قومی احتساب بیورو

یہ مضمون مکمل نہیں ہے
(قومی احتساب دفتر سے رجوع مکرر)

قومی احتساب بیورو پاکستان کا سرکاری ادارہ ہے، جو بدعنوانی سے متعلق ہے۔ اس کے انگریزی نام (National Accountability Bureau) کا مخفف نیب (NAB) ہے۔ یہ 16 نومبر، 1999ء کو صدارتی فرمان کے اجرا کے ذریعہ معرض وجود میں آیا۔ جو پرویز مشرف کے 12 اکتوبر، 1999ء کی فوجی تاخت کے فوراً بعد ہوا۔

اپنی ویب سائٹ کے مطابق اس کا نصب العین یہ ہے:

بدعنوانی کو ختم کرنے کا کام، بذریعہ بچاؤ، آگاہی، نگرانی، اور حربی، کا احاطہ کرتی ہوئی جامع طریق[1]

سپریم کورٹ کے ریمارکسترميم

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو ملک میں بدعنوان عناصر کا سہولت کار بنا ہوا ہے جس کی وجہ سے بدعنوانی کو جڑ سے اُکھاڑنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

یہ ریمارکس سپریم کورٹ کے جج جسٹس شیخ عظمت سعید نے قومی احتساب بیورو کے 'پلی بارگین' کے اختیار سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران دیے۔[2]

نیب افسران کا حصہترميم

تفتیش کے مرحلے میں پلی بارگین ہونے کے بعد اس معاملے کی تفتیش کرنے والے افسر کو وصول ہونے والی رقم کا 25 فیصد حصہ ملتا ہے۔[3]

مشتاق احمد ریئسانیترميم

بلوچستان کے سابق سیکرٹری خزانہ مشتاق احمد ریئسانی پر 40 ارب روپے کی خردبرد کا الزام تھا۔ نیب نے صرف 2 ارب روپے لے کر اُسے چھوڑ دیا۔ اُس کے گھر چھاپہ مارنے پر 75 کروڑ روپے کی رقم اور سونا برآمد ہوا تھا۔[4]

کمزور ترین احتساب کا ادارہ؟ترميم

وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف دو کیسز، وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف ایک کیس اور وزیر اعظم کے دست راست میاں منشا کے خلاف ایک کیس، یہ چار وہ کیس ہیں جن کی وجہ سے نیب کا ادارہ روزانہ کمزور سے کمزور تر ہوتا جا رہا ہے۔[5]

جسٹس یحییٰ آفریدی کا بیانترميم

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو کوئی ایگزیکیوٹنگ ایجنسی نہیں ہے جو لوگوں کے معاملات طے کریں اور ان کے لیے وصولیاں کریں۔ چیف جسٹس اور جسٹس اکرام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے یہ ریمارکس ایڈووکیٹ شمائل احمد بٹ کی وساطت سے اسٹیل ملز مالکان سے پیسکو کی واجب الادا رقم کی ریکوری کے خلاف دائر رٹ درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے جاری کیے۔[6]

نواز شریف کی نیب کو دھمکیترميم

نواز شریف نے نیب کو یہ تنبیہ کی تھی کہ اگر انھوں نے اپنے معاملات درست نہ کیے تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ نیب کی کاروائیاں "ترقیاتی کاموں" میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔[7]

شہباز شریف کا بیانترميم

20 اکتوبر 2017ء کو روزنامہ جنگ کراچی کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا بیان ہے کہ نیب کرپشن ختم کرنے کی بجائے کرپٹ ترین ادارہ بن چکا ہے۔ تھانے کچہری میں انصاف بکتا ہے۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم