مولانا محمد علی مونگیری (پیدائش: 3 شعبان المعظم 1262ھ بہ مطابق 28 جولائی 1846ء - وفات: 9 ربیع الاول 1346ھ بہ مطابق 13 ستمبر 1927ء) انیسویں صدی میں تعلیمی نظام کی اصلاح کے لیے برپا ہونے والی معروف تحریک ندوۃ العلماء کے بانی اور اس کے ناظمِ اول تھے۔ ضلع مظفر نگر،اترپردیش میں سادات کی ایک بستی میں پیدا ہوئے۔ اُن کا سلسلۂ نسب 23 واسطوں سے محی الدین عبد القادر جیلانی ؒسے جاملتا ہے۔ مولانا لطف اللہ علی گڑھی سے مختلف علوم حاصل کیے۔ بعد ازاں مدرسہ فیض عام، کان پور اور مظاہر علوم سہارنپور میں بھی تعلیم حاصل کی۔ اور اصلاح باطن کے لیے مولانا شاہ فضل رحمان گنج مرادآبادی سے وابستہ ہوئے اور خلافت سے سرفراز ہوئے۔

مولانا محمد علی مونگیری
معلومات شخصیت
پیدائش 28 جولائی 1846ء
کانپور، اترپردیش
وفات 13 ستمبر 1927ء
مونگیر، بہار
شہریت بھارتی
قومیت بھارتی
نسل جیلانی، سادات
مذہب اسلام
عملی زندگی
مادر علمی مولانا لطف اللہ علی گڑھی، مفتی عنایت احمد کاکوروی، مولانا احمد علی سہارنپوری۔
پیشہ ماہر اسلامیات  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
متاثر مولانا لطف اللہ رحمانی، مولانا نور اللہ رحمانی، مولانا منت اللہ رحمانی، مولانا حبیب الرحمن خان شیروانی، مولانا ظہیر حسن شوق نیموی، مولانا ابوبکر حماد مکی، مولانا مناظر احسن گیلانی، مولانا مفتی عبد اللطیف رحمانی، مولانا شاہ تجمل حسین بہاری، مولانا عبد الوارث خان حیدرآبادی، مولانا محمد علی حسن، مولانا حکیم سید عبد الحی حسنی۔
P islam.svg باب اسلام

ندوۃ العلماء کی بنیاد اور نظامت و ترقی کے علاوہ محمد علی مونگیری نے اپنے دور میں ردِ مسیحیت پر بھی خوب کام کیا۔ اس کے ساتھ صوبہ بہار کے ضلع مونگیر اور اس کے اطراف میں احمدیہ کے خلاف بھی بر سر پیکار رہے۔ سلوک و ارشاد کے ذریعے بھی اصلاحِ امت کا کام انجام دیا اور تصانیف و تالیفات کے ساتھ ساتھ مختلف رفاہی کام بھی انجام دیے۔

نسب اور ولادتترميم

مولانا محمد علی مونگیری کا سلسلۂ نسب حضرت شیخ عبد القادر جیلانی سے ملتا ہے۔ ان کے اجداد میں شاہ حبیب اللہ ملتانی اور ان کے بیٹے حضرت شاہ ابوبکر چرم پوش بہت معروف ہیں۔ ابوبکر چرم پوش تقریباً ساڑھے تین سو برس پہلے ملتان سے ضلع مظفر نگر آئے اور قصبہ کھتولی کے نزدیک قیام کیا۔[1] ان کے جد امجد شاہ سید غوث علی مظفر نگر سے کانپور منتقل ہوئے اور سکونت پزیر ہو گئے۔ وہیں شاہ سید عبد العلی کے ہاں 3 شعبان المعظم 1262ھ، بہ مطابق 28 جولائی 1846ء کو سید مولانا محمد علی مونگیری کی ولادت ہوئی۔

