راماین (ہندی/سنسکرت: रामायण) سنسکرت لفظ۔ راماینا بمعنی رام کی سرگزشت۔ سنسکرت کی ایک طویل رزمیہ نظم جس میں ہندوؤں کے اوتار رام چندر کے حالاتِ زندگی بیان کیے گئے ہیں۔ بعض روایات کے مطابق اسے سنسکرت کے ایک شاعر والمیکی (ہندی/سنسکرت: वाल्मीकि) نے تیسری صدی قبل مسیح میں، مختلف لوک گیتوں سے استفادہ کرکے تالیف کیا تھا۔ تقریباً 500 سال تک دیگر شعرا اس میں اضافے کرتے رہے۔ راماین میں 24 ہزار اشعار ہیں اور یہ مہابھارت کے مقابلے میں مختصر لیکن معاملہ بندی کے لحاظ سے زیادہ منظم، اسلوب کے اعتبار سے کم فرسودہ، زیادہ رومانی اور کم المناک ہے۔ تلسی داس کی رمائن اس سے بہت بعد (سترھویں صدی) کی تصنیف ہے۔

راماین
Indischer Maler von 1780 001.jpg
رام اس کی بیوی سیتا اور بھائی لکشمن جنگل میں جلاوطنی کے دوران، 1780
معلومات
مذہب ہندو مت
مصنف والمیکی
زبان سنسکرت زبان
آیات 24,000

اس کہانی کو تین سو سے زائد مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے،[1] بعض میں رام کو سیتا کا بھائی اور بعض میں میاں بیوی بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ یہ کہانی بھارت کی دیگر زبانوں میں بھی بیان کی گئی جن کو عام طور پر بدھ مت، جین مت اور تھائی، انڈونیشیا، ملیشیا، فلپائن، لاؤس اور کمپوڈیا میں بھی یہ کہانی چلی آتی ہے۔

کردارترميم

رامائن کے سب سے اہم کردار رام چندر جی،لکشمن اور سیتا ہیں اس کے علاوہ راجا دشرتھ اور ان کی تینوں بیویاں کوشلیہ،سمترا اور کیکئ اور بیٹوں میں رام، لکشمن کے علاوہ شترودھن اور بھرت قابل ذکر ہیں مزید یہ کہ اس میں لنکا کا راجا راون اس کا بھائی بھبھیکن اور بہن سوپنکھا کا تذکرہ بھی ہے۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

آئینہ تاریخ از افضل حسین

بیرونی روابطترميم