لبابہ بنت الحارث بن حزن بن بجير بْن الہزم بْن رويبہ بْن عَبْد اللَّهِ بن ہلال ابن عامر بن صعصعہ الهلاليہ ۔[1] رسول اللہ ﷺ کی چچی ہیں آپ کی کنیت ام فضل ہے، قبیلہ بنی عامر سے ہیں،حضرت میمونہ کی ہمشیرہ اور سیدنا عباس کی زوجہ ہیں،حضرت عباس کی اکثر اولاد آپ سے ہی ہے،بی بی خدیجہ کے بعد سب سے پہلے عورتوں میں آپ اسلام لائیں،عبد ا ﷲ بن عباس اور فضل ابن عباس جیسے اسلام کے شہزادوں کی ماں ہیں۔[2] ام المؤمنین میمونہ بنت حارث کی بہن تھیں۔[3]

لبابہ بنت حارث
(عربی میں: لبابة بنت الحارث ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 593ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 655ء (61–62 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت خلافت راشدہ   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
شریک حیات عباس بن عبد المطلب   ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد عبد اللہ بن عباس ،  عبید اللہ بن عباس ،  قثم بن عباس ،  عبد الرحمن بن العباس ،  فضل ابن عباس   ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ ہند بنت عوف بن زہیر   ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
پیشہ ورانہ زبان عربی   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نام و نسب

ترمیم

آپ کا نام لبابہ، لقب کبریٰ اور کنیت ام فضل ہیں۔ آپ کے والد کا نام حارث بن حزن جس کا سلسلہ نسب یہ ہے حارث بن حزن بن الہرام بن رویبہ بن عبد اللہ بن ہلال بن عامر اور والدہ کا نام ہند بنت عوف بن زہیر ہے۔ جو قبیلہ کنانہ سے تھیں۔[4]

نکاح اور رشتے دار

ترمیم

آپ کا نکاح حضرت عباس بن عبد المطلب سے ہوا۔ آپ کی بہت سی حقیقی اور اخیافی بہنیں تھیں جو خاندان بنی ہاشم اور قریش کے معزز گھرانوں میں منسوب تھیں۔ چنانچہ میمونہ بنت حارث حضرت محمد ﷺ کے نکاح میں تھیں، لبابہ بنت حارث عم رسول ﷺ عباس بن عبد المطلب کے نکاح میں تھیں، سلمیٰ بنت عمیس عم رسول حمزہ بن عبد المطلب کے نکاح میں تھیں اور اسماء بنت عمیس جعفر طیار کے نکاح میں تھیں۔ اسی بنا پر آپ کی والدہ (ہند بنت عوف) کی نسبت مشہور ہے کہ سسرالی قرابت میں ان کا کوئی نظیر نہیں۔[4]

اسلام

ترمیم

ہجرتِ مدینہ سے پہلے مسلمان ہوئیں۔ ابن سعد کا خیال ہے کہ آپ نے حضرت خدیجہ کے بعد اسلام قبول کیا، باقی اور عورتیں ان کے بعد اسلام لائیں، اس لحاظ سے آپ کے ایمان لانے کا زمانہ بہت قدیم ہو جاتا ہے۔[4]

ام فضل کا عجیب و غریب خواب

ترمیم

سیدہ ام فضل نے ایک عجیب و غریب خواب دیکھا اور آپ اس کی تعبیر معلوم کرنے کے لیے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ! میں نے خواب دیکھا ہے کہ آپ کے جسم کا ایک حصہ میرے گھر میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آپ نے اچھا خواب دیکھا۔ اس کی تعبیر یہ ہے کہ فاطمہ الزہرا کے ہاں لڑکا پیدا ہوگا اور تم اس کو اپنے بیٹے قثم بن عباس کے ساتھ دودھ پلاؤ گی۔ سیدہ ام فضل یہ خوشخبری سن کر گھر سے باہر نکلی۔ تھوڑے عرصے کے بعد حسین بن علی پیدا ہوئے تو سیدہ ام فضل نے اس کی کفالت کی ذمہ داری اپنے ذمے لے لی۔[5]

