حیدرآبادی اردو اُردو زبان کی وہ بولی ہے جو بھارت کی ریاست تلنگانہ کے پایۂ تخت حیدرآباد، تلنگانہ کے اضلاع، ریاست کرناٹک اور ریاست مہاراشٹر کے کچھ اضلاع میں بولی جاتی ہے۔[1] یہ دکنی اُردو کی ایک شاخ ہے۔ اردو کی اس بولی پر کئی زبانوں کے اثرات ہیں خصوصاً شمالی اردو کے مقابلے میں اس میں مراٹھی اور تیلگو وغیرہ کے بھی اثرات پائے جاتے ہیں۔

دکنی اُردو
حیدر آبادی اُردو
مقامی تلنگانہ
مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ کے 8 اضلاع میں
شمالی کرناٹک کے اضلاع میں
علاقہدکن
اردو
زبان رموز
آیزو 639-3dcc
urd-dak
Hyderabad state 1909.jpg

حیدرآبادی اردو اور معیاری اردو کے درمیاں فرقترميم

حیدرآبادی اردو معیاری اردو
کائکوں کیوں
میرے کوں یا مے کوں مجھے/مجھکو
تمہارے کوں یا توما کوں تمھیں
کیا ہونا ہے کیا چاہیے/درکار ہے
نکو نہیں/نہ/مت
آرین آ رہے ہیں
جارین جا رہے ہیں
کچا گیلا
اِچ ہی
کیا ہے کی کیا پتا یا ہو سکتا ہے
پوٹٹا غصے سے لڑکے کو کہا جاتا ہے
پوٹٹی غصے سے لڑکی کو
کتے کہتے
کنے پاس یا طرف
بولکے "آپ آرے بولکے مے کوں معلوم نہیں تھا " آپ آ رہے ہے یہ مجھے معلوم نہیں تھا
ایک دم آخری اچ/کراک بہت زبردست

حیدرآبادی اردو میں عموماً لفظ "ہے“ ساقط کر دیا جاتا ہے مثلاََ معیاری اردو میں کہا جاتا ہے " مجھے معلوم ہے"، یہ جملہ حیدرآبادی اردو میں یوں کہا جاتا ہے "میرے کو معلوم"۔ اسی طرح کسی جملے میں زور پیدا کرنے کے لیے لفظ اِچ استعمال ہوتا ہے جس کی جگہ عام اردو میں ہی استعمال ہوتا ہے، مثلاََ حیدرآبادی اردو میں کہا جاتا ہے "کل اِچ یاد کرا میں تمہار کو" یعنی "کل ہی میں تمہیں یاد کر رہا تھا"۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. "Common Expressions: Hyderabadi Urdu". 2011. 18 جنوری 2012 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 26 ستمبر 2011. 

بیرونی روابطترميم