کے دو قونصل خانوں میں سے ایک جدہ میں واقع ہے۔ جدہ میں دیگر 85 ممالک کے قونصل خانے بھی موجود ہیں جن کی فہرست مندرجہ ذیل ہے۔ [46] دیگر قونصل نمائندوں میں تنظیم تعاون اسلامی اور عرب لیگ شامل ہیں۔

ثقافتترميم

 
جدہ کی ایک خاتون روایتی لباس میں

جدہ قدیم دور سے ہی ایک اہم بندرگاہ شہر ہے، خاص طور عازمین حج کے لیے بھی بنیادی بندرگاہ ہے۔ تمام ملکوں سے حجاج جدہ کا سفر کرتے ہیں جس نے یہاں کی مقامی ثقافت پر گہری چھاپ چھوڑی ہے۔ یہاں کے زیادہ تر شہری سنی مسلم ہیں۔ سعودی عرب کا شہر ہونے کے ناطے حکومت اور عدالتیں شریعت کے قوانین کے طابع ہیں۔ شہر میں 1،300 سے زائد مساجد ہیں [47] تاہم دیگر مذہبی عمارات بنانے کی اجازت نہیں، گو کہ ایک بڑی تعداد میں غیر ملکی کارکن جو دیگر مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں یہاں مقیم ہیں۔

ساتویں صدی سے جدہ دنیا بھر سے کڑوروں حاجیوں کا اولین میزبان ہے۔ حجاج کرام کے ساتھ اس میل جول نے جدہ کے معاشرے، ثقافت، مذہب ور معیشت پر ایک گہرا اثر چھوڑا ہے۔ دنیا بھر سے حجاج کرام کے آنے کی وجہ سے سالانہ بیماری کا خطرہ بھی رہتا ہے جسے "حاجی بیماری" کا نام دیا جاتا ہے۔

دنیا بھر سے غیر ملکی کارکنان بھی جدہ میں مقیم ہیں جو اپنی زبان اور اپنی ثقافت رکھتے ہیں۔ آپسی میل جول سے جدہ کی زبان میں کئی دیگر زبانوں کے الفاظ بھی مستعمل ہیں۔ مثلاً لفظ "جنجال" جو سنسکرت سے ماخوذ ہے اور پنجابی میں مستعمل ہے یہاں عام استعمال ہوتا۔ اسی طرح بہت سے عربی الفاظ دیگر زبانوں میں استعمال ہوتے ہیں مثلاً پل کے لیے "کبري" عام استعمال ہوتا ہے۔

پکوانترميم

 
حجازی سلیق

جدہ ایک کثیر ثقافتی شہر ہے غیر ملکی ثقافتوں کا مقامی ثقافت پر بھی گہرا اثر ہے۔ مختلف اقوام اور ثفافتوں کے پکوان یہاں دستیاب اور مقبول ہیں۔ دور حاضر میں مغربی فاسٹ فوڈ رستورانوں نے بھی بہت مقبولیت حاصل کی ہے لیکن روایتی کھانوں کو اب بھی فوقیت حاصل ہے۔

سلیق سفید چاولوں کا ایک پکوان ہے جسے مرغی یا دیگر گوشت کی یخنی اور دودھ میں پکایا جاتا ہے۔ یہ حجاز کا ایک اہم پکوان ہے۔ مندی ایک روایتی پکوان ہے جس کا آغاز حضرموت، یمن سے ہوا۔ مندی جدہ میں بہت مقبول ہے ہر جگہ عام دستیاب ہے۔ فول چوڑے لوبیے، روغن نباتی اور زیرہ سے تیار کیا جانے والا ایک پکوان ہے۔ یہ صبح ناشتے میں اور رات کے کھانے میں بھی کھایا جاتا ہے۔ فلافل اور حمص بھی یہاں کافی مقبول ہیںو صبح ناشتے اور رات کے کھانے میں بھی کھائے جاتے ہیں۔ کبسہ جدہ میں کھایا جانے والا ایک انتہائی مقبول پکوان ہے۔ جدہ کے دیگر مقبول پکوانوں میں مبشور، مطبق، عریکہ، حریسہ، کباب میرو، شوربہ، مقلقل، مضبی، مدفون، مقلوبہ، معصوب، مقلیہ، بریانی، رز کابلی اور رز بخاری شامل ہیں۔ برصغیر کے پکوان بھی یہاں کے لوگ پسند کرتے ہیں اسی لیے مقامی پاکستانی اور بھارتی ریستورانوں میں تیز مرچ کا استعمال نہیں کیا جاتا تا کہ مقامی لوگ بھی اسے کھا سکیں۔ اس کے علاوہ شاورما، کوفتہ اور کباب بھی جدہ والوں کی مرغوب غذا ہیں۔ رمضان میں سموسہ اور فول افطار میں بہت استعمال ہوتے ہیں۔ شامی، لبنانی، یمنی، بھارتی، بنگلہ دیشی، پاکستانی اور دیگر ایشیائی پکوان بھی بہت مقبول ہیں۔ اطالوی، فرانسیسی اور امریکی ریستوران بھی ملتے ہیں۔

البیکترميم

البیک سعودی عرب میں ایک اہم فاسٹ فوڈ ریستوران سلسلہ ہے۔ اس کو صدر دفتر جدہ میں واقع ہے۔ بنیادی طور یہ بروسٹ مرغی اور جھینگے مختلف چٹنیوں کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ یہ جدہ سے شروع ہونے والا ریستوران سلسلہ ہے اور خاصے عرصے تک یہ صرف جدہ تک ہی محدود تھے تاہم اب ان کی شاخیں دوسرے شہروں میں بھی موجود ہیں، جن میں مکہ، مدینہ منورہ، طائف، ینبع، اللیث، الخرج، ریاض اور بریدہ شامل ہیں۔ [48] ابتدا میں دوسرے شہروں میں شاخیں نہ کھولنے کی وجہ یہ تصور کی جاتی تھی کہ یہ لوگ اپنا فارمولا کسی کو بتانا نہیں چاہتے اسی لیے وہ جدہ تک ہی محدود ہیں۔ اور جب قریبی شہروں مکہ، مدینہ اور طائف میں شاخیں کھولی گئیں تو ان میں بھی مرغی کی تیاری نہیں ہوتی تھی بلکہ مرغی کو مصالحے لگا کر ان شہروں میں بھیجا جاتا تھا اور وہاں پر صرف اسے تلا جاتا تھا۔ اسے جدہ میں عام لوگ اسے "خلطہ سرية" (خفیہ مکس) بھی کہتے ہیں۔

البیک یہ صرف مقامی طور پر مقبول ہے بلکہ اسے لوگ اپنے ساتھ واپسی پر اپنے ملکوں کو بھی لے جاتے ہیں۔ اکثر بین الاقوامی ہوائی اڈے پر لوگوں میں ہاتھ میں البیک کے تھیلے نظر آتے ہیں۔

ذرائع ابلاغترميم

جدہ ابتدا ہی سے صحافتی سرگرمیوں کو گڑھ رہا ہے۔ جدہ سے کئی اخبار شائع ہوتے ہیں جن میں عربی زبان کے البلاد، عکاظ، المدینہ اور الوطن، انگریزی زبان کے سعودی گزٹ اور عرب نیوز جبکہ اردو زبان کا اردو نیوز قابل ذکر ہیں۔ عکاظ اور المدینہ جدہ سے شایع ہونے والے دو ایسے اخبار ہیں جن کے قارئین کی تعداد دس لاکھ سے زیادہ ہے۔

جدہ میں خاص طور پر مقامی معلومات کے انٹرنیٹ کے بلاگز بہت زیادہ ہیں۔ ان میں سے کئی ایسی ویب سائٹ ہیں جن کی بین الاقوامی طور پر تعریف کی گئی ہے۔ [49][50] دیگر شوقیہ ویب سائٹس مخصوص موضوعات کے ساتھ موجود ہیں۔ جدہ سعودی عرب کی ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی سب سے بڑی مارکیٹ کی نمائندگی کرتا ہے۔ شہر کے علاقے میں ٹیلی ویژن چینلوں میں سعودی ٹی وی 1، سعودی ٹی وی 2، سعودی ٹی وی اسپورٹس، الاخناریہ، عرب ریڈیو اور ٹیلی ویژن نیٹ ورک اور سینکڑوں کیبل، سیٹلائٹ اور دیگر خاص ٹیلی ویژن فراہم کنندہ موجود ہیں۔ جدہ ٹی وی ٹاور ایک مشاہدہ ڈیک کے ساتھ 250 میٹر (820 فٹ) بلند ایک ٹیلی ویژن ٹاور ہے۔ یہ ٹاور 2006ء میں مکمل ہوا۔

حجازی عربیترميم

 
حجازی رسم الخط میں قرآن

حجازی عربی عربی کی ایک تنوع ہے سعودی عرب کے تاریخی خطے حجاز میں بولی جاتی ہے۔ حجاز میں اس لہجہ کے دو اہم گروہ ہیں، ایک وہ جو اہم شہروں مثلاً جدہ، مکہ اور مدینہ منورہ میں جبکہ دوسرا بدوی لہجہ ہے۔ [51]

مذہبترميم

اسلام سعودی عرب کا سرکاری مذہب ہے اور اس کا قانون تمام شہریوں کے مسلمان ہونے کو ضروری قرار دیتا ہے۔[52] اسلام کے سوا دیگر مذاہب کے پیروکاروں کو کھلے عام عبادت منع ہے۔[53][54] سعودی عرب کی شہریت حاصل کرنے کے لیے کسی بھی غیر مسلم کو اسلام قبول ضروری ہے۔ [55]

جدہ میں بڑی تعداد میں غیر ملکی بھی مقیم جو مختلف مذہب رکھتے ہیں۔ کیونکہ سر عام کسی غیر اسلامی عبادت کی اجازت نہیں اس لیے کسی خاص مذہب کے پیروکاروں کے اعداد و شمار دستیاب نہیں۔ جدہ میں ایک قدیم گرجا گھر موجود ہے جسے مقامی لوگ کنیسہ جدہ کے نام سے یاد کرتے ہیں، تاہم اس میں عبادت نہیں ہوتی۔ یہ ایک تباہ حال عمارت تھی جس کی حال ہی میں تزئین و آرائش کی گئی ہے۔

سیاحت اور تفریحترميم

ایک بین الاقوامی، قدیم اور ساحل سمندر پر ہونے کی وجہ سے جدہ میں بہت سے تفریحی اور سیاحتی مقامات موجود ہیں۔ جدہ کے رہائشیوں، حجاج، زائرین اور سیاحوں کے لیے جدہ خریداری اور تفریح کے لیے خاص مقام رکھتا ہے۔

کورنیش جدہترميم

جدہ بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ہے۔ ساحل سمندر سے لطف اندوز ہونا جدہ والوں کی سب سے بڑی تفریح ہے۔ ساحل کے ساتھ لوگوں کے بیٹھنے کے لیے تفریحی جگہیں بنائی گئیں ہیں۔ اس ساحل کو کورنیش کہا جاتا ہے۔ کورنیش پر صبح فجر سے لے کر رات گئے تک لوگوں کا ہجوم رہتا ہے۔ حال ہی میں حکومت نے کورنیش پر لوگوں کی سہولت اور خوبصورتی کے لیے کئی منصوبوں پر کام کیا ہے جس سے اس کی رونق اور بڑھ گئی ہے۔ [56][57]

