ابن فرحون

مدینہ منورہ میں فقہ مالکیہ کے محدث، مؤرخ اور عالم

ابن فرحونابن فرحون المالکی (پیدائش: 1358ء— وفات: 4 ستمبر 1397ء) مدینہ منورہ سے تعلق رکھنے والے عالم دین، محدث، مؤرخ اور فقیہ تھے۔

ابن فرحون
(عربی میں: إبراهيم بن علي بن محمد)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1358ء [2]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ [1]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 4 ستمبر 1397ء (38–39 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ [1]،  سلطنت مملوک   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن جنت البقیع   ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مصنف ،  عالم [1]  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سوانح ترمیم

نسب ترمیم

ابن فرحون کا نام برہان الدین ابراہیم بن علی بن محمد ہے۔ نسب یوں ہے: ابراہیم بن علی بن محمد بن ابی القاسم بن محمد بن فرحون الیَعْمَرِی [3]۔ آپ کے آباؤ اَجداد میں فرحون نامی شخصیت سے آپ کو ابن فرحون کہا جاتا ہے۔ فقہ مالکی کے شیخ و محدث ہونے کی نسبت سے ابن فرحون المالکی بھی کہلاتے ہیں۔ آباؤ اَجداد اندلس کے شہر جیان کے قریب ایک گاؤں اُئیان (Uiyan) میں آباد رہا تھا اور بعد اَزاں حجاز میں مدینہ منورہ میں آ کر آباد ہوئے تھے۔ اِسی نسبت سے الیَعْمَرِی الجَیَانِی بھی کہلاتے ہیں۔ [4]

پیدائش ترمیم

ابن فرحون 760ھ مطابق 1358ء میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔

تعلیم ترمیم

ابن فرحون نے ابتدائی تعلیم اپنے والد علی بن محمد سے حاصل کی اور بعد اَزاں والد کے اساتذہ سے بھی اِکتساب علم کیا۔ چچا ابو محمد شرف الدین الاَسْنَوِی سے اور جمال الدین الدَّمَنْہُورِی، محمد بن عَرَفہ اور اُن کے فرزند محمد بن محمد بن عَرَفہ سے بھی علم حاصل کیا۔ محمد بن محمد بن عَرَفہ سے 792ھ کے حج کے موقع پر تحصیل علم کیا۔ قاضیٔ مدینہ منورہ شرف الاَھبُوطِی سے صحیح بخاری، جامع الاصول و الملخص تالیف الطرطوشی اور موطأ پڑھی۔ چچا ابو محمد شرف الدین الاَسْنَوِی سے صحیح مسلم اور دلائل النبوۃ پڑھی۔[5]

اسفار علمی ترمیم

ابن فرحون مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ تک محدود نہ رہے بلکہ وہ متعدد بار قاہرہ گئے اور 792ھ مطابق 1390ء میں بیت المقدس اور دمشق بھی گئے۔ محققین کا خیال ہے کہ حرمین سے باہر دِیگر اَسفار کا مقصد تحصیل علم بھی ہو سکتا ہے لیکن یہ محض ایک خیال ہے کیونکہ اِس کی تصدیق خود ابن فرحون نے نہیں کی اور نہ اِس کی وضاحت اُن کے ہم عصر مؤرخین یا فقہائے کرام یا محدثین نے بھی تحریر نہیں کی۔

قضاۃ مدینہ منورہ ترمیم

ابن فرحون حکمرانوں کے نزدیک قابل اعتماد اور مستند خیال کیے جاتے تھے۔ ماہِ ربیع الثانی 793ھ مطابق مارچ 1391ء میں ابن فرحون کو مدینہ منورہ کی قضاۃ پر فائز کر دیا گیا اور بعد اَزاں قاضیٔ مدینہ کے نام سے بھی مشہور ہوئے۔[6]

زہد و تقویٰ ترمیم

ابن فرحون کے ہم عصر مصنفین کے مطابق وہ دِیندار مسلمان تھے۔ کثرت سے تلاوتِ قرآن کریم میں مشغول رہتے اور قرآنی دعاؤں اور وظائف و اَوراد بھی اُن کے معمولات کا حصہ تھے۔ مدینہ منورہ میں فقہ مالکی کی ترویج میں اُن کا بہت دخل تھا اور فقہ مالکی کی متعدد کتب کے وہ خود بطور مصنف و مؤلف بھی مشہور تھے۔[7]

تصانیف ترمیم

  • الديباج المذهب - مطبوع) في تراجم أعيان المذهب المالكي
  • و(تبصرة الحكام في أصول الأقضية ومناهج الأحكام - مطبوع)
  • و(درة الغواص في محاضرة الخواص - مطبوع)
  • و(طبقات علما الغرب - مخطوط)
  • و(تسهيل المهمات - مخطوط) في شرح جامع الأمهات ل ابن الحاجب
  • و(كشف النقاب الحاجب من مصطلح ابن الحاجب - مطبوع)
  • و(إرشاد السالك إلى أفعال المناسك - مطبوع)

وفات ترمیم

ابن فرحون آخری ایام میں فالج میں مبتلاء ہوئے جو اُن کے بائیں پہلو پر واقع ہوا۔ کافی ایام علیل رہے اور 10 ذوالحجہ 799ھ مطابق 4 ستمبر 1397ء کو مدینہ منورہ میں اِنتقال کرگئے۔ جنت البقیع میں تدفین کی گئی۔[8]

حوالہ جات ترمیم

  1. ^ ا ب پ ت ٹ مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://archive.org/details/ZIR2002ARAR — مصنف: خیر الدین زرکلی — عنوان : الأعلام —  : اشاعت 15 — جلد: 1 — صفحہ: 52
  2. بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb14512113w — اخذ شدہ بتاریخ: 21 مئی 2024 — مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. احمد بابا التنبکتی: نیل الابتہاج بتطریز الدِیباج، صفحہ 33۔ مطبوعہ دارالکاتب، طرابلس، 2000ء
  4. اردو دائرہ معارف اسلامیہ: جلد 1، صفحہ 386-387 ۔
  5. احمد بابا التنبکتی: نیل الابتہاج بتطریز الدِیباج، صفحہ 34۔
  6. اردو دائرہ معارف اسلامیہ: جلد 1، صفحہ 387۔
  7. اردو دائرہ معارف اسلامیہ: جلد 1، صفحہ 387۔
  8. اردو دائرہ معارف اسلامیہ: جلد 1، صفحہ 387۔