اک سی ماں (انگریزی: Ik Si Maa) پنجابی زبان میں فلم کا آغاز کیا۔ اس فلم كو 7 جون، 1968ء كو پاکستان میں ریلیز ہوئى۔ پاکستانی اس فلم کا کریکٹر سماجی فلم اور میوزکل فلموں کے بارے میں فلم کی تکمیل کی گی ہیں۔ یہ فلم باکس آفس میں (زبردست) ثابت ہوئی تھی یہ فلم پاکستان کے سنیما میں اس کی تین ماہ تک کامیاب نمائش ہوئی تھی۔ اس فلم کے ڈائریکٹر وحید ڈار تھے۔ پروڈیوسر شیخ نذیر حسین تھے۔ کہانی حزیں قادری نے لکھی تھی اور موسیقی وزیر افضل نے بنائی تھی۔ فلم میں سلمی ممتاز نے اک سی ماں کا بطور کردار نبھایا ہے، جب کہ دیگر اداکاروں میں فردوس، حبیب، سلطان راہی، ساوناور علاؤالدین نے بھی اپنے کردار کو اچھے انداز میں پیش کیا۔ آپ کا شکر گزار محمد عاشق علی حجرہ شاہ مقیم سے۔

اک سی ماں
(Ik Si Maa)
250px
ہدایت کاروحید ڈار
محمد شریف
ایم صادق
پروڈیوسرشیخ نذیر حسین
تحریرحزیں قادری
ستارے
راویسید مظفر علی شاہ
موسیقیوزیر افضل
سنیماگرافینسیم حسین
ایڈیٹررحمت علی
پروڈکشن
کمپنی
تقسیم کارشالیمار ویڈیو
تاریخ نمائش
دورانیہ
132 دقیقہ
ملک پاکستان
زبانپنجابی

کہانی

ترمیم

آج سے صدیوں پہلے پنجاب کی ایک ماں کی کہانی ۔ اس ماں کی کہانی جسں کے راجپوت باپ کو بیٹی کے لیے راجپوت اور کنوارہ و بر ڈھونڈھتے ہوئے دس برس بیت چکے تھے، وہ اسی تلاش میں ایک دن بوڑھے راٹھ (فضل حق) کے گاؤں میں آنکلا ۔ آج اس راٹھ کی ساٹھویں سالگرہ بڑی دھوم دھام سے منائی جارہی تھی ۔ رشتے کے متلاشی باپ نے بوڑھے راٹھ پرسوال کیا۔سنا ہے آپ راجپوت ہیں ؟ اور مجھے راجپوتی نسل کے کنوارے رشتے کی تلاش ہے میں نے یہ بھی سنا ہے کہ آپ کے گاؤں میں ایک راجپوت بیٹا کنوارہ ہے ۔ لفظ بیٹا سن کر سالگرہ کی تقریب میں شامل تمام مہمان کھل کھلا کر ہنس پڑتے ہیں ۔ نووارد را جپوت ہنسنے کی وجہ دریافت کرتا ہے۔ بوڑھا راٹھ وجہ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے ۔ یہ لوگ اس لیے ہنسے ہیں کہ تم نے کنوارہ بیٹا کہا ہے۔ اور اس گاؤں میں ایک کنوارہ باپ رہتا ہے جس کی ساٹھویں سالگرہ اس وقت منائی جارہی ہے لڑکی کا باپ ایک لمحہ خاموش رہنے کے بعد اعلان کرتا ہے میں اپنی جوان بیٹی کو تمھارے ساتھ منسوب کر تا ہوں یہ بات سن کر بوڑھے راٹھ کے تیور بدل جاتے ہیں اور وہ لڑکی کے باپ سے کہتا ہے سن تو لو میاں میں نے آج تک شادی کس لیے نہیں کی ہے اس لیے کہ میں اپنی اولاد کا باپ نہیں پورے گاؤں کا باپ کہلانا چاہتا ہوں۔ لڑکی کا باپ جو اب میں صرف اتنا کہتا ہے۔ کہ میری بیٹی اگرتمہارے گاؤں کی ماں ثابت ہوئی تو رکھ لینا اور اگر وہ ماں نہ بن سکی تو اسے اپنے گاؤں سے نکال کر میرے گھر کی راہ پر چھوڑ دنیا بوڑھے راجپوت را ٹھ نے شادی کا اعلان کر دیا۔

۔۔۔کیا جوان را جپتنی بوڑھے راجپوت کے گاؤں کی ماں ثابت ہوئی ؟۔۔۔

۔۔۔ماں بن کر ماں نے اولاد کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا ؟۔۔۔

۔۔۔اولاد نے ماں کا حق ادا کیا تو کیسے کیا ؟۔۔۔

اداکار

ترمیم

ساؤنڈ ٹریک

ترمیم

فلم کی موسیقی وزیر افضل نے ترتیب دی، فلم کے نغمات حزیں قادری نے گیت لکھے۔ فلم کی لسٹ ریکارڈنگ میں شامل اے جے کے انھوں نے گیتوں کی بہترین ریکارڈنگ کی اور نور جہاں اور مسعود رانا نے گیت گائے۔

نمبر.عنوانپردہ پش گلوکاراںطوالت
1."ایہہ ویلا مڑ ہتھ نیئں آؤنا، اساں ٹرجاناں تساں پچھتاناں"نور جہاں4:21
2."مل گئیاں نی اج اکھاں، ہال او دہائیاں مچیاں"نور جہاں2:31
3."دل لایا تے توڑ نبھاویں، کدی کلیاں چھڈ نہ جاویں"نور جہاں3:44
4."کوئی جا کے اوہنوں کہہ دے، میں کرنی آں تینوں پیار وے"نور جہاں4:02
5."واری جانواں نی، میں لغی جاواں نی"نور جہاں4:21
6."بے قدرا وے دن لنگھ گئیا سارا"نور جہاں3:21
7."تینؤں پیار نیئں ساڈے نال"نور جہاں3:35
8."رب نے چن جہیاں صورتاں بنا کے"مسعود رانا2:55
کل طوالت:27:48

بیرونی روابط

ترمیم