نسوار (پشتو: نسوار‎; سیریلک رسم الخط: насва́р)، جس کو nās (ناس; на́с) یا nasvay (نسوای; насвай) بھی کہا جاتا ہے، ایک نم، پاؤڈر تمباکو کا گل ہے جو زیادہ تر افغانستان، پاکستان، ایران، قازقستان، کرغیزستان، روس، تاجکستان، ترکمانستان، اور ازبکستان میں استعمال کیا جاتا ہے۔ نسوار منہ میں نچلے ہونٹ کے نیچے، یا گال کے اندر، عام طور پر 15 سے 30 منٹ تک رکھی جاتی ہے۔ اس کی ایک مقدار ڈپ تمباکو اور سنوس جتنی ہی ہوتی ہے۔

نسوار کی ایک چٹکی

استعمال کرنے والوں کے نامترميم

نسوار استعمال کرنے والوں کونسوار خور، نسوارچی، نسوار کُنّا، نسواری اور پڑیچے جیسے ناموں سے پکارا جاتا ہے خیبر پختونخوا میں اس کے بہت ہی دلچسپ ہیں مثلاً ایف سولہ، طورخم، سبز پری، میزائل، سفارش خان اور لکی وغیرہ۔ نسوار کو عموما "پختونوں کا ایندھن "بھی کہا جاتا ہے۔ کہتے ہیں اگر عورت کا میک اپ اور پٹھان کی نسوار ختم کوجائے تو دونوں پاگل ہو جاتے ہیں۔

 
نسوار کا پیکٹ

استعمالترميم

نسوار ایک ایسی ہلکی نشہ آور چیز ہے جو تمباکو کے پتوں کو باریک پیس کر اور پھر اس میں حسب منشا چونا ملا کر تیار کی جاتی ہے۔ یہ دو اقسام میں پائی جاتی ہے جسے کالی اور سبز نسوار کہتے ہیں۔ کالی نسوار دھوپ جبکہ سبز نسوار سائے میں خشک کئے گئے تمباکو کے پتوں سے بنتی ہے۔نسوار خور اسے ایک ڈبیا میں یا پڑیا میں ڈال کر جیب میں رکھتا ہے اور حسب خواہش منہ میں ڈالتا رہتا ہے۔نسوارچیوں کے لیے خوش کن بات یہ ہے کہ اب ٹشو زدہ نسوار مارکیٹ میں سر عام دستیاب ہے۔

نقصانترميم

نسوار چونکہ تمباکو سے بنتی ہے اس لیے اس کے نقصانات بھی لازماً ہیں لیکن یہ بہت کم نسوار خوروں کو پتہ ہوتا ہے۔ لیکن جو چیز اس میں تکلیف دہ ہے وہ نسوار خوروں کا جگہ جگہ تھوکنا ہے جس سے دوسرے لوگ تنگ ہوتے ہیں۔ زیادہ نسوار خوروں کا تعلق صوبہ سرحد سے ہے۔ وہاں انھیں پڑیچے بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ پڑچ کی آواز کے ساتھ تھوکتے ہیں۔ نسوار افغانستان، پاکستان، بھارت، ایران، تاجکستان، ترکمانستان اور کرغیزستان میں ہوتی ہے۔ مغربی ممالک میں نسوار سب سے پہلے ایک ہسپانوی شخص نے متعارف کروائی تھی۔

نسوار کی تاریخترميم

نسوار زمین میں اگنے والی تمباکو کی پتیوں سے بنی مصنوعات ہے یہ smokeless کی ایک مثال ہے۔ نسوار ابتدائی طور پر امریکا سے شروع ہوا اور یورپ میں 17 ویں صدی سے عام استعمال ہوا۔ یورپی ممالک میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے باعث حالیہ برسوں میں اضافہ ہوا ہے۔ عام طور پر اس کا استعمال ناک، سانس یا انگلی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ ریاست ہائے متحدہ اور کینیڈا میں ہونٹ کے نیچے رکھ کر استعمال کرنے سے ہوئی۔ ہیٹی کے مقامی لوگوں کی جانب سے 1496ء-1493ء میں کولمبس کی جانب سے امریکا دریافت کے سفر کے دوران میں Ramon Pane نامی راہب نے اسے ایجاد کیا۔

1561ء میں پرتگال میں Lisbon، فرانسیسی سفیر اور ان کے بیٹے Jean Nicot، کے بیماری کی وجہ جواز سے اس وقت یہ طبقہ اشرافیہ میں نہایت مقبول ہوا۔ 17 ویں صدی میں اس مصنوعات کے خلاف کچھ حلقوں کی جانب سے تحریک اٹھی اور پوپ اربن VII کی جانب سے خریداری پر دھمکیاں دیں گئیں۔ روس میں اس کا استعمال 1643ء میں Tsar Micheal کی جانب سے کیا گیا۔ ناک سے استعمال کی وجہ سے اس پر سزا مقرر کی گئی۔ فرانس میں بادشاہ لوئیس XIII نے اس پر حد مقرر کی جبکہ چین میں 1638ء میں پوری طرح نسوار کی مصنوعات پھیل گئی۔ 18 ویں صدی تک نسوار کو پسند کرنے والوں میں نپولین بانو پارٹ، کنگ جارجIII کی ملکہ شارلٹ اور پوپ بینڈکٹ سمیت اشرافیہ اور ممتاز صارفین میں یہ رائج ہوچکا تھا۔ 18 ویں صدی میں انگلش ڈاکٹر جان ہل نے نسوار کی کثرت استعمال سے کینسر کا خدشہ ظاہر کیا۔ امریکا میں پہلا وفاقی ٹیکس 1794ء میں اس لیے لگا کیونکہ اسے عیش و عشرت کی نشانی سمجھا جاتا تھا۔

اٹھارویں صدی میں Gentlewoman نامی میگزین میں پرتگالی نسوار کی اقسام اور استعمال کے مشورے شائع ہوئے۔ افریقا کے کچھ علاقوں میں یورپی ممالک کے افراد کی وجہ سے پھیلی اور دیہاتیوں نے ناک کے ذریعے استعمال کیا۔ ہندوستان میں غیر ملکی کمپنیوں کی آمد کے ساتھ یہ مصنوعات بھی متعارف ہوئی اور اس کا استعمال پاک و ہند میں پھیل گیا۔

نسوار کی موجودہ اقسام میں ہری نسوار اور کالی نسوار کا استعمال عام ہے۔ جو تمباکو، کوئلے کی راکھ، چونے کی مدد سے بنائی جاتی ہے۔ کالی نسوار کے لیے خصوصی تمباکو صوابی سے آتا ہے جس پر حکومت ٹیکس لیتی ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ نسوار پختون ثقافت ہے محض غلط فہمی اور کم آگاہی پر منحصر ہے۔[1]

حوالہ جاتترميم