کورنیش جدہ سے پٹی کے سامنے کئی بڑے ہوٹل، تفریح گاہیں، محلات اور دیگر اہم مقامات واقع ہیں۔ حال ہی میں کورنیش کے ایک حصے میں سڑکوں کے درمیان جلنے اور جاگنگ کے لیے راستہ بنایا گیا ہے جو لوگوں میں بہت مقبول ہوا ہے۔ [58]

کورنیش جدہ کا بحیرہ احمر کے ساحل پر کل رقبہ 730،000 مربع کلومیٹر ہے۔ نئے تجدید شدہ علاقے میں مزید سہولہات فراہم کی گئی ہیں جس میں نہانے کے لیے ساحل، بیٹھنے کے لیے سایہ دار مقامات، تیرتی سمندری گودی، بیت الخلا، ریستوراں، پارک، رقصاں چشمے، کھیلنے کے میدان، جگہ جگہ چارجنگ کی شہولت اور وائی فائی تک رسائی شامل ہیں۔ [59]

کورنیش جدہ کی تجدید اور ترقی کے منصوبے کو جدہ 1439ھ میں سعودی حکومت نے مقامی حکومت کو جدت اعزاز سے نوازا۔ [60][61]

تجدید شدہ کورنیش جدہ کا افتتاح 30 نومبر 2017ء کو گورنر مکہ عللاقہ شہزادہ خالد الفیصل نے کیا۔ افتتاح کے موقع پر ان کے ہمراہ گورنر جدہ شہزادہ مشعل بن ماجد اور نائب گورنر جدہ عبد اللہ بن بندر بھی موجود تھے۔ [62] اس منصوبے کے لیے مختص کردہ بجٹ 212.3 ملین امریکی ڈالر ہے۔ [63]

شاہ فہد فوارہترميم

شاہ فہد فوارہ جسے جدہ فوارہ بھی کہا جاتا ہے جدہ کی ساحلی پٹی کورنیش جدہ پر واقع ایک فوارہ ہے۔ یہ دنیا کا بلند ترین فوارہ ہے۔[64] یہ فوارہ جدہ شہر کو شاہ فہد بن عبدالعزیز آل سعود نے عطیہ کیا تھا اسے لیے اس فوارے کو ان کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ 1980ء اور 1983ء کے درمیان تعمیر کیا گیا تھا اور اس کا افتتاح 1985ء میں ہوا۔ [65]

مختلف ذرائع کے مطابق بحیرہ احمر کے سطح سمندر سے اس کی اونچائی 260 میٹر (853 فٹ) [66][67][68] یا 312 میٹر (1،024 فٹ) ہے۔ [64] بلند ہونے کی وجہ سے یہ فوارہ جدہ کے اکثر علاقوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ فوارہ جدہ کی علامت یا نشان کے طور پر عام استعمال ہوتا ہے۔

کسی بھی اونچائی کو معیار تصور کیا جائے تک بھی یہ فوارہ بلند ترین ہی ہو گو کیونکہ دوسرا بلند ترین فوارہ جس کا نام "ورلڈ کپ فاؤنٹین" ہے اور یہ سؤل، جنوبی کوریا میں واقع ہے۔ اس کی انچائی 202 میٹر (663 فٹ) ہے۔

جدہ علم چوبترميم

جدہ علم چوب ملک عبد اللہ چوک، جدہ، سعودی عرب میں 171 میٹر (561 فٹ) بلند ایک علم چوب ہے۔ 2014ء میں اس کی تعمیر کے بعد سے یہ دنیا کا سب سے بڑا علم چوب ہے۔ [69] اس پر سعودی عرب کا پرچم لہرایا جاتا ہے جس کا عرض 49.5 میٹر (162 فٹ) طول 33 میٹر (108 فٹ) اور اس کا وزن 570 کلوگرام (1،260 پونڈ) ہے۔ [70] اسے سب سے پہلے 23 ستمبر 2014ء کو قومی یوم سعودی عرب کے موقع پر لہرایا گیا تھا۔ یہ علم چوب جدہ کے اکثر علاقوں سے دیکھا جا سکتا ہے شاہ فہد فوارے کی طرح یہ بھی جدہ کی ایک علامت بن چکا ہے۔

مسجد الرحمہترميم

 
مسجد الرحمہ

مسجد الرحمہ جسے تیرتی مسجد بھی کہا جاتا ہے 1985ء میں تعمیر کی گئی۔ اس کی وجہ شہرت اس کی طرز تعمیر ہے۔ اسے سمندر کے اندر ستونوں پر تعمیر کیا گیا ہے۔ مسجد کے آخر میں سمندر کا نظارہ کرنے کے لیے جگہ بھی بنائی گئی ہے جہاں سمندر کافی گہرا ہے۔ مسجد اندر سے بھی خوبصورت ہے۔ انڈونیشیا اور ملائیشیا کے حجاج کے پیکج میں اس مسجد کا دورہ بھی شامل ہوتا ہے۔ یہ مسجد بھی جدہ کی ایک علامت کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔

الجوہرہ اسٹیڈیمترميم

 
شاہ عبد اللہ اسپورٹس سٹی

شاہ عبد اللہ اسپورٹس سٹی جدہ، سعودی عرب سے شمال میں 60 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک کھیلوں کا شہر ہے۔ یہ سعودی عرب کے بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود کے نام پر ہے جنہوں نے اس کا افتتاح بھی کیا تھا۔ [71]

اس میں مرکزی مقام الجوہرہ اسٹیڈیم ہے جسے کثیر لاگت سے جدید ٹیکنالوجی کی بنیادوں پر تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ عمومی طور پر سعودی عرب کے مقبول کھیل فٹ بال کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں 62,241 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ یہ جدہ کو سب سے بڑا اور سعودی عرب کا دوسرا سب سے بڑا اسٹیڈیم ہے۔

این سی بی ٹاورترميم

 
این سی بی ٹاور

نیشنل کمرشل بینک مکمل طور پر سعودی عرب کا پہلا ملکیتی اور بلحاظ اثاثہ جات عرب دنیا کا دوسرا سب سے بڑا بینک ہے۔ [72] نیشنل کمرشل بینک نے 26 دسمبر 1953ء کو مرحوم شاہ عبدالعزیز ابن سعود کے شاہی فرمان کے مطابق قائم کیا گیا۔ این سی بی ٹاور یا نیشنل کمرشل بینک ٹاور 1983ء جدہ میں سمندری جصیل کے کنارے تعمیر کیا گیا اور اسے 1980ء کی دہائی کے دوران سعودی عرب کی سب سے بلند عمارت خیال کیا جاتا ہے۔ جھیل کے کنارے ایک منفرد تکونی طرز تعمیر ہونے کی وجہ سے جدہ میں فوٹوگرافروں کا پسندیدہ مقام ہے۔ اسے جدہ کی ایک علامت کا مقام حاصل ہے۔

برج شاہراہ ملکترميم

 
برج شاہراہ ملک

برج شاہراہ ملک ایک 34 منزلہ دفتری برج ہے جو جدہ، سعودی عرب میں واقع ہے۔ یہ برج اشتہارات دکھانے کی دنیا کے سب سے بڑی اسکرین پر مشتمل ہے۔ اسکرین تقریباً 10،000 مربع میٹر اور اسے ایک فرانسیسی کمپنی نے ڈیزائن، تعمیر اور نصب کیا۔ اس اسکرین کو نصب کرنے میں تقریباً چھ ماہ لگے۔ [73][74]

ملک سعود مسجدترميم

ملک سعود مسجد 1987ء میں تعمیر ہوئی یہ شہر کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ یہ اپنے خوبصورت طرز تعمیر کی وجہ سے شہرت رکھتی ہے۔ مسجد عبد الواحد الوكيل ‎نے ڈیزائن کی اور یہ 1987ء میں مکمل ہوئی۔ یہ بنیادی طور پر اینٹوں سے تعمیر کی گئی ہے۔ اس کا کل رقبہ 9764 مربع میٹر جبکہ اندرونی ہال 2464 مربع میٹر ہے۔ اس کا سب سے بڑا گنبد 20 میٹر کا ہے اور یہ 42 میٹر بلند ہے۔ اس کے مینار کی اننچائی 60 میٹر ہے٫ [75]

باب مکہ (محلہ)ترميم

 
باب مکہ
 
باب مکہ میں روایتی خریداری

باب مکہ جدہ کے قدیم ترین محلوں میں سے ہے یہ بلد سے متصل ہے اور شہر کا اہم تجارتی مرکز ہے۔ یہ نقل و حمل کا مرکز بھی ہے شہر بھر سے بسیں باب ملکہ تک آتی ہیں۔ پہلے مقمای لوگ اپنی بسیں چلاتے تھے جنہیں "خط" کہا جاتا تھا جو تصوہر میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں لیکن حکومتی بسیں چلنے کے بعد ان کی ممانعت ہو گئی ہے۔

نئے جدہ میں خریداری مرکزوں کی تعمیر کے بعد بھی باب مکہ کی اہمیت کم نہیں ہوئی، قدیم شہر کے لوگ گو کہ وہ کہیں بھی موجود ہوں کھانے ہینے، مصالحہ جات، شہد، کھجور کی خریداری یہاں سے ہی کرتے ہیں۔

اصل شہر کی فصیل کا دروازہ جو مکہ ("باب مکہ") کی سمت تھا مسمار ہو چکا تھا تاہم بعد میں حکومت نے اسی نقشے پر اسے دوبارہ تعمیر کیا ہے۔

چوراہے اور بیرون در فنترميم

1970ء اور 1980ء کے دہائیوں اس وقت شہر کے میئر محمد سید فارسی نے شہر کی خوبصورتی کے لیے چوراہوں اور دیگر مقامات پر خوبصورے فن پارے نصب کیے۔ [76][77] ان میں روایتی سعودی اشیا، کشتیاں، ہوائی جہاز، کرہ عرض، فوارے اور دیگر شامل ہیں۔

خریداریترميم

جدہ خریداری کے لحاظ سے سعودی عرب مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ابتدائی طور پر بازار قدیم شہر کے مختلف محلوں میں موجود تھے جن میں بلد سب سے اہم اس کے علاوہ باب مکہ اور باب شریف بھی اہم مراکز تھے۔ شہر کی ترقی اور وسعت کے بعد شہر کے ہر حصے میں بڑے بڑے مال قائم ہو چکے ہیں تاہم قدیم شہر کی بازاروں کی اہمیت اب بھی باقی ہے۔ جدہ کے چند اہم خریداری مراکز کی فہرست مندرجہ ذیل ہے۔

