نظام الدین محمد سہالوی

ملا نظام الدین بانی درس نظامی

نظام الدین محمد انصاری سِہالوی دراصل ملا نظام الدین کے نام سے شہرت رکھتے ہیں جو بانی درس نظامیہ ہیں۔

نظام الدین محمد سہالوی
معلومات شخصیت
پیدائش 27 مارچ 1677  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بارہ بنکی ضلع  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 8 مئی 1748 (71 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ عالم[1]  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نامترميم

ان کا نام ملا نظام الدین بن ملا قطب الدین سِہالوی بن عبدالحلیم بن عبد الکریم ہے فاضلِ جید، عارف فنون رسمیہ، ماہر علوم نقلیہ و عقلیہ، فقیہ اصولی تھے۔

القابترميم

استاذ الہند، بانی درس نظامی علامہ فرنگی محلی

ولادتترميم

ملا نظام الدین کی ولادت 1088ھ بمطابق27 مارچ1677ء میں سِہالی میں ہوئی جوصوبہ اتر پردیش ضلع بارہ بنکی کا ایک قصبہ ہے۔

تعلیم و تربیتترميم

ملا نظام الدین صاحب کی عمر پندرہ برس کی تھی جب ملا قطب الدین کا خاندان لکھنؤ میں آباد ہوا شرح جامی پڑھتے تھے۔ والد کی وفات کے بعد بھی علوم کی تحصیل جاری رکھی۔ ’’ملا صاحب نے یورپ کا سفر کیا اور مختلف شہروں میں تحصیل کی۔ اخیر میں لکھنؤ واپس آکر شیخ غلام نقشبند گھوسوی ثم لکھنوی سے بقیہ کتابیں پڑھیں اور انہی سے سند فضیلت حاصل کی۔ ابتدائی کتابیں دیوا (جموں میں دریائے توی کے ساتھ ایک قصبے کا نام ہے جو چھمب اور جوڑیاں کے مغرب میں واقع ہے۔)میں پڑھیں، لیکن انتہائی کتابیں بنارس میں جا کر حافظ امان اللہ بنارسی سے ختم کیں۔‘‘

حصول تصوفترميم

علوم ظاہری کی تکمیل سے فارغ ہو کر ملا صاحب نے علوم باطنی کی طرف توجہ کی۔ اس وقت شاہ عبدالرزاق ہانسوی کے فیوض و برکات کا تمام ہندوستان میں غلغلہ تھا۔ ملا صاحب ان کے آستانے پر حاضر ہوئے اور ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔ شاہ صاحب موصوف علوم اسلامیہ سے ناآشنا تھے اس لیے تمام لوگوں کو تعجب ہوا۔ یہاں تک کہ علمائے فرنگی محل نے علانیہ ملاصاحب سے شکایت کی۔ ملاصاحب کے تلامذہ میں سے ملاکمال علوم عقلیہ میں بڑی دستگاہ رکھتے تھے اور چونکہ بے انتہا ذہین اور طباع تھے کسی کو خاطر میں نہ لاتے تھے، ملاصاحب کی بیعت پر دو بدو گستاخانہ عرض کیا کہ آپ نے ایک جاہل کے ہاتھ پر کیوں بیعت کی۔ اس پر بھی قناعت نہ کر کے شاہ صاحب کی خدمت میں پہنچے اور فلسفہ کے چند مشکل مسئلے سوچ کر گئے کہ شاہ صاحب سے پوچھیں گے اور ان کو الزام دیں گے۔ مشہور ہے کہ شاہ صاحب نے خود ان مسائل کو چھیڑا اور ملاکمال کی خاطر خواہ تسکین کر دی، چنانچہ اسی وقت ملا کمال اور ان کے ساتھ بہت سے علماءشاہ صاحب کے قدموں پر گر پڑے اور ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔

تاریخ وفاتترميم

ملا نظام الدین نویں تاریخ جمادی الاولیٰ بروزبدھ 1161ھ بمطابق مئی 1748ء عمر 75برس میں انتقال ہوا۔’’فاضل قدوۂ دین و دنیا‘‘ تاریخ وفات ہے۔

تصنیفاتترميم

ملاصاحب کی تصنیفات کثرت سے ہیں، مثلاً

  • ’’شرح مسلم الثبوت شرح منار مسمی بہ صبح صادق‘‘
  • ’’حاشیہ صدرا‘‘ حاشیہ شرح ہدایۃ الحکمۃ صدر الدین شیرازی
  • ’’حاشیہ شمس بازغہ‘‘
  • ’’حاشیہ بر حاشیہ قدیمہ‘‘
  • ’’شرح تحریر الاصول‘‘
  • ’’حاشیہ شرح عضدیہ‘‘
  • ’’مناقب رازقیہ‘‘ (فارسی)
  • ’’شرح مبارزیہ ‘‘
  • یہ تمام کتابیں بڑے پایہ کی ہیں اور نہایت دقیق تحقیقات پر مشتمل ہیں، لیکن درحقیقت ملاصاحب کی شہرت ان تصنیفات کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان کے طریقۂ درس نظامی کی بدولت ہے۔[2][3]

حوالہ جاتترميم

  1. جی این ڈی آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/1017099537 — اخذ شدہ بتاریخ: 17 جولا‎ئی 2021
  2. "ضیائے طیبہ". 16 نومبر 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 15 اکتوبر 2017. 
  3. ماہنامہ اشراق لاہور ستمبر 2013ء