ندیمِ سحر عنبرین (انگریزی: Nadeem-e-Sehar Ambreen) اسلامیات سے وابستہ ایک بھارتی دانشور ہےـ وہ حال میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شعبہ اسلامیات میں خدمات انجام دے رہی ہےـ

ڈاکٹر ندیم سحر عنبرین
پیدائشندیم سحر عنبرین
13 ستمبر 1988ء
محلہ قاضی پورہ بہرائچ اتر پردیش، ہندوستان
تعلیمپی ایچ ڈی (اسلامیات)
مادر علمیعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی ،جامعہ ملیہ اسلامیہ
وجہِ شہرتمصنفہ اور محقق
مذہباسلام
شریک حیاتڈاکٹر تحسین زماں
رشتہ دارڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی
اعزازاتگولڈ میڈلسٹ (علی گڑھ مسلم یونیورسٹی )

ابتدائی زندگیترميم

ڈاکٹر ندیم سحر عنبرین کی ولادت 13 ستمبر 1988 کو محلہ قاضی پورہ شہر بہرائچ اتر پردیش میں ہوئی۔آپ کے والد کا نام محمد فیضان صدیقی ہے۔آپ کے دادا حکیم محمد سلیمان صدیقی مرحوم اپنے وقت کے مشہور حکیم تھے۔آپ کے دادا شہر بہرائچ میں جماعت اسلامی ہند کے بانی امیر تھے ۔ حکیم صاحب ایمرجنسی کے دور میں جیل بھی گئے تھے۔[1]

تعلیمترميم

ڈاکٹر ندیم سحر عنبرین ابتدائی تعلیم شہر بہرائچ کے عائشہ درسگاہ اسلامی میں حاصل کی بعد میں رامپور کے جامعہ الصا لحات سے عالمیت کی سند حاصل کی بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی۔اے اور ایم۔اے کی سند حاصل کی ۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں آپ کو گولڈ میڈل بھی ملا۔ 2018ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے اسلامیات میں پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری حاصل کی۔[2]

تصانیفترميم

عنبرین کے کئی مضامین متعدد رسالوں میں شائع ہوئے ہیان ۔ انہوں نے تین کتابیں تصنیف کی ہیں ۔[3]

  • قرآنیات میں خواتین کے تحقیقی مقالات [4]
  • دور حاضر کی چند اہم مفسرات قرآن[5]
  • خواتین اور خدمتِ قرآن[6]

وہ موجودہ وقت میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اسلامیات میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔آپ کے شوہر محمد تحسین زماں بھی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے فارغ ہوئے اور موجودہ وقت میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اسلامیات سے وابستہ ہیں۔[7]

حوالہ جاتترميم

  1. بہرائچ ایک تاریخی شہر
  2. بہرائچ ایک تاریخی شہر
  3. بہرائچ ایک تاریخی شہر
  4. http://mazameen.com/book-review/%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%AA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%8C-%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D9%86-%DA%A9%DB%92-%D8%B0%D8%B1%DB%8C%D8%B9%DB%92.html
  5. https://quranwahadith.com/product/daur-e-hazir-ki-chand-aham-mufassirat-e-quran/
  6. "آرکائیو کاپی". 06 اگست 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 01 دسمبر 2019. 
  7. بہرائچ ایک تاریخی شہر

بیرونی روابطترميم