 
ریڈ سی مال
 
مال آف عریبیہ
 
المحمل سینٹر
 
صیرفی میگا مال
 
فلامینگو مال
 
الاندلس مال
 
ساؤتھ مال
 
عزیز مال
  • المحمل سینٹر
  • الیمامہ مال
  • ایفینٹ مال
  • السلام مال
  • برنتان مال
  • فلامینگو مال
  • کورال مال
  • این تو مال
  • السلیمانیہ پلازا
  • دا فرسٹ مال
  • الاندلس میگا مال
  • اتوال سینٹر
  • مرکز فتیحی
  • جولری سینٹر
  • صواری لینڈ مارک
  • الجامعہ مال
  • مرکز آئیس لینڈ
  • حراء پلازا
  • سلطان مال
  • ریڈ سی مال
  • صیرفی میگا مال
  • روشان مال
  • روشانا مال
  • یونیورسٹی پلازا
  • الشلال تھیم پارک
  • التحلیہ سینٹر
  • عزیز مال
  • کارفور سینٹر
  • ساوتھ مال
  • الواحہ مال
  • سیٹی پلازا
  • محمود سعید سینٹر
  • اویسس مال
  • الیاسمین مال
  • بدر سینٹر
  • رباعیات سینٹر
  • لمسات مال
  • جدہ سیٹی سینٹر
  • سوق دانیا
  • مرکز بن حمران
  • المنتزہ 1
  • المنتزہ 2
  • ابراج البدریہ
  • لے مال
  • دانیہ سینٹر
  • سوق جدہ
  • مرکز الہداب
  • حراء ایوینیو
  • سوق المدار
  • فلامینگو مال
  • برج الملکہ
  • سوق الجمجوم
  • سوق الصواری
  • مرکز المساعدیہ
  • سوق المحمل
  • سوق جدہ الدولی
  • سوق الحمراء
  • سوق البساتین
  • سوق حراء
  • سوق السلمانیہ
  • مرکز دانیہ
  • برج الباروم
  • الجامعہ پلازا
  • مرکز لے مال
  • سوق الحفنی
  • مرکز الخیاط
  • مرکز المدینہ
  • مرکز الکورنیش
  • سوق الاهدل
  • سوق صواریخ
  • سوق النجار
  • اسواق الحجاز
  • سوق ابوعمرین
  • سوق سلامہ
  • سوق الشاطی
  • مال آف عریبیہ
  • جدہ مال
  • الیاسمین مال
  • سوق المرجان
  • هیفاء مال
  • ستارز ایوینیو

ان خریداری مراکز کے علاوہ کچھ سڑکیں بھی خریداری کے لحاظ سے خاص مقام رکھتی ہیں جن میں چند ایک مندرجہ ذیل ہیں۔

شارع تحلیہترميم

 
شارع تحلیہ

شارع تحلیہ جس کا رسمی نام شارع شہزادہ محمد بن عبد العزیز (عربی: طریق الأمير محمد بن عبدالعزيز) ہے تاہم وہ اپنے قدیم نام "شارع تحلیہ" سے ہی جانی جاتی ہے۔ جدہ، سعودی عرب کے وسط میں ایک اہم فیشن اور خریداری سڑک ہے۔ اس سڑک پر بڑے غیر ملکی برانڈ کے بڑے شو روم موجود ہیں۔

شاہراہ شاہ عبد اللہترميم

 
شاہراہ شاہ عبد اللہ

شاہراہ شاہ عبد اللہ جدہ کی سب سے اہم سڑکوں میں سے ایک ہے۔ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود کے بادشاہ بننے سے پہلے اس کو نام شارع ولی عہد تھا جو ان کے بادشاہ بننے پر تبدیل کر دیا گیا۔ سڑک کافی طویل ہے اور اس پر کئی بڑے کاروباری مراکز موجود ہیں۔ اسی سڑک پر تاریخی مقام ابرق الرغامہ (عربی: ابرق الرغامة) بھی موجود ہے۔ [78] یہ سڑک یوں تو ہمہشہ سے ہی ایم تھی تاہم عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود کے بادشاہ بننے کے بعد اس پر کئی اہم منصوبے شروع ہوئے۔ سمندر کے قریب اس کا اختتام جدہ علم چوب چوک پر ہوتا ہے جو جدہ کی ایک علامت سمجھا جاتا ہے۔

مدینہ روڈترميم

 
مدینہ روڈ

مدینہ روڈ جدہ کی ایک مشہور اور تاریخی اہم سڑک ہے۔ یہ شہر کے جنوبی اضلاع کو جنوبی اضلاع سے ملاتی ہے۔ اس کئی کمپنیوں اور شو رومز کے صدر دفاتر موجود ہیں۔ اس کے شمالی سرے پر شاہ عبد العزیز بین الاقوامی ہوائی اڈا موجود ہے۔ یہی سڑک آگے جا کر شاہراہ حرمین سے مل جاتی ہے۔ ابتدا میں یہی سڑک مدینہ جانے کے لیے استعمال ہوتی تھی تاہم اب اس پر بہت زیادہ رش ہونے کی وجہ سے لوگ اس پر جانے سے کتراتے ہیں، صرف وہی لوگ اس پر آتے ہیں جنہیں یہاں کوئی کام ہو۔

شارع قابلترميم

 
شارع قابل

شارع قابل بلد، جدہ کی ایک تاریخی شارع اور بازار ہے۔ ماضی میں جدہ کے سب سے اہم بازاروں میں سے ایک تھا، تاہم موجودہ دور میں بھی اس کی اہمیت برقرار ہے۔ اس کی بنیاد شریف حسین بن علی نے 1930ء کی دہائی میں رکھی۔ سلیمان قابل کی ملکیت میں آنے کے بعد اس کا نام تبدیل ہوا جس نے اسے شریف علی بن حسین قائم کردہ کے بیٹے سے کچھ رقم اور اجناس کے بدلے خریدا۔ سلیمان قابل اسے جدہ کی سب سے اہم شارع بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ پہلے یہ بازار چھت کے بغیر تھا بعد میں ایک جرمن کمپنی کی مدد سے چھت دار بنایا گیا۔ سڑک دھاتی چھت سے ڈھک دی گئی جو لوہے کے ستونوں پر بہت اونچی تھی۔ [79] تاہم حال میں یہ چھت ہٹا دی گئی ہے۔ اب یہاں چھوٹی دکانیں ہی موجود ہیں بڑے تاجر یہاں سے کوچ کر چکے ہیں۔

تاریخی جدہترميم

 
تاریخی جدہ

بلد لفظی معنی "شہر" [80] سعودی عرب کے دوسرے بڑا شہر جدہ کا تاریخی علاقہ ہے۔ [81] بلد ساتویں صدی میں قائم ہوا اور اسے تاریخی طور پر جدہ کے مرکز کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ [82] 1940ء جدہ شہر کی دفاعی دیواریں گرا دی گئیں۔

قدیم جدہترميم

 
قدیم جدہ

قدیم جدہ سات علاقوں جنہیں محلہ بھی کہا جاتا ہے میں تقسیم تھا جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

1۔ مظلوم محلہ (حارة المظلوم)ترميم

اس کی نام کی اشتقاقیات کے بارے میں مورخین کا خیال ہے عثمانی دور میں یہاں لوگوں پر ظلم ہوا ہو یا وہ مارے گئے ہوں اور اس کی مناسبت سے یہ نام پڑا۔ اس کے بارے میں کئی اور روایتیں بھی بیان کی جاتی ہیں۔ یہ "شامی محلہ" اور "یمنی محلہ" کے درمیان واقع ہے۔ اس کے مشہور مقامات سوق العلوعی، مسجد معمار، شارع قابل اور سوق البنط ہیں۔

2۔ شامی محلہ (حارة الشام)ترميم

اس کا رخ بلاد الشام کی طرف تھا اسے لیے اسے شامی محلہ کہا جاتا ہے۔

3۔ یمنی محلہ (حارة اليمن)ترميم

اس کا رخ یمن کی طرف تھا اسے لیے اسے یمن محلہ کہا جاتا ہے۔ جنوب میں یہ ساحل تک پھیلا ہوا تھا۔

4۔ بحری محلہ (حارة البحر)ترميم

اٹھارہویں صدی کے اواخر یا انیسویں صدی کے اوائل میں اسے یمنی محلے ایک تہائی حصہ کاٹ کر بنایا گیا۔ اس کے نام کی وجہ ایک تو یہ سمندر (بحر) سے ملا ہوا تھا دوسرے یہاں بحری تنصیبات کی موجودگی اس کے نام کا سبب ہو۔

5۔ بلدترميم

بلد لفظی معنی "شہر" [83] سعودی عرب کے دوسرے بڑا شہر جدہ کا تاریخی علاقہ ہے۔ [81] بلد ساتویں صدی میں قائم ہوا اور اسے تاریخی طور پر جدہ کے مرکز کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ [84] 1940ء جدہ شہر کی دفاعی دیواریں گرا دی گئیں۔ 1970ء اور 1980ء کے دہائیوں میں جب جدہ تیل کی پیداوار کی وجہ سے دولت مند بننا شروع ہوا تو بلد میں مقیم بڑے تاجر اور ثروت مند افراد جدہ کے شمال میں رہائش پزیر ہو گئے۔ [85]

6۔ الرویسترميم

جدہ کے سب سے قدیم ترین علاقوں میں الرویس بھی شامل ہو جو اندازہً 150 سال پرانا علاقہ ہے۔

7۔ الکرنتیناترميم

یہ جدہ کی قدیم بندرگاہ کے قریب واقع ہے۔ یہ حجاج کی آمد اور راونگی کا مقام تھا جو جدہ سے باہر تصور کیا جاتا تھا۔ یہ تیل ریفائنری کے قریب واقع ہے موجودہ دور میں افریقی النسل لوگوں کا گڑھ ہے جس کی وجہ سے اسے اب ایک خطرناک علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔

فصیل جدہترميم

فصیل جدہ جدہ شہر کے گرد ایک حفاظتی فصیل تھی جو سولہویں صدی سے بیسویں صدی تک موجود رہی۔ فصیل جدہ یہ سعودی عرب کے مغربی شہر جدہ کے تاریخی علاقے میں واقع تھی۔ اسے پرتگیزی حملوں سے بچاو کے لیے آخری برجی مملوک سلطان الاشرف قانصوہ غوری کے حکم سے 917ھ بمطابق 1509ء میں تعمیر کیا گیا۔ بعد میں اس کی توسیع اور مظبوط بنانے کا عمل بھی ہوا۔ فصیل جدہ میں آٹھ دروازے تھے۔

جدہ کے دروازےترميم

برجی مملوک دور میں شہر کو پرتگیزی حملوں سے محفوظ کرنے کے لیے شہر کر گرد ایک فصیل تعمیر کی گئی اور دروازے بنائے گئے۔ عثمانی دور میں فصیل اور مظبوط کی گئی اور نئے دروازے بھی بنائے گئے۔ جدہ کے آٹھ دروازے تھے جن کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔

