محمود گاوان :خواجہ عماد الدین محمود گاوان دکن کی بہمنی سلطنت کے وزیر اعظم تھے۔ محمود گاوان کا اصلی نام خواجہ محمود گیلانی تھا۔(خواجہ عماد الدین محمود گاوان تھا). گاوان ایران کے شہر گاوان سے ہندوستان آئے تھے۔ گاوان ایک عالم دین، ماہر سائنسی علوم، ماہر ریاضی، مصنف اور شاعر تھے۔ بعد ازیں محمود شاہ سوم کے درببار میں وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئے (1463-1482)۔ عالم و فاضل محمود گاوان کو شاہی خاندان کا اعتماد حاصل تھا۔ صرف مقامی حکمران ہی نہیں بلکہ دیگر سلاطین بھی محمود گاوان کی تعظیم کرتے تھے۔

محمود گاواں
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1411ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
صوبہ جیلان   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1481ء (69–70 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بیدر   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت ایران   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر ،  سیاست دان   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

تعمیرات

ترمیم

ان کی خواہش، قیادت اور معاشی مدد سے شہر بیدر میں ایک دینی علوم کی درسگاہ محمود گوان مدرسہ قائم کیا گیا، جو اس دور کی اسلامی جامعہ مانی جاتی تھی۔ اور یہ بھی مانا جاتا ہے کہ دکن کا یہ پہلا اسلامی جامعہ تھا۔ اس جامعہ میں ایک منظم کتب خانہ بھی تھا جس میں 3،000 سے بھی زیادہ کتابیں تھیں۔[1] یہ مدرسہ تین منزلہ تعمیر تھا۔ اس کا مینار اور گنبد، سمرقند کے تعمیرات کے مشابہ ہیں۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. "Deccan dreams"۔ Business Line۔ 23 September 2005۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 مارچ 2015