مالیگاؤں

صنعتی شہر (ناشک، مہاراشٹر)

[1]مالیگاؤں (انگریزی: Malegaon) بھارت کا ایک رہائشی علاقہ جو مہاراشٹر کے ضلع ناسک میں واقع ہے۔[2]

مالیگاؤں
مالیگاؤں ( मालेगाव )(مالیگاؤں)
Malegaon
شہر
Malegaon Fort
Malegaon Fort
عرفیت: Manchester Capital Of India
ملکFlag of India.svg بھارت
ریاستمہاراشٹر
ضلعNashik
تحصیلMalegaon
حکومت
 • قسمMunicipal Corporation
 • میئر صاحبہTahera Shaikh Rasheed
آبادی (2011 census)
 • شہر471,006
 • درجہ94
 • میٹرو576,425
زبانیں
 • Most Widely SpokenUrdu
منطقۂ وقتبھارتی معیاری وقت (UTC+5:30)
ڈاک اشاریہ رمز423203
رمز ٹیلیفون91 2554-xxxxxx
گاڑی کی نمبر پلیٹMH-41
ویب سائٹhttp://www.malegaoncorporation.com/ http://www.mlmcelection.org/


شہر کا تعارفترميم

مالیگاؤں بھارت کی ریاست مہاراشٹر کے ضلع ناسک کا ایک شہر اور میونسپل کارپوریشن ہے۔ ایک مسلم اکثریتی شہر ، مالیگاؤں شہر پاور لوم صنعت کے، ٹیکسٹائل مرکز کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مالیگاؤں ناسک شہر کے بعد ناسک ضلع کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے اور شمالی مہاراشٹر کے سب سے بڑے شہروں میں سے ایک ہے۔ شہر میں ہر مذہب کے ماننے والے ایک ساتھ اپنا کاروبار کرتے ہیں جیسے مسلم بنکر، مسلم مزدور، مسلم تاجر، ویسے ہی ہندو بنکر، ہندو مزدور، ہندو تاجر، دونوں تانے بانے کی طرح اپنے کاروبار کو چلاتے ہیں شہر میں مسلم اکثریت اور ہندو اقلیت ہونے کے باوجود بھی کسی قسم کی کوئی واردات نہیں ہوتی دونوں ہی مذہب کے ماننے والے ایک دوسرے کا بڑا احترام بھی کرتے ہیں جو اس شہر کی سب سے بڑی پہچان ہے مالیگاؤں شہر میں سب سے زیادہ پاور لوم ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ کپڑا تیار کرنے والے بنکر اس شہر کی اصل روح کہلاتے ہیں شہر میں مساجد، و مندر بے شمار پائے جاتے ہیں یہاں کبھی راجہ نارور شنکر کے نام سے مشہور زمینی قلعہ موجود ہے اس کے ایکدم سامنے مالیگاؤں کی میونسپل کمیٹی بنائی گئی تھی ١٧ دسمبر ٢٠٠١ میں مالیگاؤں کارپوریشن کا وجود عمل میں آیا اس شہر کے پہلے اولین میئر جناب نہال احمد مولوی عثمان بنائے گئے جو ١٩٩٩ میں شیخ رشید حاجی شیخ شفیع کے سامنے اسمبلی الیکشن ہار گئے تھے،


[2]

آبادیترميم

مالیگاؤں کی مجموعی آبادی 771,006 افراد پر مشتمل ہے۔ مالیگاؤں پاور لوم صنعت کے لیے یہ شہر مشہور ہے اور پاور لوم مزدوروں کی تعداد کافی ہے صنعتی شخص کو بنکر کہا جاتا زیادہ تر لوگ اسی پیشے سے منسلک ہے۔