باب الصبہترميم

باب الصبہ سعودی عرب کے شہر قدیم جدہ کی فصیل میں موجود آٹھ دروازوں میں سے ایک ہے۔ اس کا نام لغوی معنی ڈالنا ہیں کیونکہ درآمد شدہ اناج میں اس دروازے پر ڈال دیا جاتا تھا جہاں سے تاجر لوگ اس کو تھیلوں میں بھر کر وزن کر کے گوداموں میں منتقل کر دیتے تھے۔ اس وقت یہ دروازہ کئی اہم سرکاری محکموں سے گھرا ہوا تھا اس لیے بھی کافی اہمیت کا حامل تھا۔ اس کے دائیں ہاتھ بلدیہ اور بائیں جانب ڈاک خانہ وتار گھر اور ایک پولیس اسٹیشن تھا۔ عدالت بھی اس کے قریب تھی۔ [86]

باب المدینہترميم

باب المدینہ سعودی عرب کے شہر قدیم جدہ کی فصیل میں موجود آٹھ دروازوں میں سے ایک ہے۔ یہ شامی محلے میں واقع باغ کے سامنے واقع تھا جو منہدم کر دیا گیا تھا۔ یہ دروازہ قشلہ میں موجودہ فوجی بیرکوں تک جانے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ مدینہ منورہ جانے کے لیے مسافر اس دروازے سے روانہ ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ مکہ جانے کے لیے بھی مسافر یہی دروازہ استعمال کرتے تھے کیونکہ قافلے جدہ کے مغربی دروازے باب مکہ تک آسانی سے منتقل نہیں ہو سکتے تھے۔ [87]

باب المغاربہترميم

باب المغاربہ سعودی عرب کے شہر قدیم جدہ کی فصیل میں موجود آٹھ دروازوں میں سے ایک ہے۔ یہ شہر کی مغربی دیوار میں تیسرا دروازہ تھا۔ اس کا مقام شارع شاہ عبدالعزیز پر واقع موجودہ عمارت جفالی ہے۔ بحری راستے سے آنے والے حجاج کے لیے شہر میں داخلے کا واحد دروازہ تھا۔ [88] اس کے بعد حجاج باب المدینہ یا باب مکہ سے حرمین کو روانہ ہو سکتے تھے۔

باب النافعہترميم

 
باب النافعہ کا مقام، پیچھے مرکز المحمل کی عمارت نظر آ رہی ہے

باب النافعہ سعودی عرب کے شہر قدیم جدہ کی فصیل میں موجود آٹھ دروازوں میں سے ایک ہے۔ یہ شہر کی فصیل میں مغرب سے جنوب کی طرف پہلا دروازہ تاہم قدیم ترین نہیں ہے۔ یہ جزوی طور شارع شاہ عبد العزیر پر واقع "مرکز المحمل" کی جگہ پر موجود تھا۔ [89]

باب جدیدترميم

 
باب جدید

باب جدید سعودی عرب کے شہر قدیم جدہ کی فصیل میں موجود آٹھ دروازوں میں سے ایک ہے۔ سعودی عہد آغاز میں ایک نیا دروازہ بنایا گیا اسی نسبت سے اس کا نام باب جدید تھا۔ یہ 1930ء کی دہائی کے اواخر اور 1940ء کی دہائی کے آغاز میں بنا۔ یہ فصیل جدہ میں بنایا گیا آخری دروازہ تھا۔ یہ ایک دہرا دروازہ تھا میں سے گاڑیاں باآسانی اندر اور بار جا سکتی تھی۔ پرانے دروازے نسبتاً تنگ تھے کیونکہ وہ اونٹوں اور گھوڑوں کو مد نظر رکھ کر بنائے گئے تھے۔ [90] اصل دروازہ مسمار ہو چکا تھا تاہم اسی مقام پر اب نیا دروازہ بنایا گیا ہے۔ یہیں پر ہر سال تاریخی جدہ کا میلہ بھی سجایا جاتا ہے۔ [91]

باب شریفترميم

باب شریف سعودی عرب کے شہر قدیم جدہ کی فصیل میں موجود آٹھ دروازوں میں سے ایک ہے۔ باب شریف کو جدہ کا جنوبی دروازہ تصور کیا جاتا ہے۔ [92] اس کا نام شریف مکہ کی مناسبت سے ہے۔ عام طور پر اسی دورازے سے قاصد آیا جاتا کرتے تھے۔ باب شریف واحد دروازہ ہے جو اپنی جگہ پر سلامت ہے باقی تمام دروازے مسمار کر دیے گئے تھے۔

باب صریفترميم

 
باب صریف کا مقام بحر الاحمر ہوٹل کے قریب

باب صریف سعودی عرب کے شہر قدیم جدہ کی فصیل میں موجود آٹھ دروازوں میں سے ایک ہے۔ یہ مغربی دیوار میں چوتھا دروازہ تھا۔ اس کا مقام بحر الاحمر ہوٹل اور فیصلیہ عمارت کے درمیان تھا۔ اس کی وجہ تسمیہ غیر معلوم ہے۔ [93]

باب مکہترميم

باب مکہ سعودی عرب کے شہر قدیم جدہ کی فصیل میں موجود آٹھ دروازوں میں سے ایک ہے۔ یہ مکہ کی سمت مشرقی دروازہ ہے۔ یہ بدو بازار کے سامنے واقع ہے اور یہاں پرانی چیزوں کو بازار بھی لگتا تھا۔ شیخ اسد قبرستان بھی اس کے ساتھ ہی ہے جو فصیل شہر سے باہر تھا۔ [94]

اصل دروازہ مسمار ہو چکا ہے تاہم اسی مقام پر نیا دروازہ اسی طرز پر بنایا گیا ہے۔ باب مکہ روایتی خریداری کے لیے آج بھی بہت مقبول ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ جدہ کے مرکز میں ایک پرکشش علاقہ بن گیا ہے۔ جدید خریداری مراکز بننے کے باوجود یہ مقام خریداروں، زائرین اور سیاحوں سے بھرا رہتا ہے جو مکہ جدہ میں فعال تجارتی سرگرمیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ یہاں اشیا مناسب قیمتوں پر فروخت ہوتی ہیں اور اس کے علاوہ یہاں کئی تاریخی مقامات بھی موجود ہیں جن میں مسجد شافعی اور بیت نصیف سب سے اہم ہیں۔ [95]

تاریخی مساجدترميم

مسجد شافعیترميم

 
مسجد شافعی

مسجد شافعی تاریخی جدہ کے مظلوم محلہ میں سوق الجامعہ میں واقع ہے۔ [96] اس کا اس اس کا مینار ساتویں صدی ہجری بمطابق تیرہویں صدی عیسوی میں تعمیر کیا گیا۔ [97] مسجد میں استعامل لکڑی، پتھروں اور پر سائنسی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ اس کی عمر 1000 سال سے زائد ہے۔ مسجد کے وسط میں ایک کھلا چوکور صحن ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ مسجد کی تعیر خلیفہ راشد عمر بن خطاب کے دور میں ہوئی۔ 2012ء میں اس وقت کے سعودی عرب کے بادشاہ عبد اللہ بن عبد الرحمن آل سعود نے دو تاریخی مساجد کی بحالی کا حکم دیا جن میں مسجد شافعی اور مسجد معمار شامل ہیں۔ روایات کے یہ مطابق حضرت عمر بن خطاب کے دور میں تعمیر ہوئی اور حضرت عثمان بن عفان نے اس مسجد میں نماز پڑھی۔ [98] حضرت عثمان بن عفان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ شعیبہ بندرگاہ کی جگہ جدہ بندرگاہ استعمال کرنے کے موقع پر وہ جدہ آئے اور اس مسجد میں نماز ادا کی۔

مسجد معمارترميم

مسجد معمار تاریخی جدہ کے شارع علوی پر واقع ہے۔ حال ہی میں اس کی اس سر نو تعمیر کی گئی ہے۔ [99][100] تعمیر نو میں اس بات کا خیل رکھا گیا کہ یہ اپنے اصل طرز تعمیر اور حلیہ کے مطابق ہو۔ مسجد شافعی کے بعد یہ تاریخی طور پر دوسرے نمبر پر ہے۔ [101]

مسجد کے تعمیر کی تاریخ کے بارے میں قدیم کتابوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی تعمیر کا حکم مصطفٰی معمار پاشا نے دیا۔ خیال کی جاتا ہے کہ مسجد 1263 ہجری میں تعمیر کی گئی اور 1284 ہجری میں اس کی تجدید ہوئی۔ لیکن مہراب پر 1093 ہجری کی تاریخ درج تھی جس کا مطلب ہے کہ مسجد کی عمر تقریباً 430 سال ہے۔ [102]

مسجد عثمان بن عفانترميم

مسجد عثمان بن عفان یا مسجد آبنوس تاریخی جدہ کے مظلوم محلہ میں ایک تاریخی مسجد ہے جس کا ذکر ابن بطوطہ اور ابن جبیر نے اپنے سفر ناموں میں کیا اور اسے مسجد آبنوس کے نام سے یاد کیا ہے جس کی وجہ مسجد میں آبنوس کی لکڑی کے دو ستون ہیں۔ مسجد کی تعمیر نویں صدی ہجری اور دسویں صدی ہجری کے درمیان میں ہوئی۔ [103]

مسجد عکاشترميم

مسجد عکاش قدیم جدہ شارع قابل پر ایک تاریخی مسجد ہے۔ یہ مسجد 1200ھ سے قبل تعمیر ہوئی۔ مسجد بازار میں واقع پہلی منزل پر واقع ہے جبکہ اس کے نیچے دکانیں موجود ہیں۔ [104] مسجد کے دروازے پر تختی پر سنہ تاسیس 1200ھ درج ہے [105] تاہم عثمانی دور کے دفتر اندراجات میں اسے 1188ھ میں درج کیا گیا ہے جس سے یہ پتا چلتا ہے کہ یہ 1200ھ سے قبل سے موجود ہے۔

مسجد پاشاترميم

 
مسجد پاشا

مسجد پاشا قدیم جدہ کے مظلوم محلہ شامی واقع تاریخی مساجد میں سے ایک ہے۔ یہ 1735ء میں بکر پاشا نے تعمیر کروائی جو اس وقت کے والی جدہ تھے۔ 1978ء تک یہ مسجد موجود تھی تاہم خستہ حالی کی وجہ سے گر گئی جہاں اب نئی مسجد تعمیر کی گئی ہے۔ [106]

مسجد المغربیترميم

مسجد المغربی جدہ کے تاریخی علاقے باب مکہ میں ایک قدیم مسجد ہے۔ اسے 1185ھ میں محمد بن ابراہیم مغربی نے تعمیر کروایا۔ یہ دیگر تاریخی مساجد کے مقابلے میں کافی بڑی مسجد ہے۔

مسجد حنفیترميم

مسجد حنفی قدیم جدہ کی مساجد میں سے ایک ہے۔ مسجد حنفی شامی محلے میں واقع ہے۔ یہ 1320ھ میں تعمیر ہوئی، یہ قدیم جدہ کی سب سے بڑی مساجد میں سے ایک ہے۔ [107]

