رکن الدین برکیاروق (پیدائش: 1081ء– وفات: 2 دسمبر 1104ء) سلجوقی سلطنت کا چوتھا سلطان اور سلجوقی سلطان ملک شاہ اول کا بیٹا تھا۔ برکیاروق نے 1092ء سے 1104ء تک حکومت کی۔

برکیاروق
 

مناصب
سلجوقی سلطنت کا سلطان   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
20 نومبر 1092  – 2 دسمبر 1104 
ناصر الدین محمود اول سلجوقی  
ملک شاہ دوم  
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1080ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اصفہان   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 2 دسمبر 1104ء (23–24 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بروجرد   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات سل   ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت   ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت سلجوقی سلطنت   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد ملک شاہ دوم   ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد ملک شاہ اول   ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
احمد سنجر ،  ناصر الدین محمود اول سلجوقی ،  گوہر خاتون   ویکی ڈیٹا پر (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان سلجوق خاندان   ویکی ڈیٹا پر (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان [2]  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

پیدائش

ترمیم

برکیاروق کا نام رکن الدین بن سلطان ملک شاہ اول ہے۔ کنیت ابوالمظفر اور لقب برکیاروق رکن الدین اور خطابِ شاہی شہاب الدولہ مجد الملک ہے۔ برکیاروق کی پیدائش 474ھ/ 1081ء میں ہوئی۔[3] برکیاروق سلجوقی سلطان ملک شاہ اول کا بڑا بیٹا تھا اور اُس کی والدہ کا نام زبیدہ بیگم تھا۔[4]

تخت نشینی سے قبل کے واقعات

ترمیم

19 نومبر 1092ء کو ملک شاہ اول سلجوقی کا انتقال ہوا تو ترکان خاتون (زوجہ ملک شاہ سلجوقی) نے اِس خبر کو پوشیدہ رکھا اور اُس کی لاش کو لے کر اصفہان پہنچ گئی جہاں اُس نے ملک شاہ اول کی وفات اور اپنے نو عمر بیٹے محمود کی تخت نشینی کا اعلان کیا۔ محمود ملک شاہ اول کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا جس کی عمر محض چار سال تھی۔ فوج اور امرائے سلطنت نے محمود کے نام پر بیعت کرلی۔ عباسی خلیفہ المقتدر باللہ نے نو عمر سلجوقی سلطان محمود کے لیے خطبات میں نام شامل کرنے کی اجازت صرف اِس شرط پر دے دی کہ بلوغت سے قبل مجد الملک سلطنت کا نگران و منتظم رہے گا اور یہی مجد الملک صیغہ مال اور عزل و نصب کا اختیار اپنے پاس رکھے گا۔ ترکان خاتون (زوجہ ملک شاہ سلجوقی) نے یہ شرائط منظور کر لیں اور چند امرا کو برکیاروق کی گرفتاری کے لیے اصفہان بھیجا، چنانچہ اُس کے حکم پر برکیاروق کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا۔[5][6] ترکان خاتون (زوجہ ملک شاہ سلجوقی) کے حکومت میں آ جانے کے بعد سلجوقی سلطنت کی صورت حال خراب ہوتی گئی۔ اِن حالات سے متوفی سلطان ملک شاہ اول کی دوسری بیوی اور برکیاروق کی والدہ زبیدہ بیگم نے فائدہ اُٹھایا اور وزیر نظام الملک طوسی کے غلاموں سے مل کر اصفہان کے قید خانہ پر دھاوا بول دیا جہاں برکیاروق کو آزاد کروا لیا اور تختِ حکومت پر بٹھا دیا۔ اِن دنوں ترکان خاتون (زوجہ ملک شاہ سلجوقی) اپنے بیٹے محمود اول سلجوقی کے ہمراہ دارالخلافت بغداد میں تھی، یہ خبر سن کر وہ فوراً اصفہان کے لیے بغداد سے روانہ ہوئی۔[7][8]