ابتدائی زندگی اور تعلیمترميم

دو سال کی عمر میں والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا، اس لیے بچپن کا زمانہ دادا سید غوث علی اور چچا سید ظہور علی کے زیر تربیت گزرا۔ درسیات کا اکثر حصہ مولانا لطف اللہ علی گڑھی اور کچھ حصہ مفتی عنایت احمد کاکوروی سے پڑھا۔[2] بارہ برس کی عمر میں دادا اور چچا کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا۔ اب تعلیم کی بجائے ایک اور مبارک شوق دل و دماغ پر غالب ہو گیا کہ کسی طرح مدینہ منورہ کی زیارت نصیب ہو جائے۔ لیکن معاشی حالات کسی طرح سازگار نہ تھے۔ اس درمیان میں ایک بزرگ عبد اللہ شاہ سے ملاقات ہوئی اور ان کے اشارے پر اس غلبے کو دبا کر حصول علم کی طرف متوجہ ہوئے۔[3] مدرسہ فیض عام کان پور کے اولین طلبہ میں شامل ہوئے۔ منقولات و معقولات کی تکمیل کی اور ساتھ ہی مدرسے میں طلبہ کو درس بھی دیتے رہے۔ فلسفہ و منطق کی اعلی کتابیں مکمل کرنے کے باوجود ان علوم سے فطرتاً بے زاری رہی اور ذہن و دماغ ہمیشہ قرآن و حدیث کے ذوق سے مزین رہا۔ اس ذوق کی تشکیل میں شاہ فضل رحمان گنج مرادآبادی کی صحبتوں کو بھی دخل تھا۔ اسی لیے معقولات کی کتابیں ختم کرنے کے بعد مولانا لطف اللہ علی گڑھی سے صحاح ستہ سبقاً سبقاً پڑھیں[4]

سترہ اٹھارہ برس کی عمر میں اصلاح باطن کی فکر ہوئی۔ سب سے پہلے اپنے عہد کے ایک صاحب حال بزرگ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے فیض یافتہ شاہ کرامت علی قادری سے اور آخر میں شاہ فضل رحمان گنج مرادآبادی سے بیعت ہوئے، مدارج سلوک طے کیے اور اجازت و خلافت سے سرفراز ہوئے۔ اسی درمیان مشہور محدث احمد علی سہارن پوری کے پاس گیارہ ماہ قیام کرکے صحاح ستہ، مؤطا امام محمد اور مؤطا امام مالک پڑھی اور صحاح ستہ و مؤطا امام محمد کی سند بھی حاصل کی۔[5]

ذاتی زندگیترميم

مولانا سید محمد علی مونگیری نے تین نکاح کیے تھے۔ پہلا نکاح 22 سال کی عمر میں والدہ نے کھتولی کے قریب ایک علاقے محی الدین پور میں میر امان علی کی صاحب زادی سے کرایا تھا۔ اُن سے تین بیٹے اور دو بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ سید احمد علی، سید محبوب علی اور سید معصوم علی۔ مؤخر الذکر دونوں کا کم سنی ہی میں انتقال ہو گیا۔ اول الذکر سید احمد علی عالم دین بنے۔ انہوں نے چوٹی کے علما سے علم حاصل کیا تھا، بڑے عابد و زاہد تھے۔ 1328ھ کے رمضان میں جمعہ کے دن نماز کی حالت میں وفات پائی۔ اُن سے ایک سال پہلے 1327ھ میں بڑی صاحب زادی سیدہ ام کلثوم وفات پاچکی تھیں۔ چھوٹی صاحب زادی سیدہ ام سلمہ 1328ھ میں بھائی کی وفات کے کچھ عرصے بعد دنیا سے رخصت ہوئیں۔

دوسرا نکاح حضرت فضل رحمان گنج مرادآبادی کے اشارے پر کانپور کی ایک تعلیم یافتہ اور نیک صالحہ بیوہ سے 1307ھ میں ہوا تھا۔ ان سے کوئی اولاد نہ تھی۔ نکاح کے دس سال بعد 1317ھ میں وہ وفات پاگئیں۔

تیسرا نکاح سیکری، ضلع مظفر نگر کی ایک خاتون سے ہوا۔ ان سے پانچ بیٹے اور ایک بیٹی ہوئی۔ سب سے بڑے بیٹے سید عتیق اللہ تھے۔ بارہ سال کی عمر میں انتقال ہوا۔ دوسرے بیٹے سید لطف اللہ تھے۔ عالم تھے اور روحانی سلسلے میں اپنے والد کے خلیفہ بھی ۔ 1342ھ میں ان کی وفات ہو گئی۔ تیسرے بیٹے سید مطیع اللہ صرف 8 ماہ کی عمر میں انتقال کر گئے۔ چوتھے بیٹے مولانا سید نور اللہ تھے۔ پانچوے

