گل محمد انگریزی: Gul Mohammad (پیدائش: 15 اکتوبر 1921ء لاہور، پنجاب) | (وفات: 8 مئی 1992ء لاہور، پنجاب) ایک پاکستانی کرکٹ کھلاڑی ہے۔[1]جنھوں نے مجموعی طور پر 9 ٹیسٹ میچ کھیلے جن میں سے آٹھ بھارت جبکہ پاکستان کی طرف سے ایک ٹیسٹ میچ کھیلا ان کا شمار بھی گنے چنے کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جنھوں نے پاکستان اور بھارت کی طرف سے کرکٹ کھیلی۔ ان کے علاوہ یہ اعزاز عبدالحفیظ کاردار اور امیر الٰہی کو حاصل ہے۔ گل محمد 5-5 فٹ کے حامل کھلاڑی تھے مگر کمال کے باصلاحیت ابتدائی نمبروں کے بیٹسمین اور کور پوزیشن کے عمدہ فیلڈر تھے۔

گل محمد ٹیسٹ کیپ نمبر24
ذاتی معلومات
پیدائش15 اکتوبر 1921(1921-10-15)
لاہور، پنجاب، برطانوی ہند
وفات8 مئی 1992(1992-50-80) (عمر  70 سال)
لاہور، پنجاب، پاکستان
قد5 فٹ 5 انچ (1.65 میٹر)
بلے بازیبائیں ہاتھ کا بلے باز
گیند بازیبائیں ہاتھ کا میڈیم گیند باز
بین الاقوامی کرکٹ
قومی ٹیم
پہلا ٹیسٹ (کیپ 27/24)22 جون 1946 
بھارت  بمقابلہ  انگلینڈ
آخری ٹیسٹ11 اکتوبر 1956 
پاکستان  بمقابلہ  آسٹریلیا
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ فرسٹ کلاس
میچ 9 118
رنز بنائے 205 5,614
بیٹنگ اوسط 12.81 33.81
100s/50s 0/0 12/21
ٹاپ اسکور 34 319
گیندیں کرائیں 77 7,295
وکٹ 2 107
بولنگ اوسط 12.00 27.20
اننگز میں 5 وکٹ 3
میچ میں 10 وکٹ 0
بہترین بولنگ 2/21 6/60
کیچ/سٹمپ 3 60
ماخذ: کرک انفو، 13 جون 2016

ابتدائی زمانہ

ترمیم

گل محمد نے اپنے فرسٹ کلاس کیریئر کا آغاز 17 سال کی عمر میں کیا۔ بمبئی پنٹنگولر ٹورنامنٹ کے پہلے میچ میں 95 رنز بنائے۔ 1942-43ء میں انھوں نے بیجا پوری فیمین الیون کی طرف سے بنگال سیلون الیون کے خلاف 144 رنز کی بھرپور باری کھیل ڈالی اور وجے ہزارے کے ساتھ مل کر 302 رنز کی شراکت قائم کی۔ یہ ایک بڑا سکورنگ میچ تھا جس میں دونوں ٹیموں نے 376 رنز سکور کیے۔ گل محمد کو اس وقت حقیقی شہرت ملی جب انھوں نے 1946-47ء میں بروڈہ کی طرف سے رانجی ٹرافی کے فائنل میں ہولکر کے خلاف 319 رنز کی ناقابل فراموش باری کھیلی۔ گل محمد جب کریز پر آئے تو اس وقت 91 رنز پر 3 وکٹ گر چکے تھے۔ انھوں نے وجے ہزارے کے ساتھ مل کر 527 رنز کی شراکت بنائی جو اس وقت ایک عالمی ریکارڈ تھا۔ وجے ہزارے کی باری کی بھی کمال کی تھی جنھوں نے ساڑھے 10 گھنٹے میں 288 رنز بنائے۔ ان دونوں نے اس اننگ کے دوران دو ریکارڈ توڑے تھے۔ پہلے تو لالا امرناتھ اور رس موڈی کے درمیان 410 رنز کا ریکارڈ ان کے نرغے میں آیا اور اس کے بعد وہ فرینک وورل اور کلائیڈ والکوٹ کا 574 ناٹ آئوٹ کا ریکارڈ بھی عبور کرنے میں کامیاب رہے۔اس کے بعد انھوں لنکا شائر کائونٹی کو جوائن کیا تاہم 1955ء میں وہ پاکستانی شہریت حاصل کرنے سے قبل رانجی ٹرافی کھیلتے رہے۔

ٹیسٹ کرکٹ

ترمیم

گل محمد نے بھارت کی طرف سے 1946ء میں انگلستان اور اس کے بعد 1947-48ء میں آسٹریلیا کا دورہ کیا اور اس دوران ان کی کارکردگی کچھ خاص نہیں رہی۔ ان کا زیادہ سے زیادہ سکور 34 تھا جو انھوں نے آسٹریلیا کے خلاف ایڈلیڈ کے مقام پر دوسری اننگ میں بنائے تھے جبکہ ان کے ساتھ وجے ہزارے نے میچ میں دوسری سنچری سکور کی۔ 1952-53ء میں انھوں نے بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف دو ٹیسٹ میچ کھیلے۔ پاکستان آنے کے بعد گل محمد نے 1956-57ء میں پاکستان کی طرف سے کرکٹ کا آغاز تھا جو صرف ایک ٹیسٹ تک محدود تھا اس ٹیسٹ میں آسٹریلیا کے خلاف انھوں نے 12 اور 27 ناٹ آئوٹ بنائے اور پاکستان کی فتح کے وقت وننگ ون سکور کیا۔

ریٹائرمنٹ کے بعد

ترمیم

ریٹائرمنٹ کے بعد کرکٹ ایڈمنسٹریشن کا حصہ بن گِئے اور 1952ء تک قذافی اسٹیڈیم میں ڈائریکٹر کرکٹ بورڈ کی حیثت سے مصروف کار ہو گئے اس کے بعد ان کو پنجاب سپورٹس بورڈ میں کرکٹ کوچ کی ذمہ داریاں مل گئیں۔

اعدادوشمار

ترمیم

انھوں نے پاکستان ،بھارت کے علاوہ بروڈہ ،حیدرآباد (بھارت) لاہور ،مسلم اور ناردرن انڈیا کی طرف سے بھی کرکٹ کھیلی[2] انھوں نے 9 ٹیسٹ میچوں کی 17 اننگز میں ایک مرتبہ ناٹ آوٹ رہ کر 12.81 کی اوسط سے 205 رنز بنائے 34 ان کا سب سے زیادہ سکور تھا جبکہ فرسٹ کلاس کرکٹ کے 118 میچز کی 187 اننگز میں 21 مرتبہ ناٹ آوٹ رہ کر 5614 رنز 39.81 کی اوسط سے بنائے 12 سنچریاں اور 21 نصف سنچریاں اس میں شامل تھیں جبکہ 60 کیچز بھی ان کے ریکارڈ کا حصہ تھے 319 ان کا کسی ایک اننگ کا بہترین سکور تھا ہہ امر قابل ذکر ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں انھوں نے 2 اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں انھوں نے 107 وکٹیں بھی حاصل کر رکھی تھیں۔

وفات

ترمیم

گل محمد کو جگر کے کنیسر کا مرض لاحق تھا اور وہ اسی مرض کے باعث 70 سال 206 دن کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے۔

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. انگریزی ویکیپیڈیا کے مشارکین۔ "Gul Mohammad" 
  2. https://www.espncricinfo.com/player/gul-mohammad-40329