ترکان خاتون (زوجہ ملک شاہ سلجوقی) جب بغداد سے روانہ ہوئی تو برکیاروق تخت سلجوقی سلطنت پر قابض ہو چکا تھا۔ ارغش نظامی اور اُس کی فوج برکیاروق کے ماتحت ہو گئی تو برکیاروق کی حکومت مستحکم ہو گئی۔ اُس نے مزید پیش قدمی کرتے ہوئے قلعہ طبرک فتح کر لیا اور جب ترکان خاتون (زوجہ ملک شاہ سلجوقی) کو یہ خبر ملی تو برہم ہوئی اور برکیاروق کو شکست فاش دینے کے لیے فوج روانہ کی مگر اُس کے بعض امرا برکیاروق سے مل گئے اور باقی فوج میدان چھوڑ کر واپس اصفہان پہنچ گئی۔ برکیاروق نے اُن کا پیچھا کیا اور اصفہان کا محاصرہ کر لیا۔ اِس دوران مختلف امرا برکیاروق کے پاس آتے رہے اور اُس کی عسکری قوت کا سبب بنتے گئے۔ اِن میں عز الملک ابو عبد اللہ حسن بن نظام الملک طوسی والی خوارزم بھی شامل تھا جو اپنے بھائیوں، اقربا اور اپنی فوج کے ہمراہ برکیاروق سے آ ملا۔ برکیاروق نے پرجوش استقبال کیا۔ امیر تاج الملک جو ترکان خاتون (زوجہ ملک شاہ سلجوقی) کا وزیر تھا اور جسے اُس نے فوج کا کمان دے کر روانہ کیا تھا، گرفتار کر لیا گیا اور اُسے برکیاروق کے سامنے پیش کیا گیا، برکیاروق نے اُسے آزاد کر دیا۔ برکیاروق تاج الملک کو عہدہ نظامت دینا چاہتا تھا لیکن فوج اُسے نظام الملک طوسی کے قتل کا ذمہ دار سمجھتی تھی، لہٰذا اُسے ماہِ محرم 486ھ میں قتل کر دیا گیا۔[7][9] ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ برکیاروق کے چچا تاج الدولہ تکش نے بھی قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا۔ اُس نے دیاربکر اور آذربائیجان پر حملہ کر دیا مگر اُس کے اور برکیاروق کے درمیان میں جنگ کی نوبت نہ آئی۔ اِس کی وجہ یہ تھی کہ تاج الدولہ تکش کے دو بڑے امرا قسیم الدولہ آق سنقر اور بوزان، والی حران اپنی فوجوں کے ہمراہ برکیاروق سے مل گئے۔ اِس پر تاج الدولہ تکش جنگ نہ کرسکا اور بلاد الشام کی طرف واپس پلٹ گیا۔[10]

 اسماعیل بن داؤد کی بغاوت

ترمیم

ترکان خاتون (زوجہ ملک شاہ سلجوقی) نے جب دیکھا کہ تخت تک کوئی راستہ باقی نہ رہا تو اسماعیل بن داؤد کی طرف رجوع کیا جو برکیاروق کا ماموں اور والی آذربائیجان تھا۔ اُسے لالچ دیا کہ اگر وہ جنگ کرکے برکیاروق کو تخت سے ہٹا دے اور سلطنت پر قبضہ کرلے تو وہ اُس سے نکاح کرلے گی۔ اسماعیل اِس فریب میں آ گیا اور اُس نے فوج جمع کرکے برکیاروق کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔ دونوں کے مابین مقامِ کرج میں جنگ ہوئی جس میں لشکر کے سردار برکیاروق سے مل گئے اور اسماعیل کو شکست ہو گئی۔ اِس پر سلطان برکیاروق کی والدہ زبیدہ بیگم نے دونوں میں مصالحت کروا دی۔ اِس مصالحت کے بعد بھی سردارانِ لشکر کمشگین، آق سنقر اور بوزان کے مابین عداوت رہی اور انھوں نے مصالحت قبول نہ کی اور کہا کہ اسماعیل تخت کا دعویدار ہے اور تخت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، لہٰذا اِن سردارانِ لشکر نے اسماعیل بن داؤد کو قتل کر دیا اور برکیاروق کو اِس کی خبر کردی۔[11] اِن واقعات کے بعد برکیاروق کے تخت کے تمام دعویدار اِس راستے سے ختم ہو گئے، برکیاروق کے مخالفین کا آہستہ آہستہ قلع قمع ہو گیا اور اُس کے والد سلطان ملک شاہ اول کی سلطنت پر مکمل قبضہ تسلیم کر لیا گیا۔

