پروفیسر گیان چند جین اردو کے پروفیسرہونے کے ساتھ ساتھ نقاد، محقق، ادیب اور شاعر کے طور پر شہرت رکھتے تھے۔

پروفیسر گیان چند
معلومات شخصیت
پیدائش 19 ستمبر 1923(1923-09-19)
سیوہارا، بجنور، بھارت
وفات اگست 19، 2007(2007-80-19) (عمر  83 سال)
پورٹ ولے، کیلی فورنیا، ریاستہائے متحدہ امریکہ
قومیت بھارتی
عملی زندگی
پیشہ مدرس (اردو کے پروفیسر)
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ شہرت نقاد، محقق، ادیب، شاعر
کارہائے نمایاں ایک بھاشا، دو لکھاوٹ
اعزازات
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ  (برائے:Zikr-O-Fikr) (1982)[1]
IND Padma Shri BAR.png پدم شری اعزاز برائے ادب و تعلیم   ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

پیدائشترميم

گیان چند سیوہارا، بجنور ضلع، بھارت[2] میں 19 ستمبر 1923ء کو پیدا ہوئے تھے۔[3]

ملازمتترميم

پروفیسر گیان چند حسب ذیل تعلیمی اداروں میں پڑھا چکے ہیں:

  • بطور صدر شعبہ، حمیدیہ کالج[2]
  • شعبہ اُردو، یونیورسٹی آف لکھنؤ، لکھنؤ
  • شعبہ اُردو ،جموں یونیورسٹی، جموں
  • شعبہ اُردو، برکت اللہ یونیورسٹی بھوپال، بھوپال[3]
  • شعبہ اُردو، حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی، حیدرآباد، دکن

اس کے علاوہ گیان چند جموں، الہ آباد میں بھی درس دے چکے ہیں۔ وہ لکھنؤ منتقل ہوئے اور بعد میں ریاستہائے متحدہ امریکا چلے گئے۔[2]

ادبی ذوقترميم

  • گیارہ سال کی عمر میں گیان چند نے پہلی بار غزل لکھی تھی۔
  • وہ ایک ماہرغالبیات کے طور پر شہرت رکھتے ہیں۔[2]

تنازعترميم

گیان چند جین نے ایک کتاب اپنے انتقال سے کچھ وقت پہلے لکھی تھی جس کا عنوان تھا ایک بھاشا دو لکھاوٹ، دو ادب۔ اس میں غیر مسلم اردو مصنفین کی طرف تنگ نظری کی بات کہی گئی تھی جس پر کئی گوشوں سے ہنگامہ ہوا تھا۔ شمس الرحمٰن فاروقی اور مرزا خلیل احمد بیگ نے ان الزامات کی تردیدی تحریریں پیش کی تھیں۔ تاہم کئی دانشوروں کی رائے تھی کہ جین خود بیمار تھے اور ممکن ہے کہ کچھ مفاد پرست عناصر اس موقع پر غیر ضروری تصادم پیدا کرنا چاہتے تھے۔ کتاب میں کئی فاش غلطیاں تھیں جو ان جیسے ماہر شخص سے سرزد نہیں ہو سکتی تھیں جو اردو کے کئی انعامات حاصل کر چکا تھا۔[2]

انتقالترميم

2007ء میں گیان چند جین کا انتقال ہو گیا۔[2]

حوالہ جاتترميم