مالیگاؤں شہر میں زمینی قلعہ موجود ہے

مالیگاؤں شہر میں ہر دوسرے شخص کے ہاتھ میں موبائل فون اور انٹرنیٹ مل جائے گا۔

مالیگاؤں بھارت کی ریاست مہاراشٹر کے ضلع ناسک کا ایک شہر اور میونسپل کارپوریشن ہے۔ ایک مسلم اکثریتی شہر ، مالیگاؤں مہاراشٹر کے ٹیکسٹائل مرکز کے نام سے جانا جاتا ہے۔  مالیگاؤں ناسک شہر کے بعد ناسک ضلع کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے اور شمالی مہاراشٹر کے سب سے بڑے شہروں میں سے ایک ہے۔

مذہب : ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی، بدھ مذہب کے ماننے والے سب اس شہر میں قائم ہے سب مذہب کے ماننے والے یہاں پر سب ایک ساتھ ملکر رہتے ہیں مسلمانوں کی تعداد ہندؤوں کے مقابلے زیادہ ہے یہاں پر کارپوریشن میں میئر مسلم اور ڈپٹی میئر ہندو سماج کے ہے یہاں ملک جب سے ہندوستان آزاد ہوا ہے جب سے مسلمانوں نے میونسپلٹی یا کارپوریشن پر ہمیشہ اقتدار حاصل کیا ہے۔

تاریخترميم

مالیگاؤں (پہلے مالیگاؤں [2]) موسم (پہلے ماؤسی [2]) اور گرنا ندیوں کے سنگم پر۔

ممبئی اور آگرہ کو جوڑنے والی سڑک پر - جو اب قومی شاہراہ نمبر 3 ، NH3 ہے - یہ ایک چھوٹا سا جنکشن ہوتا تھا جو مالیواڑی (باغات کا گاؤں) کے نام سے جانا جاتا ہے۔  اس نے تیزی سے روزگار کے ذریعہ ہونے کی وجہ سے یہ ساکھ 1740 میں حاصل کی جب ایک مقامی جہاگردار ، نورو شنکر راجی بہادر نے اس علاقے میں ایک قلعہ تعمیر کرنا شروع کیا۔  چونکہ اس قلعے کو 25 سال ہوئے ، سورت اور شمالی ہندوستان جیسے مقامات سے بڑی تعداد میں مسلمان کارکن اور کاریگر اس علاقے میں آباد ہوئے۔ [حوالہ کی ضرورت]
سن 1818 میں مالیگاؤں قلعے پر انگریزوں کے قبضے کے بعد ، حیدرآباد سے مسلمان خطے میں ہجرت کر گئے۔  1857 کے بغاوت میں شمال سے آنے والے بہت سارے مسلمان یہاں منتقل ہوتے ہوئے دیکھے گئے ، اور یہ انداز کئی سالوں میں دہرایا گیا۔  مالیگاؤں ، اس کی بڑھتی ہوئی مسلم موجودگی کے ساتھ ، جب بھی اس کو تبدیلیاں پیش آتی ہیں ، معاشرے کے لئے ایک پناہ گاہ اور روزگار کا ایک ذریعہ بن جاتا ہے۔  اگر 1862 میں قحط نے وارانسی کے علاقے میں مسلمان بننے والوں کو مالیگاؤں جانے پر مجبور کردیا ، تو 1940 ء اور 1950 کی دہائی کے آخر میں حیدرآباد میں ہونے والی سیاسی ہلچل نے شہر کو بھی اسی طرح کا خاکہ دیکھا۔  خاص طور پر 1960 کے عشرے کے بعد فرقہ وارانہ فسادات نے بلاشبہ مالیگاؤں جانے والے مسلمان تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔ [حوالہ ضروری]

جغرافیہترميم

اردو اخباراتترميم

  • مالیگاؤں شہر کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اردو اخبار،


  • ڈیلی روزنامہ، مرحوم رشید قادری صاحب
  • نشاط نیوز احسان الرحیم صاحب
  • ترجمان اردو، یوسف صاحب
  • ڈسپلن کلیم دانش صاحب
  • شامنامہ ڈاکٹر ریاض احمد صاحب
  • یہ پانچ اخبار پابندی و کامیابی سے نکل رہے ہیں۔
  • سہ روز میدان صحافت، شہزاد اختر

