خواجہ خلیل احمد شاہ
خواجہ خلیل احمد شاہ (پیدائش: 9 دسمبر 1890ء، وفات: 1965ء) بھارتی سیاست دان، سماجی رہنما، مجاہد آزادی اور مصنف تھے۔ وہ 1927ء میں متحدہ صوبہ جات آگرہ و اودھ کی مجلسِ قانون ساز کے رکن رہے۔ انڈین نیشنل کانگریس سے وابستہ رہ کر انھوں نے بہرائچ میں سماجی اور تعلیمی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
خواجہ خلیل احمد شاہ | |
---|---|
معلومات شخصیت | |
پیدائش | 9 دسمبر 1890ء قاضی پورہ، بہرائچ، شمال مغربی صوبہ جات، برطانوی ہند |
وفات | 1965ء بہرائچ، اتر پردیش، بھارت |
قومیت | بھارتی |
مذہب | اسلام |
والد | احمد شاہ |
عملی زندگی | |
پیشہ | سیاست دان، سماجی کارکن، اور ماہر تعلیم |
وجہ شہرت | متحدہ صوبہ جات آگرہ و اودھ کی مجلسِ قانون ساز کے رکن، بہرائچ میں تعلیمی و سماجی ترقی کے لیے قابل ذکر خدمات |
کارہائے نمایاں | فسادی ملا یا دشمنانِ اسلام کا ایجنٹ، ہندوستانِ قدیم اور اسلام (حصہ اول) |
درستی - ترمیم |
ابتدائی و تعلیمی زندگی
ترمیمخواجہ خلیل احمد شاہ 9 دسمبر 1890ء کو قاضی پورہ، بہرائچ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد احمد شاہ کشمیری نژاد تھے، جو بہرائچ منتقل ہوئے تھے۔ شاہ کا تعلق ایک معزز خاندان سے تھا؛ ان کے بھائی خواجہ اکبر شاہ ایک وکیل تھے۔ اگرچہ رسمی طور پر اعلیٰ تعلیم یافتہ نہیں تھے؛ لیکن وہ علمی سرگرمیوں کے شوقین تھے اور نادر و قیمتی کتب کی ایک ذاتی لائبریری کے مالک تھے۔[1][2]
عملی زندگی
ترمیمخواجہ خلیل احمد شاہ انڈین نیشنل کانگریس کے ایک سرگرم رکن تھے اور جواہر لعل نہرو جیسے رہنماؤں کے قریب تھے۔[1][2]
وہ 1927ء میں متحدہ صوبہ جات آگرہ و اودھ کی مجلسِ قانون ساز کے رکن تھے۔ 21 دسمبر 1927ء کو مجلسِ قانون ساز کے اجلاس میں ان کی شرکت و سرگرمی سے ان کی رکنیت کی تصدیق ہوتی ہے۔ مزید برآں، 17 نومبر 1927ء کو انھوں نے بہرائچ ضلع بورڈ کے آڈٹ اعتراضات، مالی بے ضابطگیوں اور انتظامی معاملات پر سوالات اٹھائے، جو عوامی مسائل میں ان کی گہری دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔[3][4]
وہ بھارتی تحریک آزادی کے ایک اہم شخصیت تھے۔ 1941ء میں انھیں ستیہ گرہ تحریک میں شرکت پر ایک سال قید بامشقت اور 100 روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی۔ بھارت چھوڑو تحریک کے دوران 1942ء میں انھیں تقریباً نو ماہ حراست میں رکھا گیا۔[5][6]
وہ غازی سید سالار مسعود کے مزار کی انتظامیہ کے رکن بھی تھے اور جامعہ عربیہ مسعودیہ نور العلوم، بہرائچ کے قیام کے مُجَوِّز تھے۔ اس کے علاوہ، وہ بہرائچ کی بلدیاتی کونسل کے رکن بھی رہے۔[7][1][2]
تصانیف
ترمیمخواجہ خلیل احمد شاہ کی تصانیف میں درج ذیل کتابیں شامل ہیں:
وفات
ترمیمخواجہ خلیل احمد شاہ 1965ء میں انتقال کر گئے اور آزاد انٹر کالج، بہرائچ کے قریب چھڑے شاہ تکیہ قبرستان میں سپردِ خاک کیے گئے۔ وہ بہرائچ میں تعلیم، سماجی ہم آہنگی اور ترقی کے حوالے سے اپنی خدمات کے لیے یاد کیے جاتے ہیں۔[1][2]
حوالہ جات
ترمیم- ^ ا ب پ ت عبرت بہرائچی (2007ء)۔ نفوسِ رفتگاں۔ بہرائچ، بھارت: عبرت بہرائچی۔ صفحہ: 25–26 – ریختہ (ویب سائٹ) سے
- ^ ا ب پ ت ٹ جنید احمد نور (2019ء)۔ بہرائچ ایک تاریخی شہر۔ 1 (پہلا ایڈیشن)۔ بہرائچ، بھارت: جنید احمد نور۔ صفحہ: 187–188۔ ISBN 978-93-5351-047-3 – ریختہ (ویب سائٹ) سے
- ↑ "Bihar Vidhan Mandal: Browsing Archives" [بہار ودھان منڈل: محفوظ دستاویزات کی تلاش]۔ archives.biharvidhanmandal.in۔ 27 نومبر 2024ء میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 نومبر 2024ء
- ↑ The Legislative Council Of The United Provinces (10–29 January 1927)۔ Proceedings of the Legislative Council of the United Provinces: Official Report (بزبان انگریزی)۔ 42۔ Allahabad: Government Press, United Provinces۔ صفحہ: 183
- ↑ ٹھاکر لابھ سنگھ، مدیر (1972ء)۔ स्वतंत्रता-संग्राम के सैनिक [تحریک آزادی کے سپاہی] (بزبان ہندی)۔ لکھنؤ: سوچنا وبھاگ، اتر پردیش۔ صفحہ: 6
- ↑ سید ابراہیم فکری (نومبر 1996ء)۔ ہندوستانی مسلمانوں کا جنگِ آزادی میں حصہ (پہلا ایڈیشن)۔ جامعہ نگر، نئی دہلی: سید ابراہیم فکری۔ صفحہ: 301
- ↑ امیر احمد قاسمی (2011ء)۔ نور العلوم کے درخشندہ ستارے (پہلا ایڈیشن)۔ بہرائچ، بھارت: حافظ ضمیر احمد۔ صفحہ: 29
- ↑ سید محبوب رضوی (1980)۔ ہِسٹَری آف دَ دارُ العُلوم دیوبَند (بزبان انگریزی)۔ 1۔ ترجمہ بقلم مرتاض حسین ایف قریشی۔ یوپی، بھارت: ادارۂ اہتمام، دارالعلوم دیوبند۔ صفحہ: 346
- ↑ "خواجہ خلیل احمد شاہ کی ای-کتاب"۔ ریختہ (بزبان انگریزی)۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 نومبر 2024ء