بیٹے مولانا سید منت اللہ رحمانی اپنے علم و فضل اور دینی و ملی اور علمی خدمات کی وجہ سے معروف و مقبول تھے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے بانی اور ناظم اعلٰی اور امارت شریعہ بہار اڑیسہ و جھار کھنڈ کے امیر رہے۔ اور 19 مارچ 1991ء کو وفات پائی۔ حضرت مونگیری کے پانچ بیٹوں کے علاوہ ایک بیٹی سیدہ سعیدہ بھی تھیں۔

مسیحیت کے خلاف محاذ آرائیترميم

پس منظرترميم

انگریزی دور میں سرکاری اجازت ملنے کے بعد یورپ سے مسیحی انجمنیں پروانہ وار ہندوستان کا رخ کر رہی تھیں اور یہاں مسیحیت کی تبلیغ زوروں پر تھی۔ 1900ء میں تقریباً پچاس مسیحی ادارے ہندوستان میں اپنا نظام قائم کر چکے تھے۔ ان کی آمد کا مقصد ہی یہ تھا کہ ہر ممکن طریقے سے ہندستانیوں کو مسیحی مذہب میں داخل کیا جائے۔ اس کے لیے وہ ہر ممکن طریقہ اور ذریعہ استعمال کرتے تھے۔ انگریز حکومت کی طرف سے انھیں مکمل مراعات حاصل تھیں۔ بلکہ ہندستان میں ان کی آمد ہی انگریز حکومت کے ذریعے 1813ء میں پاس کیے گئے ایک بل کا نتیجہ تھی۔ ایک طرف یہ مسیحی سیلاب تھا تو دوسری طرف صورت حال یہ تھی کہ مولانا رحمت اللہ کیرانوی کے بعد کوئی ایسا عالم نظر نہ آتا تھا، جو اس سیلاب پر بندھ باندھ سکے۔

مسیحیت کا مقابلہترميم

مولانا محمد علی مونگیری نے حالات کا صحیح جائزہ لیا، مستقبل کا درست اندازہ لگایا اور مسیحی انجمنوں کے خلاف ایک محاذ قائم کر دیا۔[6] 1289ھ میں انھوں نے صرف مسیحیوں کے اعتراضات اور شکوک و شبہات کا جواب دینے کے لیے کان پور سے ایک اخبار منشور محمدی جاری کیا۔ اس اخبار نے مسیحی عقائد اور اعتراضات کا ایسا اقدامی مقابلہ کیا کہ اس کے اکثر مضامین کا کوئی جواب کسی پادری سے نہ بنا۔ یہ اخبار چار پانچ سال جاری رہنے کے بعد بند ہو گیا۔ اس اخبار کے ذریعے مسلمانوں کے قدموں کو جمایا گیا۔ انھیں شکوک و شبہات سے آزاد اور ان کے ایمان کو مستحکم کیا گیا۔[7]

اس کے علاوہ مسیحی انجمنوں کے مقابلے میں مولانا محمد علی مونگیری نے مختلف اہم موضوعات پر اعلی درجے کی تصانیف بھی پیش کیں۔ اس ذیل میں مرآۃ الیقین، آئینہء اسلام، ترانۂ حجازی، دفع التلبیسات، ساطع البرہان، براہین قاطعہ، البرھان لحفاظۃ القرآن اور پیغام محمدی خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔ آخر الذکر کتاب کو اہل علم مولانا رحمت اللہ کیرانوی کی مشہور کتاب اظہار الحق کے ہم پلہ مانتے ہیں۔

مسیحی انجمنوں کے خلاف اس علمی محاذ آرائی کے ساتھ مولانا محمد علی مونگیری نے کانپور میں اسلامیہ یتیم خانے کی بھی بنیاد رکھی۔ تاکہ مسیحی پادری غریب و نادار مسلم بچوں کی غربت کا فائدہ اٹھا کر، اُن کا ایمان سلب نہ کر لیں۔ اس یتیم خانے میں انھوں نے بچوں کی تعلیم کا انتظام اور انہیں مختلف کام کاج سکھانے کا بھی نظم کیا، تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں اور کسی کے محتاج نہ رہیں۔[8]