قبرستانترميم

جدہ کے ہر علاقے میں مقامی قبرستان موجود ہیں تاہم دو قبرستانوں کو تاریخی چیثیت حاصل ہے جن کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔

قبرستان اماں حواترميم

 
کئی لوگ قبرستان اماں حوا کے دیوار کے قریب اس ڈھانچے کو اماں حوا کی قبر کا مقام کہتے ہیں، تاہم یہ سنی سنائی باتیں ہیں۔

قبرستان اماں حوا جدہ، سعودی عرب میں واقع ایک قبرستان اور آثارياتی مقام ہے۔ [108] اسے حوا کے دفن ہونے کا مقام کہا جاتا ہے۔ رچرڈ فرانسس برٹن نے الف لیلہ کے ترجمہ میں اس مقام کو دیکھنے کا ذکر کیا ہے۔[109] یہ مقام 1975ء میں مذہبی حکام کی طرف بند کر دیا گیا تھا کیونکہ یہاں حجاج کرام نے نماز پڑھنا شروع کر دیا تھا۔ اینجلو پاسکو اپنی کتاب جدہ میں اس مقام کا ذکر کیا ہے۔[110] اس نے لکھا ہے کہ اس قبرستان کا ابتدائی دستاویزی ذکر ابو محمد الحسن بن احمد بن يعقوب الہمدانی نے کیا ہے۔ معروف مصنف سردار اقبال علی شاہ نے اس کا حدود اربعہ یوں بیان کیا ہے:

اصل قبر کے مطابق حوا ایک بڑے تناسب کی خاتون ہوں گی، مجھے بتایا گیا ہے کہ ان کا قد کچھ آٹھ فٹ لمبا تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ قبر پراسرار طریقے خود توسیع ہو گئی تھی جب میں یہاں پہنچا تو یہ موجودہ تناسب تھا۔[111]

عون الرفيق امیر حجاز نے مقبرہ کو گرانے کی کوشش کی، لیکن عوامی شور وغوغا کی وجہ سے نہ کر سکا۔ اس نے کہا: لیکن آپ کو لگتا ہے کہ 'ہماری ماں اتنی لمبی تھیں؟ اگر حماقت بین الاقوامی ہے تو قبر کو سلامت رہنے دیں۔

شیخ اسد قبرستانترميم

شیخ اسد قبرستان قدیم مکہ روڈ اور باب مکہ کے تقاطع پر موجود ہے۔ [112] یہ قدیم شہر فصیل کے باہر موجود ہے۔ اماں حوا كا قبرستان بھی اس سے زیادہ دور نہیں۔ [113]

جدہ غیر مسلم قبرستانترميم

جدہ غیر مسلم قبرستان کے بارے میں بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں۔ اس قبرستان کے باہر کوئی ایسی علامت یا بورڈ نہیں کہ اس چاردیوری کے اندر ایک قبرستان ہے۔ اس کے چاروں طرف بلند درخت موجود ہیں جن کی وجہ یہ جگہ چھپی ہوئی ہے۔ عربی زبان میں اسے مقبرة الخواجات کہا جاتا ہے۔ [114] [115] یہ بنیادی طور پر ان پرتگیزیوں کی قبریں ہیں جو 1541ء میں جدہ میں عثمانویں سے لڑائی میں مارے گئے۔ تاہم کئی قبریں اس دور کے بعد کی بھی ہیں جن کا تعلق دیگر ممالک سے تھا۔ [116] یاد رہے کہ جدہ کو کئی بار پرتگیزی حملوں کا سامنا رہا۔

عجائب گھرترميم

بیت نصیفترميم

بیت نصیف بلد، جدہ، سعودی عرب میں "نصیف خاندان" کا ایک تاریخی گھر ہے۔ یہ عمر نصیف نے 1881ء میں تعمیر کروایا۔ دسمبر 1925ء میں معرکہ جدہ کے بعد جب عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعود شہر میں داخل ہوئے تو انہوں نے بیت نصیف میں قیام کیا۔ 2009ء میں اسے ایک عجائب گھر میں تبدیل کر دیا گیا۔

تعلیمترميم

تاریخترميم

1926ء میں سلطان نجد عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعود نے مملکت حجاز پر قبضہ کر لیا اور حجاز کی حکومت اور سلطنت نجد کو تحلیل کر دیا اور ایک نئی مملکت مملکت حجاز و نجد کا اعلان کیا جس کے فرمانروا عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعود تھے۔ انہوں نے "مجلس معارف" (تعلیمی کونسل) کی بنیاد رکھی جس کی بنیادی توجہ حجاز میں تعلیم پر مرکوز تھی۔ 1953ء میں سعود بن عبدالعزیز آل سعود نے "مجلس معارف" کو "وزارت تعلیم" میں تبدیل کر دیا اور 24 دسمبر، 1953ء کو فہد بن عبدالعزیز آل سعود کو وزیر تعلیم مقرر کیا۔ لڑکیوں کی تعلیم میں فیصل بن عبدالعزیز آل سعود کا انتیائی اہم کردار رہا۔ 1960ء جب فیصل بن عبدالعزیز آل سعود ولی عہد تھے لڑکیوں کی تعلیم کا علاحدہ عمومی ادارہ "مجلس عمومی برائے تعلیم البنات" (عربی: الرئاسة العامة لتعليم البنات) قائم کیا۔ اسی کے تحت شاہ فیصل کی بیوی ملکہ عفت نے پہلے لڑکیوں کے کالج عفت کالج کی بنیاد رکھی جو اب یونیورسٹی بن چکا ہے۔ 2002ء میں شاہ فہد بن عبدالعزیز آل سعود نے لڑکیوں کے علاحدہ عمومی تعلیمی ادارے کو وزارت تعلیم میں ضم کر دیا۔

ابتدائی اور ثانوی تعلیمترميم

 
الفلاح اسکول، جدہ کا قدیم ترین اسکول

جدہ ایک بین الاقوامی شہر ہے یہاں مقامی لوگوں کے ساتھ غیر ملکی بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ ابتدا میں سرکاری اسکول جن کی تدریسی زبان عربی ہے میں صرف سعودی یا دیگر عرب اقوم کے بچے تعلیم حاصل کرتے تھے۔ دیگر اقوم جن کے لوگ بڑی تعداد میں موجود تھے اپنے مخصوص اسکول قائم کر لیے جن میں پاکستان، بھارت، فلپائن، بنگلہ دیش، ریاستہائے متحدہ اور مملکت متحدہ قابل ذکر ہیں۔ غیر عرب یا ایسے افراد جو اپنے بچوں کو انگریزی تعلیم دلوانا چاہتے ہیں کے لیے حکومت نے یہ اقدام اٹھایا کہ ان تمام اسکولوں کو وزارت تعلیم کے تحت لا کر بین الاقومی اسکولوں کا درجہ دے دیا تا کہ کسی بھی قوم کے بچے یہاں داخلہ لے سکیں۔ تاہم امریکی اور برطانوی اسکولوں کو چھوڑ کر شاذ ناظر ہی کسی دوسری قوم کا طالب علم ان اسکولوں میں داخلہ لیتا ہے۔ تاہم اب کئی نجی اسکول بھی موجود ہیں جن کی تدریسی زبان انگریزی ہے۔ جدہ میں بے شمار اسکول موجود ہیں قابل ذکر اسکولوں کی ایک فہرست مندرجہ ذیل ہے:

مخصوص اقوامی اسکولترميم

دیگر بین اقوامی اسکولترميم

  • الواحہ انٹرنیشنل اسکول
  • بلادی انٹرنیشنل اسکول جدہ
  • یسر انٹرنیشنل اسکول
  • الافق انٹرنیشنل اسکول
  • منارہ جدہ اسکول
  • غرناطہ انٹرنیشنل اسکول
  • بدر انٹرنیشنل اسکول
  • ہالا انٹرنیشنل اسکول

کالج اور جامعاتترميم

سعودی عرب میں اعلیٰ تعلیم کے ادارے بنیادی طور پر سعودی طلبہ کے لیے ہیں۔ عمومی رجحان یہ ہے کہ مقیم غیر ملکی طلبہ اپنے اعلیٰ تعلیم اپنے ممالک یا کسی اور ملک میں حاصل کرتے ہیں۔ مندرجہ ذیل جند اہم جامعات کی فہرست ہے۔

کھیلترميم

فٹ بال سعودی عرب کا قومی اور مقبول ترین کھیل ہے۔ جدہ سعودی عرب کی دو بہترین فٹ بال ٹیموں الاہلی اسپورٹس کلب اور اتحاد کلب کا گھر ہے۔ یہ دونوں ٹیمیں مجموعی طور پر سعودی عرب کے فٹ بال پر چھائی ہوئی ہیں۔ خادم الحرمین الشریفین کپ میں 42 میں سے 22 مرتبہ (الاہلی اسپورٹس کلب جدہ 13 (ریکارڈ) + اتحاد کلب جدہ 9) جدہ کی ٹیم فاتح رہی ہے۔

فٹ بال سعودی عوام میں جنونی حد تک مقبول ہے۔ خادم الحرمین الشریفین کپ کے قائنل کے وقت سڑکوں پر بالکل رش نہیں ہوتا۔ ہر قہوہ خانے، رستورانوں اور پارکوں میں میچ دکھانے کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ مقامی ٹیم کی جیت کی صورت میں ان کے حامی گاڑیوں پر ٹیم کے پرچم اٹھائے شہر کی سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ کلب کے آس پاس کے علاقے میں جانا ایک خاصہ دشوار عمل ہوتا ہے۔ فیفا عالمی کپ سے پہلے بڑے سائر کی ٹیلی ویژن کی خریداری میں بہت اضافہ ہو جاتا ہے۔

شہزادہ عبد اللہ الفیصل اسٹیڈیمترميم

شہزادہ عبداللہ الفیصل اسٹیڈیم سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ میں ایک اسٹیڈیم ہے۔ پہلے صنعتی شہر کے قریب 1970ء میں بننے والا یہ اسٹیڈیم گزشتہ پانچ دہائیوں میں جدہ میں فٹ بال کا مرکز رہا ہے۔ تاہم 2014ء میں بننے والی شاہ عبد اللہ اسپورٹس سٹی نے اس کی جگہ لے لی ہے۔

شاہ عبد اللہ اسپورٹس سٹیترميم

شاہ عبد اللہ اسپورٹس سٹی جس کی عرفیت چمکتا جوہر (عربی: الجوهرة المشعة) ہے جدہ، سعودی عرب سے شمال میں 60 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک کثیر المقاصد اسٹیڈیم اور کھیلوں کا شہر ہے۔ یہ سعودی عرب کے بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود کے نام پر ہے جنہوں نے اس کا افتتاح بھی کیا تھا۔ [117]

صحت عامہترميم

 
رحاب جاگنگ ٹریک، جدہ
 
خواتین کا ایک ورزشی کلب

جدہ میں جگہ جگہ ورزش اور کھیلوں کے نجی کلب بھی قائم ہیں جن میں کافی لوگ مندرج ہیں اور باقائدگی سے ورزش کرتے ہیں۔ حال ہی میں خواتین کے لیے بھی ایسے کلب کھل گئے ہیں جو مملکت میں خواتین کے لیے روشن خیالی کا حصہ ہیں۔