..... ہفت روزہ اخبارات میں

  • بیباک،
  • عوامی آواز،
  • شہریار،
  • ہاشمی آواز،
  • خیراندیش،
  • البیان

وغیرہ اپنی اپنی ریڈرشپ کے ساتھ شہر کے مذہبی، ادبی اور سیاسی حلقوں میں اپنا نام رکھتے ہیں

معیشتترميم

انڈسٹری ایڈٹ

 مالیگاؤں 20 ویں صدی کے اوائل میں بجلی کے لومز کا استعمال کرتے ہوئے کپڑے باندھنے کا ایک اہم مرکز ہے۔ شہر میں بجلی کے لمحوں کا دور 1935 کے بعد ابھرا۔ مہاراشٹرا میں مالیگاؤں روایتی ہینڈلم بُننے کا مرکز تھا۔ سوت کو نشاستہ بنانا ، نلیاں کے اوپر منتقل کرنا ، اور طنابانہ تیار کرنے سے پہلے بیشتر تیاری کا کام خواتین کرتے تھے۔ بجلی کے لومز متعارف کروانے کے بعد بھی ، خواتین بنائی کے طریقہ کار میں مردوں کی مدد کرتی رہیں۔ [ ]

پاور لومز کے تعارف کے ساتھ ہی مالیگاؤں میں کپڑوں کی صنعت میں اضافہ پیداوار کی وجہ سے ہوا۔ بہت سے لوگوں نے بجلی کے لومز خریدے اور بہت کم لوگ ہینڈلوم کے ساتھ رہ گئے۔ اس کا تخمینہ ہے کہ روزانہ 3 لاکھ پاور لومز لگ بھگ 1 کروڑ (10 ملین) میٹر کپڑا تیار کرتے ہیں۔ رہائش کی کم لاگت اور مسلم غلبے کی وجہ سے یہ آس پاس کے مزدوروں ، یوپی ، خاندش اور دکن سے نقل مکانی کرنے والے زیادہ تر افراد کو راغب کرتا ہے۔ [ ]

حالیہ دنوں میں ، حکومتی پالیسیاں اتار چڑھاؤ ، بجلی کی بار بار بندش ، سیاسی عزم کا فقدان ، ہر مرحلے میں مڈل مین اور جدید مشینوں کی طرف نقل مکانی کرنے میں ہچکچاہٹ جیسے عوامل کی وجہ سے پاور لوم صنعت مشکل مرحلے سے گذر رہی ہے۔ []] اگرچہ یہ اب بھی روزگار کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے ، لیکن بیشتر مزدور معاش کے حصول کے لئے جدوجہد کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ، شہر میں ہجرت کے انداز میں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے جس میں کارکن بہتر اور مستحکم ملازمت کے مواقع کے لئے مالیگاؤں کے مقابلے میٹرو میں جانے کو ترجیح دیتا ہے۔

دیر سے مالیگاؤں [ کب؟ ] متنوع رہا ہے اور نئی صنعتیں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ پیویسی پائپ مینوفیکچرنگ ایسی ہی ایک صنعت ہے۔ مالیگاؤں جلد ہی پیویسی پائپوں کا ایک علاقائی مرکز بننے لگا ہے۔

مولی ووڈترميم

مولی ووڈ فلم انڈسٹری


  • مالیگاؤں کی بدنام زمانہ فلمی فلم سپوف انڈسٹری نے ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کے بہت سارے کلاسک کرداروں کو سیٹلائٹ قصبے مالے گاؤں میں متعارف کرایا ہے جس میں ان کو اپنا مکالمہ ، انداز ، حالات اور کھانا پیش کیا گیا ہے۔ جیسے فرقے جھانسے ساتھ مقامی تخیل کو فتح کرنے کے بعد مالیگاؤں کی شعلے ، مالیگاؤں کی کرن ارجن ، مالیگاؤں کا جیمز بانڈ اور سوپر مین کے مالیگاؤں کے ، مفلس فلم ساز [ کون؟ ] مالیگاؤں کا چنٹو کے دوسرے ورژن کے ساتھ قومی ٹیلی وژن پر بھی اپنا کردار ادا کیا ، چنٹو بن گیا جنٹلمین ، مسٹر بین پر خاموش مزاحیہ فلم۔

