ماوراء النہر (Transoxiana)وسط ایشیا کے ایک علاقے کو کہا جاتا ہے جس میں موجودہ ازبکستان، تاجکستان اور جنوب مغربی قازقستان شامل ہیں۔ جغرافیائی طور پر اس کا مطلب آمو دریا اور سیر دریا کے درمیان کا علاقہ ہے، جہاں پہلے یہ ملک آباد تھا ماوراء النہر کے اہم ترین شہر سمرقند اور بخارا،خجند،اشروسنہ اور ترمذ شامل تھے۔ پانچ صدیوں تک یہ ملک اسلامی ایران اور عالم اسلام کا متمدن ترین ملک رہا ہے یہ بہت مشہور بزرگ علما ،دانشور، درویش اور اولیاء اللہ کا مدفن و مسکن رہا۔1917ء تا 1989ء تک روسی تسلط میں رہا اب ازبکستان کا حصہ ہے۔[1]

نقشہ جس میں جدید ماوراء النہر کو ظاہر کیا گیا ہے

فارسی کے معروف شاعر فردوسی کے شاہنامے میں بھی ماوراء النہر کا ذکر ہے۔

چنگیز خان نے 1219ء میں خوارزم شاہی سلطنت کی فتح کے موقع پر ماوراء النہر کو زیر نگیں کیا اور اپنی وفات سے قبل مغربی وسط ایشیا اپنے دوسرے بیٹے چغتائی خان کو سونپ دیا جس نے علاقے میں چغتائی سلطنت قائم کی۔

امیر تیمور نے ماوراء النہر کے شہر سمرقند کو تیموری سلطنت کا دار الحکومت بنایا۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. شرح کلام جامی ڈاکٹر شمس الدین،صفحہ 1120،مشتاق بک کارنرلاہور