خلیفہ بغداد کی سند

ترمیم

محرم الحرام 487ھ میں خلیفہ خلافت عباسیہ المقتدی بامر اللہ نے سلطان برکیاروق کو دار الخلافہ بغداد طلب کیا اور اُسے خلعت سے نوازا۔ اُس کے نام کا خطبہ جامع بغداد میں پڑھوایا گیا، اُمورِ سلطنت کے تمام اختیارات برکیاروق کو سونپ دیے گئے۔ چند دن بعد عباسی خلیفہ المقتدی بامر اللہ کا 15 محرم الحرام 487ھ/3 فروری 1094ء کو بغداد میں انتقال ہو گیا۔[8] خلیفہ کے جانشین المستظہر باللہ نے اپنے والد کی پالیسی کو جاری رکھا اور برکیاروق سے معاملات اُسی نہج پر چلتے رہے۔

فتوحات و سلطنت

ترمیم

1094ء میں عباسی خلیفہ المقتدی بامر اللہ کی پزیرائی کے بعد برکیاروق سلجوقی سلطنت پر مکمل طور پر حکمران تسلیم کر لیا گیا۔ چنانچہ برکیاروق نے نیشاپور، خراسان، ترمذ اور خوارزم پر قبضہ کر لیا۔ لیکن اب یہ ہوا کہ برکیاروق کے دو بھائیوں کو اُمورِ مملکت میں شریک کرتے ہوئے سلطان سنجر کو خراسان اور سلطان محمد کو گنجہ اور اُس کے متعلقہ علاقوں کی حکومت تفویض کی۔ چونکہ سلطان محمد کی عمر کم تھی، اِس لیے امیر قطلغ تکین اتابک کو بطور وزیر اُس کے ہمراہ روانہ کیا گیا تھا۔ کچھ عرصہ بعد ہی سلطان محمد نے اپنے وزیر تکین اتابک کو قتل کر دیا اور تمام صوبہ ایران پر قابض ہو گیا، برکیاروق نے اُس کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔ ماہِ ذوالقعدہ 492ھ میں رے پر قبضہ کر لیا اور اُس کے ایک امیر مؤید الملک نے برکیاروق کی والدہ زبیدہ بیگم کو گرفتار کرکے قتل کر دیا۔ اِس وقت حالات اِتنے خراب ہو چکے تھے کہ برکیاروق کو بغداد چھوڑنا پڑا اور سلطان محمد اُس کی غیر موجودگی میں بغداد میں داخل ہو گیا۔ عباسی خلیفہ المستظہر باللہ نے اُسے غیاث الدنیاء والدین کا خطاب دے کر سلجوقی سلطان نامزد کر دیا اور اُس کا خطبہ پڑھا جانے لگا۔[12] کچھ ہی عرصہ کے بعد 15 صفر 493ھ اور اُس کی افواج کا سالار نیال بن انوشتگین اپنی فوج کے ساتھ بغداد آ گئے۔ برکیاروق کے بغداد آتے ہی دوبارہ جامع بغداد میں برکیاروق کا خطبہ پڑھا گیا اور سلطان محمد کا نام خطبہ سے نکال دیا گیا۔[13][14][15]

بغداد میں معرکہ مابین سلطان محمد و سلطان برکیاروق

ترمیم

15 صفر 493ھ کو سلطان برکیاروق بغداد میں داخل ہوا تو دونوں بھائیوں کے درمیان معرکہ آرائی ہوئی اور برکیاروق کی فوج بھاگ کھڑی ہوئی، جس کے سبب 5 رجب 493ھ کو سلطان محمد کا بغداد پر قبضہ ہو گیا۔ برکیاروق اپنے چند جانثاروں کے ساتھ رے پہنچا۔ سلطان محمد کے خلاف دوسری بڑی جنگ 3 جمادی الثانی 493ھ کو لڑی گئی جس میں سلطان محمدکو شکست ہوئی اور مؤید الملک کو گرفتار کرکے قتل کر دیا گیا۔[16][17]

