خوات بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ (وفات : 40ھ)غزوہ بدر میں شامل ہونے والے انصار صحابہ میں شامل ہیں۔ ان کی کنیت ابو عبد اللہ اور ابو صالح ہے۔ ان کا پورا نسب خوات بن جبير بن نعمان بن أميہ بن امرء القيس اور یہ برک بن ثعلبہ بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس انصاری اوسی، یہ بنی ثعلبہ بن عمرو سے تعلق رکھتے ہیں، ہجرت سے قبل مشرف باسلام ہوئے تھے ۔ غزوہ بدر میں شریک تھے ان کے بھائی عبد اللہ بن جبیر تھے ۔ غزوہ بدر کے علاوہ تمام غزوات میں شریک ہوئے۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں وفات پائی ۔

خوات بن جبیر
معلومات شخصیت
عملی زندگی
پیشہ محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نام و نسب ترمیم

خوات نام، ابو عبد اللہ و ابوصالح کنیت ، قبیلہ اوس سے ہیں،نسب نامہ یہ ہے :خوات بن جبیر بن نعمان بن امیہ بن امرا القیس (برک) بن ثعلبہ بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس۔ [1]

اسلام ترمیم

ہجرت سے قبل اسلام لائے، بدر میں شریک تھے، صفراء پہنچ کر پیر میں پتھر لگا آنحضرت نے مدینہ واپس کیا اورمجاہدین کے ساتھ غنیمت میں حصہ لگایا غزوہ احد اور باقی غزوات میں شرکت کی۔ حضرت علیؓ المرتضیٰ کی خانہ جنگیوں میں سے جنگ صفین میں شریک تھے۔ [2]

غزوات ترمیم

آپ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سواروں میں سے تھے۔ یہ غزوہ بدر کے لیے نکلے کہ مقام صفراء پر پہنچ کر انھیں پنڈلی میں پتھر لگ گیا جس کی وجہ سے واپس لوٹ آئے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں حصہ دیا تھا اور یہ ذات النحيين کے شوہر تھے ذات النحيين ایک ضرب المثل ہے کہ فلاں ذات النحيين سے بھی زیادہ کام میں مشغول رہنے والا ہے۔[3]غزوہ احد اور باقی غزوات میں شرکت کی۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خانہ جنگیوں میں سے صفین میں شریک تھے۔ [4]

وفات ترمیم

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 40ھ میں بمقام مدینہ انتقال کیا اس وقت 74 سال کا سن تھا۔ [5]

حلیہ ترمیم

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حلیہ مبارک یہ تھا ،قد میانہ مہندی کا خضاب لگاتے تھے،آنکھیں جاتی رہی تھیں۔ [6]

اولاد ترمیم

ایک بیٹا یاد گار چھوڑا ، صالح اس کا نام تھا۔

فضل و کمال ترمیم

عبد اللہ بن ابی لیلیٰ ، بسر بن سعد ، صالح وغیرہ نے ان سے چند حدیثیں روایت کی ہیں ، امام بخاری رحمہ اللہ علیہ نے ان کا یہ حکیمانہ مقولہ نقل کیا ہے: نوم اول النھار اخرق و اوسطہ خلق وآخرہ حمق دن کے پہلے حصہ میں سونا بے تمیز درمیانی حصہ میں مناسب اور آخری حصہ میں بیوقوفی ہے نہایت شجاع تھے،آنحضرت نے ان کو اپنا سوار بنایا تھا۔ [7] زندہ دلی کا یہ حال تھا کہ ایک مرتبہ حضرت عمرؓ کے ساتھ حج کو جا رہے تھے حضرت ابو عبیدہؓ اور عبد الرحمن بن ؓعوف بھی ساتھ تھے، لوگوں نے فرمائش کی کہ ضرار کے اشعار گاؤ،حضرت عمرؓ نے کہا نہیں اپنے شعر سنائیں،چنانچہ تمام رات گاتے رہے، سپیدہ سحر نمودار ہوا،تو حضر ت عمرؓ نے فرمایا خوات بس کرو، اب صبح ہو گئی۔ [8] ،[4] .[9]

حوالہ جات ترمیم