مالیگاؤں میں اسکائی ویو پکچرز نامی ایک عملہ فلمیں بناتا اور بناتا ہے۔ انہوں نے کئی شارٹ فلمیں بنائیں ہیں جیسے دلیج ، کالر ٹیونز ، دی لوسٹ پریمی ، اور آزادی ۔ عملہ فی الحال اپنی اگلی فیچر فلم پر کام کر رہا ہے۔ [7]

مالی ووڈ کے فنکار روزانہ اجرت پر کام کرتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر کردار نبھانے والے افراد وہ ہے جو روانہ سبزیاں بیچتے، مالیگاؤں میں پاور لوم چلانے والے افراد کام کرتے ہیں، ان میں زیادہ تر لوگ روزانہ کھانے پینے کی اشیاء یا چائے کے اسٹال چلانے کا ذریعہ معاش حاصل کرتے ہیں۔ کریڈٹ میں ان کے نام ان کے پیشوں کی عکاسی کرتے ہیں ، جیسے سلیم الیکٹرکین ، اقبال چائے والا ، بادشاہ خان ، یا ظہیر سائیکل والا۔ چونکہ مولی ووڈ کی فلمیں پورے ہندوستان میں ریلیز نہیں ہوتی ہیں ، اس وجہ سے وہ زیادہ پیسہ نہیں لیتے ہیں۔ فلمیں بنانے کی خواہش تقریبا ہمیشہ ہی ذاتی شوق کے ساتھ ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر مالیگاؤں کی کرن ارجن 50،000 روپے کے بجٹ پر تیار کی گئی تھی اور اس کی فروخت قیمت تقریبا 2،50 لاکھ روپے بناتی گئی تھی۔

مالی ووڈ کے ابتدائی دنوں میں ، مالیگاؤں کے مقامی اداکار بغیر کسی فیس کے فلم میں کام کرنے کے لئے پرجوش تھے۔ بعد میں یہ ایک رجحان تھا کہ اداکاروں کو کام کرنے کا معاوضہ نہیں دیا جاتا تھا۔ "اے ڈی ڈی فلمز" پروڈکشن کے مالک اتول دوسانے مالیگاؤں میں پہلے تھے جنہوں نے اداکار ، عملہ اور کاسٹ ادا کرنا شروع کیا۔ تب سے اداکاروں کو کام کے لئے معاوضہ دیا جارہا ہے۔ []

مرد اداکار مقامی ہیں ، کچھ بڑے اسٹار ، جیسے سپر اسٹار سارتک ناگ پال ،آصف جینیا ، شفیق چھوٹو ، بادشاہ خان ، رمضان شاہ رخ۔ لیکن مالیگاؤں کا مذہب پسند معاشرہ مقامی خواتین کو فلموں میں اداکاری کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے ، لہذا اداکارہ زیادہ تر جلگاؤں کی ہی رہتی ہیں۔ []

مذہب اور آبادیاتترميم

ماجد سید جاری ہےترميم

اس ناچیز کو بھلے ہی علم غیر معمولی طور پر حاصل ہوا ہے بندہ مصروف کی وجہ سے وقت نکال کر ان شا اللہ جلد ہی اس مضمون کو ممکل کرنے کی کوشش ضرور کریں گا دعا کا طلبگار ماجد سید پترکار