سلطان برکیاروق کی رے شہر میں سکونت

ترمیم

3 جمادی الثانی 493ھ کو لڑی گئی جنگ میں سلطان محمد کو شکست ہوئی اور وہ جرجان روانہ ہو گیا اور اپنے بھائی سنجر سے مدد کی درخواست کی۔ دونوں بھائیوں کی ملاقات اور باہم مل جانے کے بعد سلطان برکیاروق اُن کا مقابلہ نہ کرسکا اور اُسے بغداد چھوڑنا پڑا اور سلطان محمد نے اپنی حیثیت بغداد میں مستحکم کرلی اور عباسی خلیفہ المستظہر باللہ نے اُسے مبارکباد کا پیغام بھیجا۔[18]

نہاوند  کا معرکہ

ترمیم

نہاوند میں دونوں کے لشکر دوبارہ آمنے سامنے ہوئے لیکن امرا کی مصالحت آڑے آئی۔ یہ مصالحت بھی کچھ روز رہی اور سلطان برکیاروق اور سلطان محمد کی افواج میں معرکہ آرائی ہو گئی۔ یہ چوتھی جنگ ماہِ جمادی الاول 495ھ میں ہوئی اور اِس میں سلطان محمد کی فوج میدان چھوڑ کر بھاگ نکلی اور سلطان محمد اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ اصفہان میں جان بچاتا ہوا پناہ لینے پر مجبور ہو گیا۔ دونوں بھائیوں کے مابین اگلا معرکہ خراسان میں پیش آیا ور اِس جنگ میں بھی سلطان محمد کو شکست ہوئی اور اُس نے ارقیس یعنی صوبہ خلاط میں جا کر اقامت اختیار کی۔[19]

صلح اور تقسیم سلطنت

ترمیم

سلطان برکیاروق اور سلطان محمد کے مابین مدتِ مدید سے جنگوں کا ایک نا رکنے والا سلسلہ جاری تھا، جس کے باعث جانی و مالی نقصان ہو رہا تھا۔ برکیاروق کو اِس کا بہت احساس تھا، لہٰذا اُس نے صلح کرنے کی کوشش کی۔ دونوں میں کچھ شرائط پر صلح ہو گئی اور پابندی شرائط پر حلف لیا گیا۔ شرائط میں سے ایک یہ شرط بھی تھی کہ جن شہروں کا اقتدار سلطان محمد کو دیا جائے گا، وہ اُس کی مستقل حکمرانی کے دائرہ کار میں ہوں گے اور سلطان برکیاروق اپنے علاقوں شہروں کا مستقل حکمران ہوگا۔ صلح کے بعد 497ھ میں سلطان برکیاروق کے نام کا خطبہ جامع بغداد اور واسط میں پڑھا گیا۔ ماہِ ذوالقعدہ 497ھ میں خلیفہ المستظہر باللہ نے سلطان برکیاروق، امیر ایاز اور وزیر سلطنت کو خلعت عطاء کی اور اُن سے اطاعت و فرماں برداری کا حلف لیا۔[20]

وفات

ترمیم

سلطان برکیاروق جب اصفہان سے واپس بغداد آیا تھا تو وہ سل اور بواسیر کے مرض میں مبتلا ہو چکا تھا۔ یزد پہنچا تو بیماری میں شدت آ گئی۔ چنانچہ برکیاروق نے اپنے بیٹے ملک شاہ دؤم کو اپنا ولی عہد مقرر کیا جو محض پانچ سال کا تھا اور امیر ایاز کو انتظاماتِ سلطنت سپرد کیے اور بغداد کو روانہ ہوا۔ ابھی بغداد نہیں پہنچا تھا کہ اصفہان میں بروز جمعہ 12 ربیع الاول 498ھ/ 2 دسمبر 1104ء کو 24 سال کی عمر میں انتقال کرگیا۔ تدفین اصفہان میں کی گئی۔ مدتِ حکومت 12 سال 12 دن شمسی اور 12 سال 6 ماہ قمری تھی۔[21][22][23]