تحریک ندوۃ العلماءترميم

تحریک ندوۃ العلماء کو بجا طور پر سید مولانا محمد علی مونگیری کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ 1857ء کی ناکامی کے بعد مسلمانوں پر مایوسی طاری اور ان میں احساس کم تری پیدا ہو گیا تھا۔ اس صورت حال سے بچانے کے لیے دو تحریکیں اٹھیں، تحریک دیوبند اور تحریک علی گڑھ۔ تحریک دیوبند کا اسلامیان ہند پر بڑا گہرا اثر رہا_ قدیم ہندوستان ہی نہیں پورے عالم کو تدین کا سبق پڑھایا، اور علم دین کے باب میں دنیا کو نئے انقلاب سے ہم کنار کیا_ اسی طرح تحریک علی گڑھ نے برصغیر کے مسلمانوں کو عصری تعلیم کا نیا نہج دیا، اس حوالے سے دانشوروں کی بڑی کھیپ تیار کی، جو سرسید کے پیغام کو لے کر دنیا بھر میں پھرے_؛ تاہم انیسویں صدی کے پس منظر میں مولانا محمد علی مونگیری نے ضرورت محسوس کی کہ : ایک ایسا ادارہ ہونا چاہیے جو دینی علوم کا مکمل حامی ہو اور اسی کے ساتھ ساتھ جدید علوم کے ایک حصہ کو اپنے نصاب کا جز بنائے؛تاکہ سرسید اور مولانا محمد قاسم نانوتوی کے خوابوں کو یکجا طور پر یہاں سے شرمندہ تعبیر کیا جا سکے..

ندوۃ العلماء کا قیامترميم

انھیں باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے مولانا سید محمد علی مونگیری نے 1310ھ بہ مطابق 1892ء میں مدرسہ فیض عام، کانپور کے جلسہ دستار بندی کے موقعے پر ندوۃ العلماء کا تخیل پیش کیا۔ جسے تمام علما نے پسند کیا۔ اس مجلس کا نام "ندوۃ العلماء" تجویز ہوا اور اس کے محرکِ اول مولانا سید محمد علی مونگیری ہی کو اس کا ناظمِ اول مقرر کر دیا۔ یہ طے پایا کہ آئندہ سال اس مجلس کا ایک جلسہ عام ہو، جس میں تمام مسالک کے ممتاز علماء کو دعوت دی جائے۔[9] چناں چہ 15-17 شوال المکرم 1311ھ بہ مطابق 22-24 اپریل 1894ء کو مدرسہ فیض عام میں ندوۃ العلماء کا پہلا اجلاس عام منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں اتحاد و اتفاق کے ایسے ایسے منظر سامنے آئے، کہ جن کا تصور بھی محال ہوچکا تھا[10] بنیادی طور پر ندوۃ العلماء کے تین مقاصد قرار پائے:

  1. اصلاح نصاب
  2. رفع نزاع باہمی
  3. غیر مسلموں میں اسلام کا تعارف

دار العلوم کی تجویزترميم

مولانام محمد علی مونگیری نے محسوس کیا کہ جس فکر اور تخیل کے وہ علم بردار ہیں، وہ اُس وقت تک عام نہیں کی جاسکتی، جب تک اس فکر کو نیا خون نہ ملتا رہے۔ لہٰذا انھوں نے 12 محرم الحرام 1313ھ کو جلسہ انتظامیہ میں ایک دار العلوم کے قیام کی تجویز پیش کی۔ اور انھوں نے پہلے سے تیار شدہ ایک وسیع خاکہ کو مسودہ دار العلوم کے نام سے پیش کیا اور ملک کے ممتاز اہل علم کو ارسال بھی کیا۔ اسی اجلاس میں قیام دار العلوم کی یہ تجویز منظور بھی ہو گئی۔[11]