مالیگاؤں حلقہ انتخاب ممبران اسمبلی کی کارپوریشن میئرترميم

  • 1952: محمد صابر عبد الستار، انڈین نیشنل کانگریس
  • 1962: ہارون انصاری ، انڈین نیشنل کانگریس
  • 1967: نہال احمد مولوی محمد عثمان، پرجا سوشلسٹ
  • 1972:: عائشہ حکیم صحیبہ، انڈین نیشنل کانگریس
  • 1978: نہال احمد مولوی محمد عثمان، جنتا دل سیکولر
  • 1980: نہال احمد مولوی محمد عثمان، جنتا دل سیکولر
  • 1985: نہال احمد مولوی محمد عثمان، جنتا دل سیکولر
  • 1990: نہال احمد مولوی محمد عثمان، جنتا دل سیکولر
  • 1994:نہال احمد مولوی محمد عثمان، جنتا دل سیکولر
  • 1999:شیخ رشید حاجی شیخ شفیع، انڈین نیشنل کانگریس
  • 2004:شیخ رشید حاجی شیخ شفیع، انڈین نیشنل کانگریس
  • 2009: مفتی محمد اسماعیل عبدالخالق، جن سوراج شکتی پارٹی
  • 2014:آصف شیخ رشید، انڈین نیشنل کانگریس
  • 2019: مفتی محمد اسماعیل عبدالخالق، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین۔
  • مالیگاؤں کارپوریشن ٢٠٠٢ سے اب تک
  • جناب نہال احمد صاحب 2002
  • جناب آصف شیخ رشید صاحب 2004
  • جناب نجم الدین صاحب 2007
  • جناب عبدالمالک یونس عیسی صاحب 2009
  • محترمہ طاہر شیخ رشید صاحبہ 2012
  • جناب حاجی محمد ابراہیم صاحب 2015
  • جناب شیخ رشید صاحب 2017
  • محترمہ طاہر شیخ رشید صاحب 2019..... جاری

تفصیلی مضمون جاری ماجد سید


صنعتترميم

جاری ہے


مالیگاؤں بم دھماکےترميم

مرکزی مضمون: 29 ستمبر 2008 مغربی ہندوستان بم دھماکے

29 ستمبر 2008 کو ، ریاست گجرات اور مہاراشٹر میں تین بم دھماکے ہوئے دھماکے میں شہید ہونے والے آٹھ افراد تھے اور 80 زخمی ہوئے۔

مہاراشٹر میں تفتیش کے دوران ، ایک ہندو گروہ پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ ان دھماکوں میں ملوث تھا۔ گرفتار ملزمان میں سے تین کی شناخت سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر ، شیو نارائن گوپال سنگھ کلسنگھرا ، اور شیام بھور لال ساہو کے نام سے ہوئی ہے۔

ان تینوں کو ناسک میں چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا ، جس نے انہیں 3 نومبر تک ریمانڈ پر بھیج دیا۔

28 اکتوبر کو ، شیوسینا، نے ملزمان کی حمایت میں یہ کہتے ہوئے اپنے اخبار سامنا میں لکھا کہ گرفتاریاں سیاسی نوعیت کی تھیں۔ فرقہ وارانہ ہندوتوا شیوسینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ سیاسی دشمنی کی وجہ سے گرفتاری ہوئی ہے۔

کیونکہ سیکولر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) نے متعلقہ وزارت کو کنٹرول کیا۔ قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کو سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کے خلاف شواہد ملے ہیں اور اس نے عدالت کو ان کے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کے خلاف کارروائی کرنے کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ ماجد سید 

بھارتی آرمی لیفٹیننٹ کرنل پرساد شری کانت پروہت بھی دھماکے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا. ان کے وکیل نے الزام لگایا کہ انہیں سیاسی وجوہات کی بناء پر جھوٹے مقدمے میں پھنسا گیا ہے کیونکہ ان کے پاس سناتن سنستھا اور بجرنگ دل سے متعلق حساس نوعیت کے خفیہ اعداد و شمار موجود ہیں جو کچھ حلقوں کو شرمندہ تعبیر کرسکتے ہیں۔ 21 اگست ، 2017 کو انھیں نو سال مقدمے کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے ضمانت پر بھیج دیا۔


