ولی رحمانی

بھارتی عالم دین

مولانا سید محمد ولی رحمانی (1943ء - 2021ء) ایک بھارت عالمی دین اور ماہر تعلیم تھےـ

ولی رحمانی
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1943  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 3 اپریل 2021 (77–78 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ ماہر اسلامیات  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

انھوں نے 1974ء سے 1996ء تک بہار قانون ساز کونسل کے ارکان کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ اپنے والد ماجد حضرت مولانا منت اللہ رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات 1991 کے بعد سے خانقاہ رحمانی مونگیر کے سابق سجادہ نشین اور جامعہ رحمانی مونگیر کے سابق سرپرست تھے، آپ کے دادا مولانا محمد علی مونگیری بانی ندوۃ العلماء ہیں۔ اس خانقاہ کے روحانی سلسلہ میں شاہ فضل الرحمن گنج مرادآبادی بہت ہی اہم کڑی ہیں۔ وہ اپنی وفات تک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ وہ رحمانی 30 کے بانی بھی ہیں، جو ایک ایسا پلیٹ فارم ہے، جہاں عصری تعلیم کے متعدد شعبوں میں معیاری اعلی تعلیم و قومی مقابلاجاتی امتحانات کے لیے طلبہ کو تیار کیا جاتا ہے۔ [1] اس ادارہ سے ہر سال NEET اور JEE میں 100 سے زائد طلبہ منتخب ہوتے ہیں۔ حضرت مولانا سید ولی رحمانی عوامی تقریر، اپنی شخصیت و ملی مسائل میں جرأت صاف گوئی و بے باکی اور دونوں ہی شعبوں میں تعلیم کے لیے مشہور تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ ہر کسی کو ایک وقت میں دونوں طرح کی تعلیم حاصل کرنی چاہیے اور کسی بھی چیز سے پہلے انسان کو انسان ہی ہونا چاہیے۔ شاہ عمران حسن نے مولانا ولی رحمانی کی سوانحِ عمری "حیاتِ ولی" لکھی ہے۔[2][3]

حوالہ جاتترميم

  1. "BBC Report on Rahmani30" (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 16 اپریل 2020. 
  2. Media، The Milli Gazette, OPI, Pharos (4 اپریل 2016). "The Milli Gazette". milligazette.com. 
  3. http://www.milligazette.com/news/15250-life-and-work-of-maulana-mohammad-wali-rahmani

بیرونی روابطترميم