جمانہ بنت ابی طالب

جُمَانَہ بنت ابی طالب (عربی : جمانة بنت أبي طالب) ایک صحابیہ، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پہلی عم زاد اور علی بن ابی طالب کی بہن تھیں۔[1]

جمانہ بنت ابی طالب
بقیع الغرقد.jpg
 

معلومات شخصیت
مقام پیدائش مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مقام وفات مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد ابو طالب  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ فاطمہ بنت اسد  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی

نام و نسبترميم

جمانہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا ابوطالب کی بیٹی تھیں۔ ان کی والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد تھا۔ ان کی شادی ان کے عم زاد ابو سفیان بن حارث سے ہوئی تھی۔ ان کے بیٹے کا نام جعفر بن ابو سفیان (عربی: جعفر بن أبي سفيان) تھا۔[2]

سوانحترميم

جمانہ بنت ابی طالب کا نام کتب میں بہت کم ملتا ہے۔ قاضی محمد سلیمان منصور پوری نے اپنی تحریر میں لکھا ہے کہ ابو طالب کی اولاد میں جمانہ کا نام بھی ملتا ہے مگر ان کے حالات سے کوئی آگاہی نہیں ہوتی۔ اسحاق بن راہویہ نے لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پیداوار خیبر میں سے تیس وسق خرما جمانہ بنت ابی طالب کے لیے مقرر فرمائے تھے۔ اس بیان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ خلعت اسلام سے مشرف تھیں اور جمانہ فتح خیبر تک حیات تھیں۔

وفاتترميم

جمانہ کی وفات محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔

حوالہ جاتترميم

  1. الطبقات الكبرى - ابن سعد -ج8 - ص38
  2. الإصابة في تمييز الصحابة - ابن حجر - ج8 - ص63