حیدرآبادی اردو اُردو زبان کی وہ بولی ہے جو بھارت کی ریاست تلنگانہ کے پایۂ تخت حیدرآباد، تلنگانہ کے اضلاع، ریاست کرناٹک اور ریاست مہاراشٹر کے کچھ اضلاع میں بولی جاتی ہے۔[1] یہ دکنی اُردو کی ایک شاخ ہے۔ اردو کی اس بولی پر کئی زبانوں کے اثرات ہیں خصوصاً شمالی اردو کے مقابلے میں اس میں مراٹھی اور تیلگو وغیرہ کے بھی اثرات پائے جاتے ہیں۔

دکنی اُردو
حیدر آبادی اُردو
مقامی تلنگانہ
مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ کے 8 اضلاع میں
شمالی کرناٹک کے اضلاع میں
علاقہدکن
اردو
زبان رموز
آیزو 639-3dcc
urd-dak

اردو سے محبت کرنے والے تمام لوگوں کے لیے یہ خبر تشویش  کا باعث ہوگی  کہ  پہلی مرتبہ ہندوستان میں اردو کو اپنی مادری زبان درج کرانے  والوں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے۔جہاں ملک کی آبادی لگاتار بڑھ رہی ہے اور تمام بڑی زبانوں کے بولنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو اہے،اردو  کے اعداد و شمار ایک الگ ہی داستان بیان کر رہے ہیں۔پہلی بات یہ کہ نہ صرف اردو کو اپنی مادری زبان درج کرانے والوں کے  فیصد میں کمی آئی ہے، بلکہ تعدادمیں بھی قابل لحاظ کمی ہوئی ہے۔ آزادی کے بعد ہر دہائی میں اردو بولنے والوں کی تعداد بدتریج بڑھتی رہی ہے۔

1971 کی مردم شماری رپورٹ میں یہ تعداد2 کروڑ 86 لاکھ تھی، جو دس سال بعد 1981 میں ساڑھے 3 کروڑ ہو گئی تھی۔ اس کے بعد1991 میں یہ 4 کروڑ 40 لاکھ تک پہنچ گئی۔ اس صدی کی پہلی مردم شماری یعنی 2001 میں یہ 5 کروڑ 15 لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی۔مگر2011 کی مردم شماری، جس کی رپورٹس کافی بعد میں آیئں اور جس میں زبانوں کے اعداد و شمار کے تجزیہ کی رپورٹ اب جاری کی گئی ہے، یہ تعداد بڑھی نہیں بلکہ کم ہوئی ہے۔ یعنی اب اردو ہندوستان میں سرکاری اعداد و شمار کی حیثیت سے ساڑھے چار فیصد سے بھی کم لوگوں کی زبان ہے۔

آپ لاکھ کہیں کہ اردو بولنے والوں کی تعداد اس سے گئی گنا زیادہ ہے مگر اعداد و شمار کے حساب سے اردو کا کمزور ہونا، زبان کے لیے نیک فال نہیں ہے۔کچھ لوگوں کورپورٹس پر شک  ہونے لگتا ہے ااور  اس  کمی کے پیچھے بھی سازش نظر آتی ہے مگر حقیقت تلخ ہے۔یہ سچ ہے کہ زبان کسی مذہب کی نہیں ہوتی مگر یہ بھی ایک سچائی ہے کہ ہندوستان میں عام طور پرمسلمان  ہی اردو کو اپنی مادری زبان کے طور پر درج کرواتا ہے۔اور گذشتہ کچھ دہائیوں کی مردم شماری  سے ظاہر ہو رہا تھا کہ حالات بگڑنا شروع ہو گئے ہیں۔

اترپردیش کو اردو کا ہوم لینڈ تصور کیا جاتا ہے۔ یہاں تقریباً پونے 4 کروڑ مسلمان رہتے ہیں مگر بمشکل 1 کروڑ 8 لاکھ نے اردو کو مادری زبان درج کروایا۔یہ ٹرینڈ آج سے بیس پچیس سال پہلے شروع ہو گیا تھا، تب مسلمانوں کی آبادی اور اردو آبادی کا تناسب50فیصدی تھا، جو بگڑتے بگڑتے28 فیصد ی پر آ گیا ہے۔ یعنی یہاں 100 میں سے صرف 28 مسلمان اردو کو مادری زبان درج کروا رہے ہیں۔ظاہر ہے، وہ نسلیں جن کو اردو سے جذباتی لگاؤ تھا، ختم ہو رہی ہیں۔ یہی حال راجستھان، مدھیہ پردیش اورشمال کے دوسرے صوبوں کا ہے۔یہ وہ صوبے ہیں جہاں مسلمان عام طور پر اردو کو اپنی زبان سمجھتا تھا –بہار کی صورت حال اترپردیش سے بہتر ہے مگر وہاں بھی حالات تسلی بخش نہیں ہے-وہاں مسلم آبادی پونے 2 کروڑ ہے اور اردو گو آبادی ساڑھے 87 لاکھ۔

جنوبی ہنداورمہاراشٹر کی صورت حال بالکل مختلف ہے۔ یہاں مسلم آبادی اور اردو گو آبادی میں بہت کم فرق ہے۔ تلنگانہ-آندھرا پردیش میں 81 لاکھ مسلمان ہیں اور اردو بولنے والے 75لاکھ—یعنی 90 فیصد مسلمان اردو کواپنی مادری زبان لکھوا رہے ہیں، جبکہ شمال کے صوبوں میں یہ تعدادتیس اور بیس فیصد سے بھی کم ہے۔کرناٹک بھی ایسا ہی صوبہ ہے جہاں اردو بے حد مضبوط نظر آتی ہے۔حد تویہ ہے کہ تمل ناڈو میں بھی اردو بولنے والوں کی تعدادراجستھان اور مدھیہ پردیش کے مقابلہ زیادہ ہے۔گجرات، آسام اور بنگال میں مسلمان کی زبان عام طور پر گجراتی، بنگلہ اور آسامی رہی  ہے مگر شمال کی ان ریاستوں میں تو مسلم معاشرہ میں اردو کا ہی رواج تھا۔

