جوش ملیح آبادی (پیدائش: 5 دسمبر 1898ء - وفات: 22 فروری 1983ء) پورا نام شبیر حسین خاں جوش ملیح آبادی اردو ادب کے نامور اور قادر الکلام شاعر تھے۔ آپ آفریدی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں شاعر آخرالزماں ہوں جوش

جوش ملیح آبادی
Josh Malihabadi.jpg
جوش ملیح آبادی (1949)
پیدائششبیر حسن خان
5 دسمبر 1898
ملیح آباد، United Provinces، British India
وفات22 فروری 1982(1982-20-22) (عمر  83 سال)
اسلام آباد، پاکستان
قلمی نامجوش
پیشہشاعر، ادیب
قومیتپاکستانی
نسلمہاجر قوم
شہریتپاکستانی
تعلیمTagore's University, Shantiniketan
نمایاں کامشعلہ و شبنم

جنون و حکمت

فکر و نشاط

سنبل و سلاسل

حرف و حکایت

سرود و خروش

عرفانیات جوش

یادوں کی بارات (آپ بیتی)
اہم اعزازاتپدم وبھوشن، 1954 ہلال امتیاز، 2013
اولادسجاد حیدر خروش
رشتہ داربشیر احمد خان (والد) تبسم اخلاق (نواسی)

ابتدائی حالات

آپ 5 دسمبر 1898ء کو اترپردیش ہندوستان کے مردم خیز علاقے ملیح آباد کے ایک علمی اور متمول گھرانے میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے چند برسوں بعد ہجرت کر کے کراچی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ جوش نہ صرف اپنی مادری زبان اردو میں ید طولیٰ رکھتے تھے بلکہ آپ عربی، فارسی، ہندی اور انگریزی پر عبور رکھتے تھے۔ اپنی اِسی خداداد لسانی صلاحیتوں کے وصف آپ نے قومی اردو لغت کی ترتیب و تالیف میں بھرپور علمی معاونت کی۔ نیز آپ نے انجمن ترقی اردو ( کراچی) اور دارالترجمہ (حیدرآباد دکن) میں بیش بہا خدمات انجام دیں۔ 22 فروری 1982ء کو آپ کا انتقال ہوا۔

تصانیف

آپ کثیر التصانیف شاعر و مصنف تھے۔ آپ کے شعری مجموعوں اور تصانیف میں مندرجہ ذیل نام اہم ہیں۔

  • روح ادب
  • آوازہ حق
  • شاعر کی راتیں
  • جوش کے سو شعر
  • نقش و نگار
  • شعلہ و شبنم
  • پیغمبر اسلام
  • فکر و نشاط
  • جنوں و حکمت
  • حرف و حکایت
  • حسین اور انقلاب
  • آیات و نغمات
  • عرش و فرش
  • رامش و رنگ
  • سنبل و سلاسل
  • سیف و سبو
  • سرور و خروش
  • سموم و سبا
  • طلوع فکر
  • موجد و مفکر
  • قطرہ قلزم
  • نوادر جوش
  • الہام و افکار
  • نجوم و جواہر
  • جوش کے مرثیے
  • عروس ادب (حصہ اول و دوم)
  • عرفانیات جوش
  • محراب و مضراب
  • دیوان جوش

نثری مجموعے

  • مقالات جوش
  • اوراق زریں
  • جذبات فطرت
  • اشارات
  • مقالات جوش
  • مکالمات جوش
  • یادوں کی برات (خود نوشت سوانح)

جوش کی بے انتہا مروتی

جوش مروت میں ایک ملازمت کے لیے کئی لوگوں کی سفارش کردیتے تھے ایک دفعہ ایک شخص کے ہمراہ سفارش کے لیے گئے افسر نے کہا اس کے لیے تو آپ نے کسی اور کی سفارش کی ہے فرمایا کہ اس مردود کو رکھ لیجئے کیونکہ مجھے ساتھ لایا ہے۔

بیرونی روابط