ژینگ ہی (1371ء -1433ء) جن کا اصل نام حاجی محمود شمس الدین تھا، ایک چینی مسلمان سیاح، سفیر اور بحری سالار تھے۔ انہوں نے 1405ء اور 1433ء کے درمیان جنوب مشرقی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرقی افریقہ کو بھیجی جانے والی کئی بحری مہمات کی قیادت کی۔ انہیں عربی اور چینی دونوں زبانوں پر عبور تھا۔

ژینگ ہی
(چینی میں: 鄭和 ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Zheng He.jpg
ژینگ ہی کا مجسمہ

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (چینی میں: 馬和 ویکی ڈیٹا پر (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 1371[1]
کنینگ، یوننان، چین[1]
وفات 1433ء (عمر 61–62) یا
1435ء (عمر 63–64)
نانجنگ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت منگ خاندان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دیگر نام Ma He
Sanbao
نسل ہوئی قوم[2]  ویکی ڈیٹا پر (P172) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
عملی زندگی
پیشہ ملاح، سفارت کار، سیاح اور محل کا خواجہ سرا
پیشہ ورانہ زبان چینی زبان[3]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت شہنشاہ یونگلو،  شہنشاہ ہونگشی  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
کمانڈر منگ خزانہ اسفار  ویکی ڈیٹا پر (P598) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Zheng He
روایتی چینی 鄭和
سادہ چینی 郑和
Ma He
روایتی چینی 馬和
سادہ چینی 马和
Sanbao
روایتی چینی 三寶
سادہ چینی 三宝
لغوی معنی Three Jewels[4]
Three Treasures

ان کے جد امجد سید اجل شمس الدین ایرانی النسل تھے جو منگول دورِ حکومت میں چین کے صوبہ یوننان کے گورنر بنائے گئے۔ یوننان ہی میں ژینگ ہی کی پیدائش ہوئی۔

1405ء اور 1433ء کے درمیان چین کی مِنگ حکومت نے سات بحری مہمات بحر ہند کے مختلف ساحلوں کی طرف بھیجیں۔ ژینگ ہی کو ان مہمات اور ان پر جانے فوجی دستوں کا سالار بنایا گیا۔ ان میں سے صرف پہلی مہم میں 317 جہاز اور 28000 فوجی اور دیگر کارکن شامل تھے۔ ژینگ ہی ان مہمات میں عرب، برونائی، مشرقی افریقہ، ہندوستان، جزائر ملایا اور تھائی لینڈ گئے۔ ژینگ نے مقامی حکمرانوں کو سونے، چاندی، چینی برتنوں اور ریشم کے تحائف پیش کیے جبکہ مختلف مقامی بادشاہوں نے انہیں شتر مرغ، زیبرے، اونٹ، ہاتھی دانت اور زرافے تحفے میں دیے۔

نگار خانہترميم

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب Dreyer 2007, 11.
  2. https://www.britannica.com/biography/Zheng-He
  3. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb120817039 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