احادیث میں ذکر

ترمیم

ام فضل بیان کرتی ہیں کہ ایک دن حسین بن علی کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آئی تو آپ ﷺ اس سے پیار کرنے لگے اور اسے چومنے لگے۔ اس نے رسول اللہ ﷺ پر پیشاب کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ام فضل بیٹے کو پکڑیں اس نے مجھ پر پیشاب کر دیا ہے، وہ کہتی ہیں میں نے اسے پکڑا اور اس کو چٹکی کاٹی تو وہ رو پڑا۔ میں نے اسے کہا تو نے رسول اللہ ﷺ پر پیشاب کر کے انھیں تکلیف دی ہے۔ جب بچہ رونے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

تو نے میرے بیٹے کو رلا کر مجھے تکلیف دی ہے۔

پھر رسول اللہ ﷺ نے پانی منگوایا اور کپڑوں پر چھینٹے مار دیے پھر آپ ﷺ نے فرمایا

اگر لڑکا پیشاب کرے تو چھینٹے مار دیا کرو اور اگر لڑکی پیشاب کرے تو کپڑے کو دھو لیا کرو۔

سیدنا عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے، کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

چاروں بہنیں مومن ہیں: "ام فضل، میمونہ، اسماء اور سلمی[5]

حجۃ الوداع

ترمیم

سالم بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ام فضل کے غلام سے، وہ ام فضل سے بیان کرتے ہیں کہ ام فضل نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج بھی کیا ہے۔ چنانچہ حجۃ الوداع میں جب لوگوں کو عرفہ کے دن نبی کریم ﷺ کے صائم ہونے کی نسبت شک ہوا اور ان کے پاس آکر ذکر کیا، تو انھوں نے آپ ﷺ کی خدمت میں ایک پیالہ دودھ بھیجا، آپ ﷺ چونکہ روزہ سے نہ تھے۔ دودھ پی لیا اور لوگوں کو تشفی ہو گئی۔[5]

فضل و کمال

ترمیم

ام فضل نے نبی کریم ﷺ سے 30 حدیثیں روایت کی ہیں راوی اصحاب یہ ہیں۔

عبد اللہ بن عباس، تمام بن عباس، انس بن مالک، عبد اللہ بن حارث بن نوفل، عمیر، کریب اور قابوس۔[4]

آپ ہی وہ خاتون جنھوں نے بیان کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مغرب کی جو آخری نماز پڑھائی اس میں سورہ والمرسلات پڑھی تھی۔[5]

اخلاق

ترمیم

عابدہ اور زاہدہ تھیں۔ ہر دو شنبہ اور پنج شنبہ کو روزہ رکھتی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ سے سے محبت کرتی تھیں، آپ ﷺ اکثر ان کے ہاں جاتے اور دوپہر کے وقت آرام فرماتے تھے۔[4]

وفات

ترمیم

ام فضل نے عثمان بن عفان کے زمانہ خلافت میں وفات پائی، اس وقت حضرت عباس بن عبد المطلب زندہ تھے، حضرت عثمان غنی نے جنازہ کی نماز پڑھائی۔[4]

اولاد

ترمیم

عباس کی اکثر اولاد ام فضل لبابہ بنت حارث کے بطن سے پیدا ہوئیں اور چونکہ سب اولاد نہایت قابل تھی اس لیے آپ بڑی خوش قسمت سمجھی جاتی تھیں۔ آپ کے بطن سے پیدا ہونے والی اولاد میں فضل بن عباس، عبد اللہ بن عباس، عبید اللہ بن عباس، قثم بن عباس، معبد بن عباس، عبد الرحمٰن بن عباس اور ام حبیبہ بنت عباس شامل تھیں۔

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. أسد الغابة المؤلف: أبو الحسن عز الدين ابن الأثير، الناشر: دار الفكر - بيروت
  2. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد 8 صفحہ590
  3. التاريخ وأسماء المحدثين وكناهم المؤلف: محمد بن أحمد بن محمد، أبو عبد اللہ المقدمي
  4. ^ ا ب پ ت ٹ ث سیرہ الصحابہ جلد ششم صفحہ 108 اور 109
  5. ^ ا ب پ ت صحابہ کرام کی عظیم مائیں صفحہ 27 تا 29