مرکزی مینیو کھولیں
احمد سنجر
(عربی میں: أحمد سنجر خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Brooklyn Museum - Sultan Sanjar and the Old Woman.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1085  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
سنجار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 8 مئی 1157 (71–72 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مرو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات پیچش  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
مدفن مقبرہ سلطان احمد سنجر سلجوقی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت سلجوقی سلطنت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
والد ملک شاہ اول  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
خاندان سلجوق خاندان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں خاندان (P53) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

سلطان احمد سنجر سلجوقی سلطنت کا عظمت و شان والا بادشاہ تھا۔

سلطنتترميم

ملک شاہ سلجوقی کا تیسرا بیٹا تھا اس کی حکومت خراسان، غزنہ،خوارزم اور ماوراءالنہر تک پھیلی ہوئی تھی اس کا نام کظبہ مین ایران آرمینیا،آذر بائیجان، موصل، دیار ربیعہ، دیار بکر اور حرمین تک پڑھا جاتا تھا،1092ء میں خراسان پر قابض ہوا اس کے بعد فارس کا بادشاہ بھی تسلیم کیا گیا،سلطان سنجر نے غزنوی خاندان کے بادشاہ بہرام شاہ کو خراج گزار بنا لیا علاؤ الدین بادشاہ غور نے بہرام شاہ کو شکست دی اور غزنی لے لیا۔ اور یہی علاؤ الدین بھی سلطان سنجر کا مطیع ہوا ۔

سلطان اعظمترميم

سلطان سنجر کو عالم اسلام میں بہت بلند مرتبہ حاصل ہوا اسے ’’سلطان اعظم‘‘ کا لقب دیا گیا اس کی شان و شوکت اور عظمت و سطوت ضرب المثل تھی۔

وفاتترميم

8 مئی 1157ء کو سلطان سنجر کا انتقال ہوا جس کے ساتھ ہی سلجوقی خاندان کا خاتمہ ہو گیا سلطان سنجر مرو میں مدفون ہے ۔[1][2]

اقبال اور سنجرترميم

علامہ اقبال نے سلطان سنجر کی عظمت و شان کو سراہا ہے ۔

شوکت سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود! فقر جنیدؔ و بایزیدؔ تیرا جمال بے نقاب!
جب نہیں کہ مسلماں کو پھر عطا کر دیںشکوہ سنجر و فقر جنید و بسطامی

حوالہ جاتترميم

  1. تاریخ ابن خلکان، جلد 1 صفحہ 217
  2. تاریخ اسلام، شاہ معین الدین احمد ندوی،حصہ چہارم صفحہ173
ماقبل 
محمد اول تپار
سلطان سلجوقی سلطنت
1118ء1153ء
مابعد 
سلجوقی سلطنت منقسم