ندوۃ العلماء سے استعفاءترميم

مولانا سید محمد علی مونگیری کے ذریعے نہ صرف دار العلوم ندوۃ العلماء کا قیام عمل میں آیا، بلکہ ان کے دورِ نظامت میں دار العلوم نے ہر لحاظ سے ترقی کی۔ ان کے تقریباً گیارہ سالہ دور نظامت میں عبد الحئی حسنی جیسا معاون ناظم اور شبلی نعمانی جیسا معتمد تعلیم بھی ان کا دست راست بنا رہا۔ مولانا محمد علی مونگیری عرصے سے گردے کی تکلیف میں مبتلا تھے۔ اوپر سے بعض اراکینِ ندوہ کے سخت اختلافات نے انھیں ذہنی طور پر تکلیف میں مبتلا کر رکھا تھا۔ مزید بر آں یہ کہ مونگیر اور اس کے اطراف میں اُن کے ہزاروں مرید اُن کے منتظر تھے، نیز ملک بھر میں موجود حضرت شاہ فضل رحماں گنج مرادآبادی کے متوسلین بھی مولانا محمد علی مونگیری سے وابستہ ہوچکے تھے۔ ان تمام چیزوں کے پیش نظر انھوں نے ندوۃ العلماء کی نظامت سے استعفا دے دیا۔ 23 ربیع الثانی 1321ھ بہ مطابق 19 جولائی 1903ء کو سید عبد الحی حسنی نے جلسہء انتظامیہ میں اُن کا استعفا پیش کیا اور مجلس نے مجبوراً اور نہایت افسوس کے ساتھ اسے منظور کر لیا۔ اس طرح اُن کا ندوۃ العلماء سے ظاہری تعلق ختم ہو گیا، لیکن ندوے کے جلسوں میں شرکت، اس کے مسائل سے دل چسپی، حتی الامکان تعاون اور قلبی تعلق ہمیشہ باقی رہا۔[12]

مونگیر ﴿بہار﴾ میں خانقاہ رحمانی کا قیامترميم

ندوۃ العلماء سے مستعفی ہو جانے کے بعد حضرت مونگیری نے مونگیر کو اپنا مستقل ٹھکانہ بنایا اور پھر پوری یکسوئئ اور توانائئ کے ساتھ رد قادیانیت اور تزکیہٴ نفوس و اصلاح باطن میں لگ گئے۔[13] اور رفتہ رفتہ آپکا مستقر ایک جزیرہ سا بن گیا جہاں نفس کے کچلے ہوئے اور مادیت کے مارے ہوئے نہ جانے کتنے انسانوں کو پناہ ملی، اور انکو شفقت و دلسوزی و غمخواری بلکہ دلدہی اور ناز برداری کا اندازہ ہوا جو اللہ کے مخلص اور محبوب بندوں کا خاصہ ہےاسی شفقت و محبت کے سایہ میں انکی اصلاح ہوئئ اور وہ ایمان و یقین کی روشنی اور محبت و تعلق کی اصل دولت سے بہرہ مند ہوئے۔[14]

احمدیہ ﴿قادیانیت﴾ کے خلاف محاذ آرائیترميم

بیسویں صدی کے آغاز میں مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ بہار کے کچھ اضلاع میں احمدیت ﴿قادیانیت﴾ کو خوب فروغ مل رہا تھے۔ مونگیر اور بھاگل پور میں احمدی قادیانی اتنے منظم انداز سے تبلیغ کر رہے تھے کہ ان دونوں اضلاع کے مکمل طور پر احمدی قادیانی ہو جانے کا امکان تھا۔ ایسے میں مولانا محمد علی مونگیری نے احمدیہ ﴿قادیانیت﴾ کا مقابلہ شروع کیا۔ انھوں نے احمدیہ ﴿قادیانیت﴾ کے رد میں تقریباً سو چھوٹے بڑے رسائل تصنیف کیے، جن میں سے تقریباً چالیس اُن کے اصل نام سے اور باقی دوسرے ناموں سے شائع ہوئے۔[15]

احمدیہ ﴿قادیانیت﴾ کے مقابلے کے لیے مولانا محمد علی مونگیری نے ہر طرح کے اقدامات کیے۔ اصلاحی دورے کیے، گاؤں گاؤں گھومے پھرے، رسائل لکھے، خطوط روانہ کیے، کتابیں تصنیف کیں اور حد تو یہ ہے کہ اپنی خانقاہ میں ایک پریس قائم کر دیا، تاکہ دوسرے شہروں سے مطبوعہ چیزیں منگانے میں بالکل تاخیر نہ ہو۔ وہ اپنے صاحب ثروت مریدین کو ترغیب دلاتے تھے کہ احمدیہ ﴿قادیانیت﴾ کے خلاف چھوٹے بڑے رسائل کو مفت تقسیم کریں۔ خود بھی ہزاروں روپے خرچ کیے۔ اس سلسلے میں ان کا جملہ اُن کی بے چینی اور اضطراب کو واضح کرتا ہے:

اتنا لکھو اور اس قدر طبع کراؤ اور اس طرح تقسیم کرو کہ ہر مسلمان جب صبح سو کر اٹھے تو اپنے سرہانے رد قادیانیت کی کتاب پائے۔

