پھالیہ (Phalia) ضلع منڈی بہاؤالدین پنجاب، پاکستان کا ایک تاریخی شہر ہے۔جس کی آبادی 2007 کی مردم شماری مطابق تقریبا 25,914 [1]ہے

تحصیل
Skyline of پھالیہ Phalia
ملکپاکستان
صوبہپنجاب
ضلعضلع منڈی بہاؤالدین
تحصیلتحصیل پھالیہ
حکومتلوکل گورنمنٹ
 • قسمیونین کونسل
بلندی0.205 میل (672 فٹ)
آبادی (2007)
 • کل25,914
منطقۂ وقتپاکستان کا معیاری وقت (UTC+5)
ٹیلی فون کوڈ0546
ویب سائٹhttps://www.phalia.pk

جغرافیہترميم

پھالیہ 32.43 N عرض بلد اور 73.58 E طول بلد پر واقع ہے۔  یہ منڈی بہاؤالدین اور گجرات کے مرکزی شہروں کے مابین ہے ، منڈی بہاؤالدین سے تقریبا 23 کلومیٹر ،گجرات سے 50 کلومیٹر، ملکوال سے 45 کلومیٹر اور M-2 موٹر وے سے 80 کلومیٹر دوری پر واقع ہے ۔ سطح سمندر سے اونچائی تقریبا 672 فٹ (205 میٹر) ہے ۔

تاریخترميم

سکندر اعظم (الیگزینڈر) اور اس کی فوج نے جولائی 326 قبل مسیح میں دریائے جہلم [ہائیڈاسپس] کی لڑائی میں جہلم عبور کیا جہاں اس نے ہندوستانی بادشاہ پورس کو شکست دی۔  اریان ( اناباسیس ، 29) کے مطابق ، اس نے اسی جگہ پر ایک شہر تعمیر کیا جہاں سے اس نے اپنے مشہور اور وفادار گھوڑے بوکیفلس یا بیوفاسالس کی یاد میں اس کا نام بوسفالہ یا بوسیفالا رکھا تھا۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ قدیم بوسیفالا جدید جہلم شہر کے مقام کے قریب تھا لیکن یہ غلط ہے۔ پھالیہ کا نام بوسیفالس کے نام پر سکندر کے مردہ گھوڑے کے نام پر رکھا گیا تھا۔ تاریخ میں پھالیہ شہر کا نام سکندر اعظم کے آبائی شہر پالا سے بھی منسوب کیا جاتا ہے۔

اسکول اور کالجترميم

پھالیہ شہر کا جدید تعارف اردگرد کے اضلاع میں تعلیم اور فنی مہارت کے طور پر ابھرا ہے۔خاص طور پر مختلف اضلاع کے لوگ بچوں کو تعلیم کےلیے پھالیہ شہر کے تعلیمی اداروں کی طرف رجوع کرتے ہیں .

اسکولترميم

پھالیہ میں اور بھی بہت سے سرکاری اور نجی اسکول ہیں۔

کالجزترميم

اے ای یو اسٹڈی سینٹرترميم

  • گورنمنٹ پائلٹ سیکنڈری اسکول پھالیہ میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے پھالیہ شہر میں علاقائی دفتر کھولا

سابقہ نامور حکمرانترميم

  • الیگزینڈر کے بعد پھالیہ کئی نامور حکمرانوں کی سلطنت کے ادوار سے گذرا ۔
  • 997 عیسوی میں سلطان محمود غزنوی نے ، اپنے والد سلطان کی قائم کردہ غزنوی سلطنت کا اقتدار سنبھالا ، 1005عیسوی میں اس نے کابل میں شاہیوں کو شکست دے کر فتح کیا اور اس کے بعد اس نے پھالیہ اورمضافاتی علاقے فتح کیے۔
  • دہلی سلطنت اور بعد میں مغل سلطنت نے بھی پھالیہ اوراس خطے پر حکومت کی۔
  • صوفی فقیروں کی عظیم خدمات اور کاوشوں کی وجہ سے یہ خطہ بنیادی طور پر مسلمان ہو گیا تھا جن کی درگاہیں اب بھی پھالیہ کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں۔ ان دینی خدمات میں سرکردہ نام سید شیر شاہ شرف بخاری دوگل ہیں جو کہ1233 عیسوی میں اُوچ شریف سے ہجرت کرکے پھالیہ سے متصل گاوں دوگل آکر آباد ہوئے ۔ ان کے ساتھ آئے آٹھ قوموں کے خاندان اب پھالیہ کے اصل باسی ہیں ۔
  • مغل سلطنت کے زوال کے بعد یہ علاقہ سکھوں کےماتحت بھی رہا ۔ سکھوں کے دور حکومت میں مسلمانوں کو سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
  • 1840 عیسوی کے بعد برطانوی حکمرانی کے دور میں اس علاقے کی آبادی اور اہمیت میں اضافہ ہوا۔

ذیلی محلےترميم

پھالیہ کے چار بڑے محلوں کے نام تارڑ قبیلے کے آبا و اجداد کے ناموں پر رکھے گئے ہیں۔

  1. پھالیہ امیر "محمد عامر" کے لیے
  2. پھالیہ کیماں "محمد کریم" کے لیے
  3. پھالیہ مہماں "محمد خان" کے لیے
  4. پھالیہ بوٹا "محمد بوٹا" (جسے "نواں لوک" بھی کہا جاتا ہے)

جدید تعمیرات پہ مبنی پانچ نئے ٹاون زیر تعمیر ہیں جن میں گلزار ٹاون ،شالیمار ٹاون وغیرہ شامل ہیں

موسم اور آب و ہواترميم

پھالیہ میں معتدل آب و ہوا ہے ، جو موسم گرما میں گرم اور سردیوں میں سرد ہوتی ہے۔ گرمی کے موسم میں ، دن کا درجہ حرارت 45 سینٹی گریڈ تک بڑھ جاتا ہے۔ سردی کے مہینے میں کم سے کم درجہ حرارت منفی دو سینٹی گریڈ سے نیچے آسکتا ہے۔  تحصیل پھالیہ میں اوسطا سالانہ بارش 50 ملی میٹر ہوتی ہے۔[2]

مضافاتی شہرترميم

  1. "pdf" (PDF). 03 فروری 2019 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. 
  2. ڈیجیٹل ساوتھ ایشیا لائبریری.