ہم  د ل بہلانے کے لیے یہ  کہہ سکتے ہیں کہ  اردو جاننا اور اردو کو اپنی زبان لکھوانے میں فرق ہے۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ شمال میں ایک بڑی اردو گو آبادی ایسی ہے  جو اردو اور ہندی میں کوئی خاص فرق نہیں سمجھتی اور یہ اعداد و شمار اسی رجحان کا مظہر ہیں۔ہندی ملک کی سب سے بڑی اور سرکاری زبان ہے۔ ہندی اور اردو دونوں کی بقا  ضروری ہے۔ہندی بولنے والوں کے تعداد میں دس سال میں 10کروڑ کا حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے۔ 42 کروڑ سے بڑھ کر یہ تعداد اب 52 کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔آٹھویں شیڈیول میں شامل 22 زبانوں میں صرف اردو اور کونکنی کے بولنے والے کم ہوئے ہیں۔

رپورٹس میں صاف نظر آتا ہے کہ شمالی ہندوستان میں اردو سے جذباتی وابستگی کم ہوتی جا رہی ہے اورمردم شماری کے وقت  لوگ اس بات پر غالباً ر توجہ نہیں دیتے کہ مادری زبان کے خانے میں اردو ہی لکھوانا ہے۔شمال کے کچھ صوبوں اور اضلاع میں تو یہ حال ہے کہ اگر لوگ ابھی نہ جاگے توان ٹرینڈس کے حساب سے آگے چل کر  اتنے کم بولنے والے رہ جائیں گے کہ وہاں  اردو  کی حیثیت ایک بولی جیسی ہو جائے گی۔ اردو اب ساتویں نمبر پر کھسک گئی ہے اور گجراتی بولنے والوں کی تعداد بھی اس سے زیادہ ہو گئی ہے۔

پھر بھی اگر 5 کروڑ  سے کچھ زیادہ لوگ اردو کو اپنی زبان لکھواتے ہیں تو اس کے لیے جنوبی ہندوستان کے اردو معاشرے کا سب سے اہم کردار ہے۔ جن صوبوں میں ہندی ریاستی زبان نہیں ہے، وہاں اردو اب بھی مسلم شناخت سے جڑی ہوئی ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم پھر سے زبان کامرثیہ لکھنا شروع کر دیں اور ‘اردو مر رہی ہے’،  جیسے جملوں کی گردان شروع کر دیں۔بہر حال مہاراشٹر، دکن  اور جنوبی ہندوستان کے اردو  بولنے والے اس بات پر بجا فخر کر سکتے ہیں کہ انھوں نے ہی اس زبان سے محبت کا حق ادا کیا ہے۔ بے شک اورنگ آباد سے گلبرگہ  اور حیدرآباد سے ویلور تک کا علاقہ اردو کا مستقر بن گیا ہے۔جنوب کے اردو والے کہہ  سکتے ہیں کہ ان کو اردو کے تیئں محبت کے ثبوت  دینے کی ضرورت نہیں ہے۔وہ اس کا عملی ثبوت پیش کر چکے ہیں۔

صدیوں سے یہ اردو کا علاقہ رہا ہے اور آج بھی یہ اردو کا مضبوط قلعہ ہے۔ شمال، خصوصاً یوپی، جو آبادی کے لحاظ سے ہندوستان کا اور اردو بولنے والوں کا بھی سب سے بڑا صوبہ ہے، وہاں اردو داں طبقہ کو اس سے سیکھ لینے کی ضرورت ہے۔

حیدرآبادی اردو اور معیاری اردو کے درمیاں فرق

ترمیم
حیدرآبادی اردو معیاری اردو
کائکوں کیوں
میرے کوں یا مے کوں مجھے/مجھکو
تمھارے کوں یا توما کوں تمھیں
کیا ہونا ہے کیا چاہیے/درکار ہے
نکو نہیں/نہ/مت
آرین آ رہے ہیں
جارین جا رہے ہیں
کچا گیلا
اِچ ہی
کیا ہے کی کیا پتا یا ہو سکتا ہے
پوٹٹا غصے سے لڑکے کو کہا جاتا ہے
پوٹٹی غصے سے لڑکی کو
کتے کہتے
کنے پاس یا طرف
بولکے "آپ آرے بولکے مے کوں معلوم نہیں تھا " آپ آ رہے ہے یہ مجھے معلوم نہیں تھا
ایک دم آخری اچ/کراک بہت زبردست

حیدرآبادی اردو میں عموماً لفظ "ہے“ ساقط کر دیا جاتا ہے مثلاََ معیاری اردو میں کہا جاتا ہے " مجھے معلوم ہے"، یہ جملہ حیدرآبادی اردو میں یوں کہا جاتا ہے "میرے کو معلوم"۔ اسی طرح کسی جملے میں زور پیدا کرنے کے لیے لفظ اِچ استعمال ہوتا ہے جس کی جگہ عام اردو میں ہی استعمال ہوتا ہے، مثلاََ حیدرآبادی اردو میں کہا جاتا ہے "کل اِچ یاد کرا میں تمھار کو" یعنی "کل ہی میں تمھیں یاد کر رہا تھا"۔

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. "Common Expressions: Hyderabadi Urdu"۔ 2011۔ 18 جنوری 2012 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 ستمبر 2011 

بیرونی روابط

ترمیم