سلطنت عثمانیہ کی نویں فوج ( ترکی : Dokucuncu Ordu) عثمانی فوج کی میدانی فوجوں میں سے ایک تھی ۔ یہ پہلی جنگ عظیم کے دوران تشکیل دی گئی تھی۔

نویں فوج
فعال7 جون 1918[1] – 3 اپریل 1919[2]
ملکFlag of the Ottoman Empire (1844–1922).svg سلطنت عثمانیہ
تابعدارFlag of the Ottoman Empire (1844–1922).svg سلطنت عثمانیہ
قسممیدانی فوج
فوجی چھاؤنی /ایچ کیوقارص, ارض روم
سرپرستسلطنت عثمانیہ کے سلاطین
معرکےقفقاز مہم (جنگ عظیم اول)
کمان دار
قابل ذکر
کمان دار
يعقوب شوقي پاشا ( 8 جون 1918[3] – 3 اپریل 1919[2])

جنگ عظیم اولترميم

نظام جنگ، جون 1918ترميم

جون 1918 میں ، فوج کی تشکیل اس طرح کی گئی تھی: [4]

  • نویں فوج، ( میرلیوا يعقوب شوقی پاشا)
    • اول قفقازی دستہ ( میر لیوا موسیٰ کاظم قرۃ بکر پاشا )
      • نویں قفقازی ڈویژن ، دسویں قفقازی ڈویژن ، پنررھویں ڈویژن
    • چہارم دستہ (میر لیوا علی احسان پاشا )
      • پانچویں ڈویژن ، گیارھویں ڈویژن ، بارھویں ڈویژن
    • خود مختار گھڑسوار دستہ

نظام جنگ ، ستمبر 1918ترميم

ستمبر 1918 میں ، فوج کی تشکیل اس طرح کی گئی تھی: [5]

  • نویں فوج، ( میرلیوا يعقوب شوقی پاشا)
    • نویں قفقازی ڈویژن، گیارھویں ڈویژن ، بارھویں ڈویژن ،خود مختار گھڑسوار دستہ

مدروس کے بعدترميم

نظام جنگ ، نومبر 1918ترميم

نومبر 1918 میں ، فوج کو اس طرح تشکیل دیا گیا: [6]

نویں فوج کا فوجی نظارت ، مئی 1919ترميم

اپریل 1919 میں ، شوکت ترگت پاشا ، جواد پاشا اور چکماق مصطفی فوزی پاشا نے قسطنطنیہ کے مقام پر ایک خفیہ اجلاس کیا۔ انہوں نے "تین حلف" ( Üçler Misâkı ) کے نام سے ایک رپورٹ تیار کی اور وطن کے دفاع کے لیے آرمی انسپکٹریٹ(نظارت) قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اپریل کے آخر میں ، چکماق مصطفی فوزی پاشا نے یہ رپورٹ وزیرجنگ شاکر پاشا کو پیش کی ۔ 30 اپریل ، 1919 کو ، وزارت جنگ اور سلطان محمد ششم نے فوجی نظارت (انسپکٹریٹ) کے قیام کے فیصلے کی توثیق کی جسے سپہ سالار اعلیٰ نے بھی قبول کر لیا [7] اور پھر پہلی فوج کا فوجی انسپکٹریٹ(نظارت) (قسطنطنیہ میں واقع ، چکماق مصطفی فوزی پاشا) ، یلدرم فوجی انسپکٹریٹ(نظارت) (کونیا ، مرسینلی جمال پاشا ، بعد میں دوسری فوج کا نظارت) ، نویں فوج کا فوجی نظارت (جو ارض روم میں تھا ، مصطفی کمال پاشا ، بعد میں تیسری فوج کا نظارت) تشکیل دئے گئے۔ مزید برآں ، رومییلی فوجی دستوں کا نظارت ( نور الدین پاشا ) کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور آٹھواں دستہ وزارتِ جنگ کے ماتحت ہوگا۔ [8] مئی 1919 میں ، فوجی نظارت (انسپکٹریٹ) کو کچھ اس طرح تشکیل دیا گیا: [9] [10]

  • نویں فوج کا فوجی نظارت ( دوکوزنکو اردو کیٹی موفیٹیشلیگی ، ارض روم ، ناظر(انسپکٹر): میر لیوا مصطفیٰ کمال پاشا ، جس کا نام 15 جون 1919 کوتیسری فوج کا فوجی نظارترکھا گیا)
    • تیسرا دستہ ( سیواس ، کرنل(میرِاعلیٰ) رفعت بے )
      • پانچویں قفقازی ڈویژن
      • پندرھویں ڈویژن
    • XV کور (ارض روم، میرِلیوا موسیٰ کاظم قرۃ بکرپاشا )
      • تیسری قفقازی ڈویژن
      • نوویں قفقازی ڈویژن
      • گیارہویں قفقازی ڈویژن
      • بارھویں ڈویژن
  1. Edward J. Erickson, Edward J. Erickson, Order to Die: A History of the Ottoman Army in the First World War, Greenwood Press, 2001, آئی ایس بی این 0-313-31516-7, p. 187.
  2. ^ ا ب Zekeriya Türkmen, Mütareke Döneminde Ordunun Durumu ve Yeniden Yapılanması (1918-1920), Türk Tarih Kurumu Basımevi, 2001, آئی ایس بی این 975-16-1372-8, p. 39.
  3. T.C. Genelkurmay Harp Tarihi Başkanlığı Yayınları, Türk İstiklâl Harbine Katılan Tümen ve Daha Üst Kademelerdeki Komutanların Biyografileri, Genkurmay Başkanlığı Basımevi, Ankara, 1972, p. 23.
  4. Edward J. Erickson, Order to Die: A History of the Ottoman Army in the First World War, Greenwood Press, 2001, آئی ایس بی این 0-313-31516-7, p. 188.
  5. Edward J. Erickson, Order to Die: A History of the Ottoman Army in the First World War, Greenwood Press, 2001, آئی ایس بی این 0-313-31516-7, p. 197.
  6. Edward J. Erickson, Order to Die: A History of the Ottoman Army in the First World War, Greenwood Press, 2001, آئی ایس بی این 0-313-31516-7, p. 202.
  7. Zekeriya Türkmen, Mütareke Döneminde Ordunun Durumu ve Yeniden Yapılanması (1918-1920), Türk Tarih Kurumu Basımevi, 2001, آئی ایس بی این 975-16-1372-8, p. 105.
  8. Zekeriya Türkmen, Mütareke Döneminde Ordunun Durumu ve Yeniden Yapılanması (1918-1920), Türk Tarih Kurumu Basımevi, 2001, آئی ایس بی این 975-16-1372-8, p. 106.
  9. Zekeriya Türkmen, Mütareke Döneminde Ordunun Durumu ve Yeniden Yapılanması (1918-1920), Türk Tarih Kurumu Basımevi, 2001, آئی ایس بی این 975-16-1372-8, p. 333.
  10. Zekeriya Türkmen, Mütareke Döneminde Ordunun Durumu ve Yeniden Yapılanması (1918-1920), Türk Tarih Kurumu Basımevi, 2001, آئی ایس بی این 975-16-1372-8, pp. 111-112.