حالیہ برسوں میں جدہ میں ہر علاقے میں جاگنگ ٹریک بنائے گئے ہیں جہاں جاگنگ، سائکل چلانے اور پیدل چلنے کی سہولت کے علاوہ ورزش کی مشینیں بھی رکھی گئی ہیں۔ یہ مقامات عوام میں کافی مقبول ہیں، شام کے بعد یہاں کافی رونق ہوتی ہے۔ یہاں کافی تعداد میں لڑکیاں بھی سائکل چلاتی نظر آتی ہیں جو سعودی عرب کے لیے ایک نئی چیز ہے۔

نقل و حملترميم

فضائیترميم

 
حج ٹرمینل

شاہ عبد العزیز بین الاقوامی ہوائی اڈاترميم

شاہ عبد العزیز بین الاقوامی ہوائی اڈا جدہ کے شمال میں 19 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک بین الاقوامی ہوائی اڈا ہے۔ اس کا نام شاہ عبد العزیز آل سعود کے نام سے منسوب ہے جس کا افتتاح 1981ء میں ہوا۔ یہ سعودی عرب کا مصروف ترین ہوائی اڈا ہے۔ موجودہ ہوائی اڈے کے تین ٹرمینل ہیں:

جنوبی ٹرمینل

اصل میں یہ ٹرمینل صرف سعودی عربین ایئر لائنز کے لیے مختص تھا تاہم 2007ء میں شمالی ٹرمینل پر زیادہ بوجھ کی وجہ سے کچھ اور ایئرلائنز بھی یہاں منتقل کر دی گئیں جن میں فلائی ناس، کینیا ائیرویز، گارودا انڈونیشیا اور کوریا ایئر شامل ہیں۔

شمالی ٹرمینل

ماسوائے وہ ایئرلائنز جن کا ذکر جنوبی ٹرمینل میں کیا گیا ہے باقی تمام بین الاقومی پروازیں شمالی ٹرمینل پر آتی ہیں۔

حج ٹرمینل

یہ ٹرمینل حجاج اور عمرہ زائرین کے لیے مخصوص ہے۔ حج کے دنوں میں کئی خصوصی پروازیں چلائی جاتی ہیں جن کے مسافر یہاں اترتے ہیں۔ دیگر بین الاقوامی پروازوں پر سے حجاج اور عمرہ زائرین کو یہاں اتار لیا جاتا ہے جبکہ باقی مسافروں کو جنوبی یا شمالی ٹرمینل لے جایا جاتا ہے۔

توسیعی منصوبہترميم

نیا شاہ عبد العزیز بین الاقوامی ہوائی اڈا تین مراحل میں ستمبر 2006ء میں شروع ہوا اور اس کی مجوزہ تکمیل 2018ء میں قرار دی گئی ہے۔ [118] 2018ء میں یہاں سے کچھ اندون ملک پروازیں چلائی جا رہی ہیں [119] جبکہ دیگر پروازوں کے لیے 2019ء کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ [120] یہ منصوبہ ہوائی اڈے کی سالانہ صلاحیت کو 13 ملین سے بڑھا 80 ملین مسافروں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حرمین تیز رفتار ریل منصوبہ کو بھی اس سے منسلک کیا گیا ہے جس سے حجاج اور زائرین کو ریل کے ذریعے مکہ اور مدینہ منورہ منتقل کیا جائے گا۔ موجودہ دور میں اس کے لیے بسیں استعمال کی جاتی ہیں۔

السعودیہترميم

السعودیہ سعودی عرب کی قومی ایئرلائن ہے۔ اس کا صدر دفتر جدہ شاہ عبد العزیز بین الاقوامی ہوائی اڈا میں واقع ہے جبکہ دیگر اہم مراکز میں شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈا، ریاض اور شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈا، دمام ہیں۔

بحریترميم

جدہ اسلامی بندرگاہ بین الاقوامی شپنگ کے وسط میں واقع ایک اہم بندرگاہ ہے۔ یہ عرب ممالک کی سب سے بڑی اور مصروف ترین بندر گاہ ہے۔ یہ مقدس شہروں مکہ اور مدینہ منورہ کے لیے سعودی عرب کی بنیادی بندرگاہ ہے۔ بندرگاہ اہم تجارتی مراکز میں سے ایک ہے جس کے ذریعہ سعودی عرب کی درآمدات کا 59٪ کا انتظام کیا جاتا ہے۔ جب سعودی عرب ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہوا تو جدہ بندرگاہ کی اہمیت میں اور اضافہ ہوا جو اب زیادہ سے زیادہ حد کو چھو رہا ہے۔ جدہ اسلامی بندرگاہ کا کل رقبہ 10.5 مربع کلومیٹر ہے اور گہرے پانیوں پر واقع ہے۔ [121]

شارعیترميم

شاہراہ حرمین جدہ کو مکہ اور مدینہ منورہ سے ملاتی ہے۔ تمام حجاج اور عمرہ زائرین اسی کو استعمال کرتے ہوئے حرمین کو روانہ ہوتے ہیں۔ اندرون شہر ٹریفک کے لیے جا بجا پل اور انڈر پاس بنائے گئے ہیں اور کوشش کی گئی ہے کہ کم سے کم ٹریفک اشارے راستے میں آئیں جس کی وجہ سے ٹریفک ہر دم رواں دواں رہتی ہے۔ قدیم شہر کو چھوڑ کر سڑکیں بہت کشادہ ہیں۔

جدہ سعودی عرب کی اہم بندر گاہ ہے جہاں تمام دنیا سے سامان بحری جہازوں سے پہنچتا ہے اور پھر اسے مختلف شہروں کو روانہ کیا جاتا ہے جس لے لیے ایک منظم نظام موجود ہے۔

ریلترميم

 
حرمین تیز رفتار ریل

حرمین تیز رفتار ریل منصوبہ سعودی عرب میں 453 کلو میٹر (281 میل) طویل تیز رفتار بین شہر ریل نظام ہے۔ اس کا افتتاح 25 ستمبر، 2018ء کو ہوا۔ [122] یہ مسلمانوں کے مقدس شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو براستہ شاہ عبداللہ اقتصادی شہر، شاہ عبد العزیز بین الاقوامی ہوائی اڈا، جدہ سے ملاتا ہے۔ گو کہ اس کا افتتاح ہو چکا ہے تاہم ابھی تک جزوی طور پر ہی فعال ہے۔

شاہ عبد العزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نئے ٹرمینل حجاج اور زائرین کو ریل سے ہی حرمین منتقل کیا جائے گا۔ نیا ٹرمینل ابھی صرف کچھ اندرون ملک پروازوں کے لیے قعال ہے جبکہ دیگر پروازوں کے لیے 2019ء کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ [123]

مسائلترميم

پانی کی قلتترميم

 
تحلیہ کا پانی کا ٹینکر

جدہ میں دریا نہ ہونے کی وجہ سے اسے ہمیشہ سے ہی پانی کی قلت کا سامنا رہا۔ عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعود نے جدہ میں عین العزیزیہ کے نام سے ایک وقف ادارہ قائم کیا جس کا کام جدہ کو پانی فراہم کرنا تھا۔ 1970ء کی دہائی کے وسط میں غیر ملکیوں کی ایک بڑی تعداد میں آمد سے شہر کے وسائل پر بہت دباو آیا۔ پانی کی قلت پر قابو پانے کے لیے کئی منصوبوں پر سوچ بچار کیا گیا اور آخر کار سمندری پانی کو ازالہ نمک کے بعد پانی کو قابل استعمال کرنے کا کارخانہ لگایا گیا۔ اس وقت شہر کے شمال، جنوب اور کورنیش پر پانی قابل استعمال کرنے کے کارخانے لگائے گئے ہیں [124] تایم شہر کی وسعت اور آبادی کی وجہ سے اب بھی نا کافی ہیں اور لوگوں کو تحلیہ کمپنی سے پانی کے ٹینکروں سے اپنی ضروریات پوری کرنی پڑتی ہیں۔ اس وقت شعیبہ میں ایک بڑے منصوبے پر کام ہو رہا جو آبی قلت پر کابو پانے میں معاون ہو گا۔ [125] موجودہ ازالہ نمک کارخانوں کی تفصیل درج ذیل ہے:

شمالی ابحر پلانٹ

آبی ذخیرہ: 10,000 مکعب میٹر

کورنیش پلانٹ

آبی ذخیرہ: 2,000 مکعب میٹر

جنوبی جدہ کونیش پلانٹ

آبی ذخیرہ:22,000 مکعب میٹر

سیلابترميم

 
جدہ میں بارشوں سے سیلاب کا ایک منظر
 
جدہ سیلاب
 
جدہ سیلاب

25 نومبر 2009ء کو جدہ اور المکہ علاقہ کے دیگر علاقوں کو ایک شدید سیلاب نے بہت متاثر کیا۔ [126][127] اس سیلاب کو شہری دفاعی حکام 27 سالوں میں بدترین سیلاب بیان کیا۔[128] 26 نومبر 2009ء کو یہ اعلان کیا گیا کہ 77 افراد ہلاک، [129] اور 350 سے زائد لاپتہ تھے۔ [126] کچھ سڑکوں پر 26 نومبر کو ایک میٹر (تین فٹ) زائد پانی کھڑا تھا اور خیال کیا جاتا ہے کہ ہت سے متاثرین اپنی گاڑیوں میں ڈوب گئے تھے۔ کم سے کم 3،000 گاڑیاں بہہ گئیں یا خراب ہوئیں۔ [126][129][130] سیلاب کے باعث اموات کی تعداد میں اضافہ ہوا کیونکہ پانی کم ہونے پر ڈوبی ہوئی گاڑیوں تک پہنچا جا سکا۔ [131]

26 جنوری 2011ء کو ایک بر پھر سیلاب سے جدہ اور المکہ علاقہ کے دیگر علاقے متاثر ہوئے۔ شارع فلسطین، مدینہ روڈ اور شارع ولی عہد سمیت جدی کی سڑکوں پر یا تو پانی بھر گیا ہا اضافی ٹریفک کی وجہ سے جام ہو گئیں۔ بعض علاقوں میں گاڑیاں تیرتی ہوئی بھی دکھائی دیں۔ دریں اثنا عینی شاہدین نے مقامی اخبار عرب نیوز کو بتایا کہ مشرقی جدہ دلدل بن گیا اور سیلابی پانی سڑکوں کو دریاؤں میں تبدیل کر کے سمندر کی طرف بہہ رہا تھا۔

17 نومبر 2015ء ایک بار پھر سیلاب نے آ گھیرا۔ شہر کی اہم سڑکیں دوبارہ زیر آب آ گئیں۔ کئی گاڑیوں کو جلتے ہوئے دیکھا گیا اور بہت سے درخت سیلاب کے نتیجے میں گر گئے۔ [132] 3 اموات کی اطلاع دی گئی۔ دو بد قسمت افراد پر سڑک پار کرتے ہوئی آسمانی بجلی گری۔