انھوں نے اپنا تہجد کا وقت بھی اسی کام کے لیے وقف کر دیا تھا۔ کیوں کہ احمدیہ کے مقابلے کو وہ فرض کے بعد سب سے افضل عبادت سمجھتے تھے۔ اپنے متوسلین کو بھی اسی کی ترغیب دیتے تھے۔ اس سلسلے میں ان کی کتابوں میں فیصلۂ آسمانی تین جلدوں میں، شہادت آسمانی دو جلدوں میں، چشمۂ ہدایت، چیلنج محمدیہ، معیار صداقت، معیار المسیح، حقیقت المسیح، تنزیۂ ربانی، آئینۂ کمالات مرزا اور نامۂ حقانی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ بہت سے رسائل اور تصانیف اب نایاب ہوچکی ہیں۔ ان کتابوں میں احمدیوں کو کھلا چیلنج کیا گیا، انعامی چیلنج کیا گیا، قادیان بھیج کر جواب کا چیلنج کیا گیا، لیکن کوئی جواب نہیں دیا جاسکا۔ ان کتابوں میں اول الذکر دونوں کتابیں اپنے موضوع پر بہت اعلٰی اور ممتاز شمار ہوتی ہیں۔[16]

مولانا محمد علی مونگیری کی اس تحریک نے اپنا اثر دکھایا۔ بہار ہی نہیں پنجاب، بنگال، مدراس، بمبئی، گجرات، حیدرآباد، دکن، سلہٹ اور ڈھاکہ جہاں جہاں احمدی تھے، وہاں سے اپنی سرگرمیاں بند کرنا پڑا۔ حتی کہ ہندوستان کے باہر برما اور افریقہ تک یہ رسائل پہنچے اور احمدیہ تحریک بری طرح سے متاثر ہوئی۔ مختلف زبانوں میں ان کتابوں کے ترجمے بھی کیے گئے۔

وفاتترميم

مولانا سید محمد علی مونگیری ہمیشہ سے گردے کی تکلیف میں مبتلا رہے۔ تکلیف کبھی بڑھ جاتی، کبھی کم ہوجاتی۔ ایک دن سخت بخار آیا اور صاحبِ فراش ہو گئے۔ ایک دن گردے کے درد کا بھی سخت دورہ پڑا۔ گیارہ دن مرض وفات میں گزارنے کے بعد بالآخر 9 ربیع الاول 1346ھ بہ مطابق 13 ستمبر 1927ء کو ظہر کی نماز کے بعد "اللہ" "اللہ" کا ورد کرتے ہوئے وفات پائی۔ مغرب کے بعد نماز جنازہ ادا کر کے سپرد خاک کیا گیا۔ اولاد کے علاوہ تقریباً دو درجن خلفاء اور ہزاروں مریدین و متوسلین چھوڑے۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. سیرت مولانا سید محمد علی مونگیری، مصنف: سید محمد الحسنی، ص:1،2
  2. سیرت مولانا محمد علی مونگیری، ص:7،8
  3. کمالات محمدیہ، ص:282
  4. سیرت مولانا محمد علی مونگیری، ص:16
  5. سیرت مولانا محمد علی مونگیری، ص:18-26
  6. کمالات محمدیہ، ص:133-135
  7. سیرت مولانا مونگیری، ص:37-49
  8. سیرت مولانا مونگیری، ص:51-63
  9. تاریخ ندوۃ العلماء، جلد اول، ص:30
  10. سیرت مولانا محمد علی مونگیری، ص:125
  11. سیرت مولانا محمد علی مونگیری، ص:146،147
  12. سیرت مولانا محمد علی مونگیری، ص:284-290
  13. "مولانا محمد علی مونگیری کی یادگار جامعہ رحمانی، خانقاہ مونگیر". ETV Bharat Urdu. اخذ شدہ بتاریخ 14 نومبر 2019. 
  14. بانی ندوۃ العلماء (2016). سیرت حضرت مولانا سید محمد علی مونگیری. لکھنؤ، اترپردیش: مجلس صحافت و نشریات ندوۃ العلماء لکھنؤ. صفحات 271–272. 
  15. سیرت مولانا مونگیری، ص:291
  16. سیرت مولانا محمد علی مونگیری، ص:308-320

بیرونی روابطترميم