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. http://iranologie.com/the-history-page/the-seljuqs/
  2. https://pantheon.world/profile/person/Barkiyaruq
  3. ابن خلکان: وفیات الاعیان، جلد 1، ص 268۔ مطبوعہ بیروت، لبنان۔
  4. ابن خلدون: تاریخ ابن خلدون، جلد 5، ص 33/34۔
  5. ابن اثیر: الکامل فی التاریخ، جلد 8، ص 164/165، مطبوعہ بیروت، لبنان۔ 1387ھ/ 1967ء
  6. ابن خلدون: تاریخ ابن خلدون، جلد 5، ص 13۔ مطبوعہ بیروت، لبنان۔ 1391ھ/ 1971ء
  7. ^ ا ب ابن اثیر: الکامل فی التاریخ، جلد 8، ص 165، مطبوعہ بیروت، لبنان۔ 1387ھ/ 1967ء
  8. ^ ا ب جلال الدین سیوطی: تاریخ الخلفاء، ص 463۔ مطبوعہ لاہور
  9. ابن خلدون: تاریخ ابن خلدون، جلد 5، ص 14۔ مطبوعہ بیروت، لبنان۔ 1391ھ/ 1971ء
  10. ابن خلدون: تاریخ ابن خلدون، جلد 5، ص 14/ 15۔ مطبوعہ بیروت، لبنان۔ 1391ھ/ 1971ء
  11. ابن اثیر: الکامل فی التاریخ، جلد 8، ص 168، مطبوعہ بیروت، لبنان۔ 1387ھ/ 1967ء
  12. ابن اثیر: الکامل فی التاریخ، جلد 8، ص 191، مطبوعہ بیروت، لبنان۔ 1387ھ/ 1967ء
  13. ابن تغری بردی: النجوم الزاھرہ فی ملوک مصر والقاہرہ، جلد 5۔ ص 165۔ مطبوعہ قاہرہ، مصر۔ 1387ھ/ 1967ء
  14. ابن اثیر: الکامل فی التاریخ، جلد 8، ص 193، مطبوعہ بیروت، لبنان۔ 1387ھ/ 1967ء
  15. ابن خلدون: تاریخ ابن خلدون، جلد 4، ص 599۔ مطبوعہ بیروت، لبنان۔ 1391ھ/ 1971ء
  16. ابن اثیر: الکامل فی التاریخ، جلد 8، ص 196، مطبوعہ بیروت، لبنان۔ 1387ھ/ 1967ء
  17. ابن خلدون: تاریخ ابن خلدون، جلد 5، ص 24۔ مطبوعہ بیروت، لبنان۔ 1391ھ/ 1971ء
  18. ابن خلدون: تاریخ ابن خلدون، جلد 5، ص 25/26۔ مطبوعہ بیروت، لبنان۔ 1391ھ/ 1971ء
  19. ابن خلدون: تاریخ ابن خلدون، جلد 5، ص 31/32۔ مطبوعہ بیروت، لبنان۔ 1391ھ/ 1971ء
  20. ابن اثیر: الکامل فی التاریخ، جلد 8، ص 222، مطبوعہ بیروت، لبنان۔ 1387ھ/ 1967ء
  21. ابن تغری بردی: النجوم الزاھرہ فی ملوک مصر والقاہرہ، جلد 5۔ ص 191۔ مطبوعہ قاہرہ، مصر۔ 1387ھ/ 1967ء
  22. ابن خلدون: تاریخ ابن خلدون، جلد 5، ص 33/34۔ مطبوعہ بیروت، لبنان۔ 1391ھ/ 1971ء
  23. ابن اثیر: الکامل فی التاریخ، جلد 8، ص 223، مطبوعہ بیروت، لبنان۔ 1387ھ/ 1967ء
ماقبل  سلطان سلجوقی سلطنت
20 نومبر 1092ء2 دسمبر 1104ء
مابعد