محمد یوسف شمس فیض آبادی

عالم دین

مولانا محمد یوسف شمس فیض آبادی[1][2][3][4][5][6] (ولادت: 1882ء - وفات: 1938ء)[5] برطانوی ہند میں عالم دین تھے۔[1] آپ شجاع الدولہ اودھ و عامر فیض آبادی کے خاندان سے تھے۔[1] شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری نے آپ کو حسان کے خطاب سے سرفراز فرمایا تھا۔[7] مولانا محمد یوسف شعر وسخن کا عمدہ ذوق رکھتے تھے۔ آپ خود شعر لکھتے اور آل انڈیا اہلحدیث کانفرنس کے سالانہ جلسوں میں آپ کی نظمیں بڑی توجہ سے سنی جاتی تھی۔

محمد یوسف شمس فیض آبادی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1882  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فیض آباد  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1938 (55–56 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فیض آباد  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ عالم،  مصنف،  شاعر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

سلسلہ نسبترميم

محمد یوسف بن نواب محل صاحب بن نواب آغا محمد بن نواب اصغر الدین حیدر بن نواب سراج الدین حیدر بن نواب شجاع الدولہ اودھ و عامر فیض آبادی۔[1]

ابتدائی زندگی اور تعلیمترميم

مولانا محمد یوسف 17 ذی الحج 1300ھ مطابق 1882ء کو بھارت کی ریاست اتر پردیش کے فیض آبادی شہرمیں ایک شیعہ گھرانے میں پیدا ہوئے۔[2] مولانا محمد یوسف نے تعلیم کی ابتدا حکیم سعید مشتاق علی دیوبندی سے کیا اور قرآن حفظ کیا۔ آپ نے علم تجویز کی تعلیم بھی حکیم سعید مشتاق علی سے حاصل کی۔ فن مناظره کی تعلیم آپ نے مولانا عبد العزیز رحیم آبادی، جو مسلک کے لحاظ سے اہل حدیث تھے، سے حاصل کی۔[1]

تصانیفترميم

مولانا محمد یوسف نے مختلف موضوعات پر جو کتابیں لکھی ہیں ان کی تفصیل درج ہے۔[8]

  • آفتاب تحقیق
  • کتاب الایمان
  • حقیقتہ الفقہ
  • سراج منیر

مشہور تصانیف کا مختصر تعارفترميم

مولانا محمد یوسف کی مشہور تصانیف کا مختصر تعارف درج ذیل ہے۔[8]

آفتاب تحقیقترميم

مثنوی ہے۔ امام ابو حنیفہ، شیخ محمد بن عبد الوہاب اور شاہ اسماعیل شہید کے حالات پر۔

کتاب الایمانترميم

اس کتاب میں ایمان اور اہل ایمان کے اوصاف حمیدہ قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔

حقیقتہ الفقہترميم

یہ کتاب دو 2 جلدوں میں ہے۔ پہلی جلد میں فقہ کے 619 مسائل درج کے گئے ہیں جو قرآن و حدیث کے خلاف ہیں۔ دسری جلد میں 637 وہ مسائل ہیں جو اہلحدیث عامل ہیں۔

سراج منیرترميم

اس کتاب میں پہلے وجود خدا اور اثبات رسالت پر روشنی ڈالی گیی ہے۔ اس کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرت مقدسہ قلم بند کی ہے۔

وفاتترميم

مولانا محمد یوسف کا انتقال 1938ء کو بھارت کی ریاست اتر پردیش کے فیض آبادی شہرمیں ہوا۔ اس وقت آپ کی عمر 56 سال تھی۔[9]

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب پ ت ٹ 40 Ahl-e Hadith Scholars from the Indian Subcontinent (بزبان انگریزی). Independently Published. 2019-07-18. صفحہ 150. ISBN 978-1-0810-0895-6. 
  2. ^ ا ب "علمائے اہل حدیث کے تحریری مناظرے". 
  3. "استاذ الاساتذہ حضرت مولانا محمد ادریس آزاد رحمانی املوی". 
  4. "ردّ قادنیت میں علماء اہلحدیث کی تصنیفی خدمات". 
  5. ^ ا ب Salafī، Muḥammad Mustaqīm (1992). Jamāʻat-i Ahleḥadīs̲ kī taṣnīfī k̲h̲idmāt: nuqūsh-i māz̤ī. Idārah al-Baḥūs̲ al-Islāmiyah va al-Daʻvah va al-Iftaʼ Biljāmiʻah al-Salafiyah. 
  6. ʻIrāqī، ʻAbdurrashīd؛ عراقى، عبدالرشيد (2001). بر صغير پاك و هند ميں علمائے اهل حديث كے علمى كارنامے /‏. ‏علم و عرفان پبلشرز،‏. صفحہ 136. 
  7. 40 Ahl-e Hadith Scholars from the Indian Subcontinent (بزبان انگریزی). Independently Published. 2019-07-18. صفحہ 151. ISBN 978-1-0810-0895-6. 
  8. ^ ا ب 40 Ahl-e Hadith Scholars from the Indian Subcontinent (بزبان انگریزی). Independently Published. 2019-07-18. صفحات 153 تا 155. ISBN 978-1-0810-0895-6. 
  9. 40 Ahl-e Hadith Scholars from the Indian Subcontinent (بزبان انگریزی). Independently Published. 2019-07-18. صفحہ 155. ISBN 978-1-0810-0895-6.