مرکزی مینیو کھولیں
حمزہ بن عبد المطلب
(عربی میں: حمزة بن عبد المطلب ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Hamza Bin Abd Al-Mottalib Name.png 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 570  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ[1]  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 30 مارچ 625 (54–55 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جبل احد  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات لڑائی میں مقتول  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قاتل وحشی بن حرب  ویکی ڈیٹا پر قاتل (P157) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ سلمیٰ بنت عمیس  ویکی ڈیٹا پر شریک حیات (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد امامہ بنت حمزہ  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد عبد المطلب  ویکی ڈیٹا پر والد (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ ہالہ بنت وہب  ویکی ڈیٹا پر والدہ (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
عملی زندگی
پیشہ شکاری، مصنف  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوہ احد، سریہ حمزہ ابن عبد المطلب، غزوۂ بدر  ویکی ڈیٹا پر لڑائی (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

حمزہ بن عبد المطلب (پیدائش: 568ء یا 570ء– وفات: 30 مارچ 625ء) حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچا اور رضاعی بھائی ہیں دونوں نے ثویبہ جو ابو لہب کی لونڈی تھی کا دودھ پیا تھا۔[2] بعثت کے دو برس بعد جب ابوجہل حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مخالفت میں حد سے تجاوز کر گیا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حمایت کے جوش میں اسلام قبول کر لیا۔ بے حد جری اور دلیر تھے۔ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ مدینہ کو ہجرت کی۔ جنگ بدر میں حصہ لیا اور خوب داد شجاعت دی۔

شہادتترميم

جنگ احد میں وحشی نامی غلام کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ ابوسفیان کی بیوی ہندہ نے غزوہ احد میں اپنے ایک غلام وحشی کو ان کے قتل پر مامور کیا جس نے آپ پر چھپ کر نیزہ پھینکا۔ جب وہ شہید ہو گئے تو اس نے ان کا کلیجا نکال کر کچا چبایا اور ان کی لاش کا مثلہ کیا۔ اس کا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بے حد رنج تھا۔

سید الشہداءترميم

عباس سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایاکہ سَيِّدُ الشُّهَدَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَۃ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَرَجُلٌ قَامَ إِلَى إِمَامٍ جَائِرٍ، فَنَهَاهُ وَأَمَرَهُ، فَقَتَلَہ قیامت کے دن سید الشہداء (شہید وں کے سردار) حمزہ بن عبد المطلب ہیں اور دوسرا وہ شخص ہے جس نے ظالم بادشاہ کو نیکی کا حکم دیا اور برائی سے منع کیا تو بادشاہ نے اسے قتل کروا دیا۔[3] دوسری صحیح حدیث میں ہے سَيِّدُ الشُّهَدَاءِ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَۃ حَمْزَةُ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن سید الشہداء حضرت حمزہ ہوں گے۔[4]فاطمہ خزاعیہ کا بیان ہے کہ میں ایک دن حضرت سید الشہداء جناب حمزہ کے مزار اقدس کی زیارت کے لیے گئی اورمیں نے قبر منور کے سامنے کھڑے ہو کر اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَمَّ رَسُوْلِ اللہ کہا تو آ پ نے بآواز بلند قبر کے اندر سے میرے سلام کا جواب دیا جس کو میں نے اپنے کانوں سے سنا۔[5]

حوالہ جاتترميم

  1. http://www.islamicthinkers.com/index/index.php?option=com_content&task=view&id=261&Itemid=26
  2. مواہب اللدنیہ ،امام قسطلانی،جلد اول مقصدثانی صفحہ 589 فرید بکسٹال لاہور
  3. المعجم الأوسط المؤلف: سليمان بن أحمد أبو القاسم الطبرانيُ ناشر: دار الحرمين – القاهرہ
  4. المستدرك على الصحيح المؤلف: أبو عبد اللہ الحاكم محمد بن عبد اللہ بن محمد بن حمدويہ بن نُعيم بن الحكم الضبي الطهماني النيسابوري المعروف بابن البيع الناشر: دار الكتب العلميۃ - بيروت
  5. حجۃ اللہ علی العالمین، الخاتمۃ فی اثبات کرامات الاولياء۔.۔ الخ، المطلب الثالث ،ج2،ص863