پوروانچل شمالی بھارت کا ایک جغرافیائی علاقہ ہے جو صوبہ  اتر پردیش کے مشرقی کنارے پر واقع ہے، جہاں اکثریت کی زبان ہندی اور بھوجپوری ہے۔ پوروانچل کی سرحدیں شمال میں نیپال سے، مشرق میں بہار اور جنوب میں مدھیہ پردیش کے باگھالکھنڈ سے اور مغرب میں اتر پردیش کے علاقہ اودھ اور جنوب مغرب میں نچلے دو آبہ (کانپورفتح پورالہ آباد خطہ) سے ملتی ہیں۔

1890ء کے بنارس کی ایک پینٹنگ
وارانسی کی سیاحت کو ہر سال لاکھوں سیاح جاتے ہیں۔
گورکھپور کا گورکھ ناتھ مندر
اتر پردیش کے علاقے مع فہرست اضلاع

پوروانچل بنیادی طور پر چار اہم ڈویژن پر مشتمل ہے: مغرب میں  مشرقی اودھی خطہ، مشرق میں مغربی بھوجپوری خطہ، جنوب میں باگھالکھنڈ کا خطہ اور شمال میں نیپال کا خطہ۔ یہ سندھ گنگا سطح مرتفع (Indo-Gangetic Plain) پر واقع ہے اور مغربی بہار کو ملا کر دنیا کی سب سے زیادہ گنجان آبادی والا علاقہ ہے۔ دیگر اضلاع کے مقابلہ میں یہاں کی مٹی زیادہ زر خیز ہے۔

ہندی کے علاوہ اس خطہ میں بھوجپوری اور اس سے ملتی جلتی بولیاں زیادہ رائج ہیں۔ اگرچہ اودھی اور باگھالکھنڈی بھی مغربی اور جنوبی علاقوں میں بولی جاتی ہیں۔ صوبہ بہار کی طرح یہاں بھی گنجان آبادی، سست اقتصادی ترقی، صنعتوں کی کمی اور شوگر ملوں کے بند ہونے کی وجہ بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔

ایک عرصہ سے صوبہ اترپردیش کے اضلاع میں سے 17 کو علاحدہ کرکے پوروانچل کے نام سے صوبہ بنانے کی مانگ ہوتی رہی ہے۔ اس وقت خطہ پوروانچل سے لوک سبھا میں 30 ممبر پارلیمینٹ اور اترپردیش کی 403 سیٹوں والی ریاستی اسمبلی میں 117 ممبر ہیں۔

وارانسی اور گوکھپور اس خطہ کے اضلاع میں ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔  وارانسی کو مستقبل کے صوبہ پوروانچل کے ممکنہ دار الحکومت کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ گورکھپور بھی اہم شہر ہے، لیکن سیاسی اور صنعتی اعتبار سے کم حیثیت رکھتا ہے۔

1991ء میں حکومت اترپردیش نے پوروانچل وکاس ندھی قائم کی تاکہ علاقائی ترقی کے منصوبوں کو سرمایہ دے کر آگے بڑھایا جا سکے اور صوبہ کے مختلف علاقوں کے درمیاں توازن برقرار رہے۔ لیکن بد عنوانی کی وجہ سے حالات ابھی تک بدستور خراب ہیں۔

پوروانچل کی زبانیںترميم

پوروانچل میں ایک بڑی تعداد بھوجپوری زبان بولتی ہے، جبکہ اس کے مغربی خطہ میں زیادہ تر اودھی زبان بھوجپوری کے تھوڑے بہت تاثر کے ساتھ بولی جاتی ہے۔

پوروانچل میں اودھ کے خطےترميم

 
1777ءکے دہلی، آگرہ اور اودھ کا ایک نقشہ

پوروانچل کی تاریخترميم

پوروانچل کے بارے میںترميم

 
گوپی گنج، سنت روای داس نگر، بھدوہی کا ایک قالین کا تاجر

پوروانچل کے اضلاعترميم

پوروانچل میں اترپردیش کے مندرجہ ذیل 17 اضلاع شامل ہیں:[1]

پوروانچل میں مغربی بہار کے مندرجہ ذیل اضلاع بھی شامل ہو سکتے ہیں:

بھوج پور، بکسر، کیمور، مشرقی اور مغربی چمپارن، ساران، سیوان اور گوپال گنج۔

تعلیمترميم

 
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (BHU) وارانسی ، اترپردیش

اہم جامعاتترميم

 
اسکول آف بائیو ٹیکنالوجی ، فیکلٹی آف سائنس ، بنارس  ہندو یونیورسٹی
  • دین دیال اپادھیائے گورکھپور یونیورسٹی، Gorakhpur
  • پوروانچل  یونیورسٹی،جونپور
  • مہاتما گاندھی کاشی ودھیاپیٹھ، وارانسی
  • مرکزی انسٹی ٹیوٹ برائے  اعلی تبتی مطالعہ، وارانسی
  • سمپورنانند سنسکرت یونیورسٹی، وارانسی
  • مہاتما گاندھی کاشی ودھیاپیٹھ، وارانسی

اہم انجینئری، میڈیکل اور ریسرچ ادارےترميم

اقتصادی خطےترميم

سیاحوں کی دلچسپی کے مقاماتترميم

 
کھدائی میں نکلی مہاتما بدھ کی تصویر، پرینروانا مندر، کشی نگر
 
ودھیانچل مندر کے داخلی دروازہ کے اندر
 
کشی نگر میں واقع رامابھر استوپا

اہم شاہراہیں،  ریلوے اور ہوائی اڈےترميم

اہم سڑکیںترميم

  • NH-2,
  • قومی شاہراہ 7 (بھارت) (پرانے نمبر)،
  • NH-19
  • NH-233B
  • NH-28
  • NH-29
  • NH-56
  • NH-97
  • گولڈن ہشت رویہ سڑک

ہوائی اڈےترميم

پوروانچل کی قابل ذکر شخصیاتترميم

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. "Proposed Purvanchal Map". اخذ شدہ بتاریخ 19 جون 2016. 

بیرونی روابطترميم