میر زاہد ہروی

عالم، فقیہ، درس نظامی کے مصنفین میں سے ایک شخصیت، وقائع نگار کابل

میر محمد زاہد ہروی (وفات: 1690ء) عالم، فقیہ، مؤرخ اور وقائع نگار تھے۔ وہ درس نظامی کے مصنفین میں شمار کیے جاتے ہیں۔

میر زاہد ہروی
معلومات شخصیت
مقام پیدائش ہندوستان  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1690  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کابل،  مغلیہ سلطنت  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ عالم،  فقیہ،  مصنف  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

سوانحترميم

میر محمد زاہد ہروی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ میر ہروی کے والد قاضی محمد اسلم تھے جو ہرات کے باشندے تھے۔ عہدِ جہانگیری میں قاضی محمد اسلم ہرات کی سکونت ترک کرکے لاہور آگئے تھے۔ جہانگیر اُن کے تقویٰ و تورع سے نہایت متاثر تھا۔ اولاً اُنہیں کابل کا منصبِ قضا پیش کیا اور بعد ازاں لشکرشاہی کا قاضی مقرر کر دیا۔ مغل شہنشاہ شاہ جہاں نے اُنہیں اِسی منصب پر بحال رکھا اور اپنا اِمامِ خاص قرار دِیا۔ قاضی محمد اسلم 1061ھ مطابق 1651ء میں لاہور میں فوت ہوئے۔[1] میر زاہد اپنے والد کی نسبت ’’ہروی‘‘ سے میر ہروی مشہور ہوئے۔

تعلیمترميم

میر ہروی نے ابتدائی تعلیم اپنے والد قاضی محمد اسلم ہروی سے حاصل کی۔ کابل میں ملا محمد فاضل بدخشانی اور ملا سادق حلوائی سے استفادہ کیا۔ بعد ازاں توران چلے گئے اور وہاں مرزا محمد جان شیرازی کے سامنے زانوئے تلمذ اِختیار کیا اور فنونِ حکمت مرزا محمد جان شیرازی کے شاگرد ملا یوسف سے پڑھے۔ کچھ عرصے بعد لاہور آگئے اور یہاں ملا جمال لاہور سے فاتحہ ٔ فراغ پڑھا جو علوم عربیہ میں یگانہ ٔ روزگار تھے۔

مغلیہ سلطنت میںترميم

مغل شہنشاہ شاہ جہاں نے ماہِ رمضان 1054ھ مطابق جولائی 1654ء میں میر ہروی کو کابل کی وقائع نگاری پر مامور کیا۔ عہدِ عالمگیری میں بہت عرصہ تک پر اِس عہدے پر فائز رہے۔ بعد ازاں اکبرآباد میں لشکرشاہی کے محتسب مقرر ہوئے۔ یہ تقرری 1077ھ مطابق 1666ء میں عمل میں آئی تھی۔ آخر اورنگزیب عالمگیر نے میر ہروی کو کابل کی صدارت تفویض کی اور اُنہوں نے بخوبی احسن خدماتِ جلیلہ انجام دیں۔ میرہروی سرکاری مصروفیات کے ساتھ ساتھ طالبانِ علم کو بھی نوازتے رہے جبکہ وہ اکبرآباد میں محستب لشکر کے عہدے پر فائز تھے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (متوفی 20 اگست 1762ء) کے والد گرامی شاہ عبد الرحیم دہلوی (متوفی 6 جنوری 1719ء) نے میرہروی سے معقولات کی تعلیم حاصل کی تھی۔ اِسی طرح کابل کے زمانہ قیام میں بھی طالبانِ علم اُن سے استفادہ کرتے رہے۔ آخر عمر میں تدریس اور تقویٰ کا یہ عالم ہوا کہ ملازمتِ شاہی سے کنارہ کش ہو گئے اور ہمہ تن تعلیم و تعلم اور تزکیہ نفس میں مصروف رہے۔[2]

ارادت و عقیدتترميم

میرہروی کو سلسلہ نقشبند کے صوفی خواجہ محمد معصوم سرہندی (متوفی 17 اگست 1668ء) سے نہ صرف تعلق اِرادت تھا بلکہ ایک روایت کے مطابق میرہروی خواجہ محمد معصوم سرہندی کے خلیفہ مجاز بھی تھے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اپنی تصنیف انفاس العارفین میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ جس سے میرہروی کی دِینداری اور دُنیوی معاملات سے ناواقفیت کا اِظہار ہوتا ہے۔ حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی (متوفی 19 جون 1642ء) کے ملفوظات سے معلوم ہوتا ہے کہ میرہروی کو شاہ عبدالرحیم دہلوی کے تفقہ پر اعتماد تھا نیز یہ کہ وہ فقہی معاملات میں ازحد محتاط تھے۔[3]

وفاتترميم

میر ہروی نے 1101ھ مطابق 1690ء میں کابل میں وفات پائی۔

تصانیفترميم

میرہروی کی تصانیف یہ ہیں:

  • حاشیہ شرح مواقف (اُمورِ عامہ کے لیے)
  • حاشیہ شرح تہذیب علامہ دوانی
  • حاشیہ رسالہ تصور و تصدیق از علامہ قطب الدین رازی
  • حاشیہ شرح ہیاکل

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. بزم تیموریہ: صفحہ 215۔
  2. تذکرہ مصنفین درس نظامی: صفحہ 235۔
  3. تذکرہ مصنفین درس نظامی: صفحہ 236۔