مالیگاﺅں دھماکوں کی تفتیشترميم

8 ستمبر 2006ء کو مہاراشٹر کے شہر مالیگاؤں میں سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے۔ پولیس نے ان دھماکوں کے الزام میں مسلم نوجوانوں کو گرفتار کر لیا جبکہ حقیقت میں ان دھماکوں کے شکار مسلمان تھے اور جن گاڑیوں پر بم رکھے گئے تھے وہ ہندو ناموں سے مندرج تھے۔ 29 ستمبر 2008ء کو موڈاسا، گجرات اور مالیگاﺅں، مہاراشٹر میں تین بم دھماکے ہوئے جن میں آٹھ افراد جاں بحق اور اسی زخمی ہوئے۔ نیز ان کے بعد احمدآباد، گجرات میں متعدد سالم بم بھی ملے۔ اے ٹی ایس کے صدر کی حیثیت سے ہیمنت کرکرے نے مالیگاﺅں بم دھماکوں کی تفتیش کا آغاز کیا۔ اکتوبر 2008ء کے اواخر میں اے ٹی ایس نے گیارہ مشکوک افراد کو گرفتار کیا، یہ سب ہندو تھے، ان میں قابل ذکر افراد اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کی سابق طلبہ رہنما سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، سوامی امریتانند، وظیفہ یاب میجر رمیش اپادھیائے اور حاضر سروس فوجی افسر لیفٹیننٹ کرنل پرساد شری کانت پروہت تھے۔ ملزموں میں سے بیشتر افراد کا تعلق شدت پسند ہندوتو حلقے ابھینو بھارت سے تھا۔ کرکرے کے زیر قیادت اے ٹی ایس نے پہلی مرتبہ بھارت میں موجود ہندوتو تنظیموں کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کو بے نقاب کیا، اسی کے بعد سیاسی افراد اسے ہندوتو دہشت گردی یا زعفرانی دہشت گردی سے تعبیر کرنے لگے۔

حزب مخالف بشمول بھارتیہ جنتا پارٹی و شیو سینا اور ہندو تنظیموں نے الزام دھرا کہ یہ گرفتاریاں موجودہ حکومت کے دباؤ میں کی گئی ہیں تاکہ ان کے ذریعہ بھارت کی مسلم آبادی کو خوش کیا جا سکے۔ چنانچہ ان سیاسی جماعتوں نے ہیمنت کرکرے کو اس سمت تفتیش کرنے کی بنا پر ملک کا غدار قرار دیا۔ گجرات کے اُس وقت کے وزیر اعلی نریندر مودی نے اے ٹی ایس پر فوج کے حوصلے کو پست کرنے کا الزام عائد کیا۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے متعدد رہنماؤں نے کہا کہ اے ٹی ایس کو سنگھ پریوار پر حملے کے لیے بطور آلہ استعمال استعمال کیا جا رہا ہے۔


تنازعاتترميم

مالیگاﺅں بم دھماکے کی ملزمہ سادھوی پرگیہ سنگھ جسے اس معاملے میں ممبئی ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے سے قبل آٹھ برس کی سزا سنائی گئی تھی، اس نے ہیمنت کرکرے پر تشدد کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اس نے میرے منہ میں جبراً گوشت کا ٹکڑا رکھا، میرے مذہبی اسباب چھینے اور پاؤں توڑے۔

تعلیمترميم

جامعہ محمدیہ منصورہترميم

  • محمدیہ طبیہ کالج
  • مولانا مختار احمد ندوی ٹیکنیکل کیمپس
  • عبد اللطيف بن علي الشايع فیکلٹی آف انجینئری اینڈ ٹیکنالوجی
  • لؤلؤة يوسف بودي پولیٹیکنک
  • محمد بن ناصر الساير کالج آف اسلامک لا (اسلامی شریعت)
  • کلیہل عائشہ صدیقہ للبنات
  • اسماء خاتون جونیر کالج
  • محمدیہ اردو پرائمری سکول
  • محمدیہ اردو ہائی اسکول
  • ثناء اردو پرائمری اسکول

تفصیلاتترميم


مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. استشهاد فارغ (معاونت) 
  2. ^ ا ب انگریزی ویکیپیڈیا کے مشارکین. "Malegaon".