21 نومبر 2017ء کو بھاری سیلاب نے ایک بار پھر شہر کو متاثر کیا اور جدہ اسلامی بندرگاہ تقریباً 3 گھنٹوں تک غیر فعال رہی۔ جدہ پولیس کو سڑکوں اور موسمی حالات کے بارے میں انکوائری کرنے والے لوگوں سے 911 پر 11،000 فون کالز وصول ہوئیں۔ [133] کرنٹ لگنے کی 250 اطلاعات ملیں۔

2011ء کے اواخر میں جنوبی جدہ میں سیلاب کے خطرے کو کم کرنے کے لیے طوفان کی نکاسی کا نظام بنایا گیا ہے۔ [134]

نکاسی آبترميم

ابتدا میں جدہ شہر کے بیشتر علاقوں میں نکاسی آب کا نظام سرے سے تھا ہی نہیں۔ گھروں اور عمارتوں کے سامنے زیر زمین حوض بنائے جاتے تھے جس میں استعمال شدہ گندہ پانی جمع ہوتا رہتا تھا۔ اور وہاں سے ایک ٹینکر اس پانی کو اٹھا کر مخصوص مقامات پر لے جا کر ڈال دیتا تھا۔ جہاں پانی کی صفائی کے بعد اسے سمندر میں ڈال دیا جاتا تھا۔

شہر کے کچھ حصوں میں سیویج نطام موجود تھا تاہم بڑھتی ہوئی آبادی ساتھ سیویج نطام میں توسیع نہیں ہوئی۔ اصل پلانٹ اس مقدار میں روزانہ خراب ہانی سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں تھا۔ اس کے نتیجے میں کافی مقدار میں گندا پانی براہ راست سمندر میں ڈالا جاتا رہا اور شہر کے شمالی حصے کو نظام سے مربوط ہی نہیں کیا گیا تھا اور وہ ٹینکر سے ہی گندے پانی کو اٹھوا رہے تھے۔ یہ ہی شہر میں سیویج ٹینکروں کی تعداد بڑھنے کے ذمہ دار ہیں۔

تاہم اب شہر کے زیادہ تر حصے کو سیویج نظام سے منسلک کر دیا گیا ہے جس سے شہر میں اضافی ٹریفک میں کمی اور شہریوں پر سر سے اضافی مالی بوجھ بھی کم ہوا ہے۔

غیر قانوی تارکین وطنترميم

 
غیر قانوی تارکین وطن

جدہ زمانہ قدیم سے ہی حجاج اور زائرین کا سعودی عرب میں داخلہ کا بنیادی مقام ہے۔ اسی لیے بہت سے لوگ حج یا عمرہ کے ویزہ پر مملکت میں داخل ہوتے تھے ویزہ ختم ہونے کے بعد واپس سفر کی بجائے روپوش ہو جاتے تھے۔ گو کہ حکومت کے سخت اقدامات کی وجہ سے اس میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ نئے قوانین کے مطابق کوِئی غیر ملکی صرف اپنے کفیل کے پاس ہی کام کر سکتا ہے بلکہ وہ صرف وہ ہی کام کر سکتا ہے جو اس کے اقامہ پر درج ہو۔ ان قوانین پر سختی سے عمل درامد کے بعد غیر قانوی تارکین وطن نہ ہونے کے برابر ہیں۔ گزشتہ سالوں میں حکومت کئی بار نرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیر قانوی تارکین وطن بغیر جرمانے اور سزا کے واپس وطن جانے سہولت فراہم کرتی رہی ہے۔ جب بھی ایسا اعلان ہوتا ہے تو کئی پلوں نے نیچے ایسے غیر قانوی تارکین وطن ڈیرہ جما لیتے ہیں تاکہ حکومت انہیں پکڑ کر واپس بھجوا دے۔ غیر قانوی تارکین وطن کا مسئلہ بنیادی طور پر صرف جدہ تک محدود ہے کیونکہ مکہ سے جدہ آنا مشکل نہیں کیونکہ سفر کے لیے جدہ جانا ضروری ہے، تاہم ایسے لوگوں کا دوسرے بڑے شہروں مثلاً ریاض یا دمام سفر کرنا ایک دشور عمل ہے۔

انتظامی تقسیمترميم

بلدیہ جدہ 19 ذیلی بلدیات میں منقسم ہے:[135][136][137]

  • ذیلی بلدیہ العزيزيہ
  • ذیلی بلدیہ الشرفيہ
  • ذیلی بلدیہ ثول
  • ذیلی بلدیہ جدہ الجديدہ
  • ذیلی بلدیہ المطار
  • ذیلی بلدیہ الجامعہ
  • ذیلی بلدیہ أبحر
  • ذیلی بلدیہ أم السلم
  • ذیلی بلدیہ البلد
  • ذیلی بلدیہ الجنوب
  • ذیلی بلدیہ ذهبان
  • ذیلی بلدیہ بريمان
  • ذیلی بلدیہ طيبہ
  • ذیلی بلدیہ جدہ التاريخيہ
  • ذیلی بلدیہ المليساء
  • ذیلی بلدیہ أبحر الشماليہ
  • ذیلی بلدیہ الصفا
  • ذیلی بلدیہ خزام
  • ذیلی بلدیہ أبرق الرغامہ

جڑواں شہرترميم

بیرونی روابطترميم

ویڈیوترميم

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. "FaceOf: Saleh Ali Al-Turki, mayor of Jeddah"۔ Arab News (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-05۔
  2. "Population"۔ Statistical Yearbook 50 (2014)۔ Central Department Of Statistics & Information۔ مورخہ 21 فروری 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 فروری 2016۔
  3. "population of the administrative region of Makkah" (پی‌ڈی‌ایف)۔ General authority of statistics۔
  4. "The Saudis may be stretching out the hand of peace to their old foes"۔ دی اکنامسٹ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 ستمبر 2017۔
  5. "Archived copy"۔ مورخہ 2012-07-01 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2010-07-28۔
  6. "2thinknow Innovation Cities™ Emerging 11 Index 2009 - Middle East, Africa and Former USSR States | 2009"۔ Innovation-cities.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-04-17۔
  7. [1] نسخہ محفوظہ 06 نوفمبر 2007 در وے بیک مشین
  8. تاريخ الرسل والملوك - ابن الطبري - ج1 ص43
  9. جدة- معنى الاسم وسبب التسمية وصحتها - أشراف الحجاز نسخہ محفوظہ 20 سبتمبر 2016 در وے بیک مشین
  10. Ibn Battota's Safari. Tuhfat Al-Nothaar Fe Gharaa'ib Al-Amsaar. Chapter: "From Cairo to Hejaz to Tunisia again". ISBN 9953-34-180-X
  11. British Embassy website [مردہ ربط]
  12. "Lost in translation." Brian Whitaker. Guardian (UK). 10 June 2002.
  13. "صحيفة عكاظ - جدة اليوم.. والعم وهيب"۔ Okaz.com.sa۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-04-17۔
  14. "Archived copy"۔ مورخہ 2016-09-20 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-08-08۔
  15. Empty citation (معاونت)
  16. Empty citation (معاونت)
  17. Empty citation (معاونت)
  18. Empty citation (معاونت)
  19. alalamonline۔ "Alamlam Online"۔ alalamonline.net۔ مورخہ 2013-10-29 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-08-13۔
  20. Tom Cooper۔ Wings over Ogaden۔ Helion and Company۔ صفحہ 5۔ آئی ایس بی این 9781909982383۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 فروری 2016۔
  21. [2] نسخہ محفوظہ 12 يونيو 2011 در وے بیک مشین
  22. Rogers, Clifford J. Readings on the Military Transformation of Early Modern Europe, San Francisco:Westview Press, 1995, pp. 299–333 at Angelfire.com
  23. https://www.okaz.com.sa/article/403439
  24. "History of Arabia." Britannica.com.
  25. Makkah Gate in Jeddah. AsiaRooms.com.
  26. Mark A. Caudill۔ Twilight in the kingdom : understanding the Saudis۔ Westport, Conn.: Praeger Security International۔ صفحہ 133۔ آئی ایس بی این 9780275992521۔
  27. C. Edmund Bosworth۔ Historic cities of the Islamic world۔ Leiden: Brill۔ صفحہ 223۔ آئی ایس بی این 9789004153882۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 اگست 2015۔
  28. Leaflet for Khuzam Palace Jeddah, Deputy Ministry of Antiquities & Museums
  29. "Preserving Jeddah's Historic Buildings." نسخہ محفوظہ 2010-01-29 در وے بیک مشین Saudi Arabia, Winter 1999, Volume 15, Number 4. Information Office, Royal Embassy of Saudi Arabia.
  30. The Biet Nassif in Jeddah at www.asiarooms.com
  31. ^ ا ب "Climate Normals for Jeddah"۔ Jeddah Regional Climate Center۔ مورخہ 12 مئی 2012 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 فروری 2013۔
  32. "Climate Data for Saudi Arabia"۔ Jeddah Regional Climate Center۔ مورخہ مئی 12, 2012 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ دسمبر 7, 2015۔
  33. "Monthly Jeddah water temperature chart"۔ Seatemperatures.org۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-01-20۔
  34. Muhammad Al-Sha'afi۔ Foreign Trade of Juddah: During the Ottoman Period 1840-1916۔ King Saud University۔
  35. Commerce of Jeddah. Saudi Arabian Water & Power Forum.
  36. http://jcci.org.sa/English/about/about_the_chamber/Pages/default.aspx
  37. https://www.modon.gov.sa/en/Pages/default.aspx
  38. https://www.modon.gov.sa/en/m/pages/industrialcity.aspx?itemid=18
  39. https://www.modon.gov.sa/en/IndustrialCities/IndustrialCitiesDirectory/IndustrialCities/Pages/Jeddah2nd.aspx
  40. https://www.modon.gov.sa/en/IndustrialCities/IndustrialCitiesDirectory/IndustrialCities/Pages/Jeddah3rd.aspx
  41. Matthew Epstein۔ "Saudi Support for Islamic Extremism in the United States" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Islam Daily۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 اپریل 2012۔
  42. "About IDB"۔ Islamic Development Bank۔ اخذ شدہ بتاریخ مئی 25, 2018۔
  43. About OIC۔ Oic-oci.org. Retrieved on 2014-11-07.
  44. "Archived copy"۔ مورخہ نومبر 29, 2014 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جنوری 26, 2015۔
  45. "About Us"۔ Egatha.org۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-07-24۔
  46. https://www.embassypages.com/city/jeddah
  47. Report about number of mosques. Al-Sharq Al-Awsat Newspaper.
  48. List of Al Baik locations
  49. "Expat Blog Awards 2013"۔ Jeddah Blog۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 مئی 2015۔
  50. https://blog.feedspot.com/middle_east_blogs/
  51. https://www.livelingua.com/arabic/courses/fsi/Saudi_Arabian_Arabic_Course_(Hijazi_Dialect)/
  52. "International Religious Freedom Report 2004"۔ US Department of State۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 ستمبر 2012۔
  53. "World Report 2015: Saudi Arabia"۔ human rights watch۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 اپریل 2017۔
  54. World Report 2018: Saudi Arabia۔ Retrieved فروری 3, 2018.
  55. http://www.moi.gov.sa/wps/wcm/connect/121c03004d4bb7c98e2cdfbed7ca8368/EN_saudi_nationality_system.pdf?MOD=AJPERES&CACHEID=121c03004d4bb7c98e2cdfbed7ca8368 Ministry of the Interior| dead link
  56. "Jeddah"۔
  57. Gilian۔ "Jeddah Waterfront (Corniche)"۔ Words and Wonders (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-01-29۔
  58. Makkah governor opens Jeddah’s new waterfront – Arab news
  59. New Jeddah Waterfront open for visitors – Gulf News
  60. "Jeddah"۔
  61. Gilian۔ "Jeddah Waterfront (Corniche)"۔ Words and Wonders (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-01-29۔
  62. "Makkah governor opens Jeddah's new waterfront"۔ Arab News (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-12-27۔
  63. "New Jeddah Waterfront open for visitors"۔ gulfnews.com (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-12-29۔
  64. ^ ا ب "King Fahd's Fountain in Saudi Arabia"۔ Prosperity Fountain۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 اکتوبر 2013۔
  65. "World Tallest Fountain in Jeddah"۔ Hotel Travel۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 اکتوبر 2014۔
  66. Mughai۔ "Jeddah Fountain – King Fahd's fountain Jeddah – Saudi Arabia"۔ Jeddah Point۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 فروری 2014۔
  67. "6/12 - King Fahd's Fountain, Jiddah"۔ Arabic Media۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 فروری 2014۔
  68. "Jiddah: King Fahd's Fountain"۔ SAMIRAD۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 فروری 2014۔
  69. "Tallest Unsupported Flagpole"۔ Guinness World Records۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-03-09۔
  70. "Flagpole completed"۔ maktoob.news.yahoo.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-09-23۔
  71. "King Abdullah Sports City debuts on مئی 1"۔ Arab News۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-06-05۔
  72. "QNB, NCB top list of biggest GCC banks"۔ ArgaamPlus (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-03-08۔
  73. Ameinfo.com - KRT نسخہ محفوظہ 2011-12-28 در وے بیک مشین
  74. Servcorp.net - KRT نسخہ محفوظہ 2012-10-12 در وے بیک مشین
  75. Description نسخہ محفوظہ 2012-01-12 در وے بیک مشین at Archnet.com with plans and pictures.
  76. Jonathan Jones۔ "Sculptural oasis: why the giants of art made for Jeddah"۔ the Guardian (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-05-22۔
  77. Jeddah Sculpture Park۔ "Sculptures of Jeddah"۔ www.sculpturesofjeddah.com (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-05-25۔
  78. http://www.jeddah.gov.sa/Municipalities/MainInfo/index.php?id=20
  79. العربية نت: حقيقة شارع قابل الذي أنتج تجار نسخہ محفوظہ 04 مارس 2016 در وے بیک مشین
  80. Dahir, Mubarak. "4 hours in Jeddah: Mubarak Dahir discovers Jeddah's intriguing historic neighborhoods and souks time to rwhile finding elax by the city's main attraction, the Red Sea." Business Traveler. 1 August 2004. Retrieved on 25 August 2009.
  81. ^ ا ب Baker, Razan. "Tales of Old Jeddah." عرب نیوز. Thursday 25 January 2007 (06 محرم (مہینہ) 1428). Retrieved on 25 August 2009.
  82. Bradley 14.
  83. Dahir, Mubarak. "4 hours in Jeddah: Mubarak Dahir discovers Jeddah's intriguing historic neighborhoods and souks time to rwhile finding elax by the city's main attraction, the Red Sea." Business Traveler. 1 August 2004. Retrieved on 25 August 2009.
  84. Bradley 14.
  85. Bradley 15.
  86. أمانة جدة: سور جدة وبواباتها
  87. أمانة جدة: سور جدة وبواباتها
  88. أمانة جدة: سور جدة وبواباتها
  89. أمانة جدة: سور جدة وبواباتها
  90. أمانة جدة: سور جدة وبواباتها
  91. http://www.sauditourism.sa/en/ExploreKSA/Events/Pages/HistoricalJeddahFestival.aspx
  92. أمانة جدة: سور جدة وبواباتها
  93. أمانة جدة: سور جدة وبواباتها
  94. أمانة جدة: سور جدة وبواباتها
  95. صحيفة عكاظ: اب مكة يزداد جاذبية بتقادم الزمن [مردہ ربط] نسخہ محفوظہ 05 مارس 2016 در وے بیک مشین
  96. https://www.google.com/maps/place/%D9%85%D8%B3%D8%AC%D8%AF+%D8%A7%D9%84%D8%B4%D8%A7%D9%81%D8%B9%D9%8A%D8%8C+Afif+17571%E2%80%AD/@23.8900462,42.9160326,17z/data=!4m5!3m4!1s0x158fb933dda14da1:0xb9d24d4e76bd1582!8m2!3d23.8900462!4d42.9160326
  97. http://www.alweeam.com.sa/342972/%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%B5%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D9%81%D8%AA%D8%AA%D8%A7%D8%AD-%D9%85%D8%B3%D8%AC%D8%AF-%D8%A7%D9%84%D8%B4%D8%A7%D9%81%D8%B9%D9%8A-%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%A7%D8%B1%D9%8A%D8%AE%D9%8A-%D8%A8/
  98. https://www.youtube.com/watch?v=XO8fmjII7yI&t=5s
  99. أمانة جدة: مساجد جدة التاريخية
  100. الجزيرة نت: جامع المعمار حكاية ثلاثة قرون ونصف نسخہ محفوظہ 02 يوليو 2017 در وے بیک مشین
  101. جريدة الوطن: جامع المعمار التراويح منذ 340 عاما نسخہ محفوظہ 22 يناير 2015 در وے بیک مشین
  102. جريدة الوطن: جامع المعمار التراويح منذ 340 عاما نسخہ محفوظہ 22 يناير 2015 در وے بیک مشین
  103. أمانة جدة: مساجد جدة التاريخية
  104. أمانة جدة: أشهر مساجد جدة القديمة
  105. صحيفة البلاد: مسجد عكاش شاهد على قرنين في تاريخ جدة نسخہ محفوظہ 04 مارس 2016 در وے بیک مشین
  106. الهيئة العليا للسياحة: جدة التاريخية نسخہ محفوظہ 23 أغسطس 2017 در وے بیک مشین
  107. جريدة الوطن: مسجد الحنفي قرن من الخطب والندوات والتراويح
  108. Jayussi, Salma; Manṣūr Ibrāhīm Ḥāzimī; ʻIzzat ibn ʻAbd al-Majīd Khaṭṭāb Beyond the Dunes I B Tauris & Co Ltd (28 اپریل 2006) ISBN 978-1-85043-972-1 p. 34 "eve's+grave"+Jeddah&ots=QpzSehe160&sig=WGdCM0sk2Ht5sE-Qh4Tkq-JC3dU
  109. Burton, Richard Francis The Book Of One Thousand Nights And A Night p. 358 "tomb+of+eve"+Jeddah&num=100&as_brr=3
  110. Angelo Pesce Jiddah: Portrait of an Arabian city، Falcon Press 1974, pages 126-130
  111. Westward to Mecca, Londond 1928, p 216
  112. الهيئة العامة للسياحة : جدة التاريخية نسخہ محفوظہ 23 أغسطس 2017 در وے بیک مشین
  113. http://wikimapia.org/723102/ar/%D9%85%D9%82%D8%A8%D8%B1%D8%A9-%D8%B4%D9%8A%D8%AE-%D8%A7%D9%84%D8%A3%D8%B3%D8%AF-%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%B4%D9%87%D9%88%D8%B1%D8%A9-%D8%A8%D9%85%D9%82%D8%A8%D8%B1%D8%A9-%D8%A7%D9%84%D8%A3%D8%B3%D8%AF
  114. https://www.youtube.com/watch?v=AeESXAKO6nY
  115. https://www.youtube.com/watch?v=-ri1RLu8qrQ&t=11s
  116. https://www.sauress.com/en/saudigazette/102898
  117. "King Abdullah Sports City debuts on مئی 1"۔ Arab News۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-06-05۔
  118. "King Abdulaziz International Airport Development Project"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 جون 2015۔
  119. Saudi Gazette۔ "More flights shifted to new Jeddah airport"۔ Saudigazette (English زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-12-23۔
  120. "King Abdulaziz International Airport Development Project"۔ مورخہ 1 مئی 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 جون 2015۔
  121. "Pages - Information & Services"۔ www.ports.gov.sa (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-05-22۔
  122. King Salman inaugurates Saudi Arabia’s Haramain railway | Arab News
  123. "King Abdulaziz International Airport Development Project"۔ مورخہ 1 مئی 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 جون 2015۔
  124. http://www.sawaco.com/
  125. https://www.swcc.gov.sa/english/Pages/Home.aspx
  126. ^ ا ب پ "Saudi Arabian floods kill 77, leave scores missing"۔ Agence France Presse۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-11-26۔
  127. "Saudi Arabia floods leave 48 dead"۔ BBC News۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 نومبر 2009۔
  128. Ayman Anqawi۔ "Flooding kills 77 in Jeddah, Thousands of pilgrims stranded on highway"۔ Saudi Gazette۔ مورخہ 30 نومبر 2009 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-11-26
  129. ^ ا ب Ibrahim Alawi؛ Eid Al-Harthi۔ "King orders aid for victims, Death toll in Jeddah flooding hits 77"۔ Saudi Gazette۔ مورخہ 2 مارچ 2012 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-11-27
  130. Saleh Al-Zahrani۔ "Damage may top SR1 billion"۔ Saudi Gazette۔ مورخہ 20 مئی 2010 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-11-27
  131. Muhammad Humaidan۔ "Jeddah flood death toll reaches 77"۔ Arab News۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-11-27
  132. http://english.alarabiya.net/en/News/middle-east/2015/11/17/Saudi-crisis-center-urges-all-Jeddah-residents-to-remain-indoors-.html
  133. Fatima Muhammad۔ "Jeddah rains flood streets, met office near airport hit by lightning"۔ Saudigazette (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-11-21۔
  134. Vincent، Peter (2003). "Jeddah's Environmental Problems". Geographical Review (The Geographical Review) 93 (3): 394. doi:10.1111/j.1931-0846.2003.tb00039.x. 
  135. خریطہ البلدیات الفرعیہ۔
  136. وہذہ البلدیات تقسم بدورہا إلى عدہ حارات وأحیاء وہی
  137. http://www.jeddah.gov.sa/Municipalities/index.php
  138. Burak Sansal۔ "Sister cities of Istanbul"۔ Greatistanbul.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-04-17۔
  139. "Sister cities of Taipei"۔ Protocol.taipei.gov.tw۔ مورخہ 2011-07-18 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-04-17۔

کتابیاتترميم