رشید احمد گنگوہی (پیدائش: 10 مئی 1829ء— وفات: 11 اگست 1905ء) دیوبندی مسلم عالم تھے۔

رشید احمد گنگوہی
معلومات شخصیت
پیدائش 9 مئی 1829  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
گنگوہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 11 اگست 1905 (76 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
گنگوہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ مملوک علی نانوتوی،  امداد اللہ مہاجر مکی  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تلمیذ خاص خلیل احمد انبہٹوی  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ الٰہیات دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مؤثر امداد اللہ مہاجر مکی  ویکی ڈیٹا پر (P737) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تحریک دیو بندی  ویکی ڈیٹا پر (P135) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

ابتدائی زندگی

رشید احمد گنگوہی 6/ذی قعدہ 1242ھ کو شنبہ کے دن گنگوہ، ضلع سہارنپور، یوپی میں پیدا ہوئے، ان کے والد مہدایت احمد اپنے زمانے کے ایک جید دینی عالم تھے، وہ غلام علی سے مجاز تھے۔

گنگوہی قرآن شریف وطن میں پڑھ کر اپنے ماموں کے پاس کرنال چلے گئے اور ان سے فارسی کی کتابیں پڑھیں، پھر محمد بخش رامپوری سے صرف و نحو کی تعلیم حاصل کی۔ 1261ھ میں دہلی پہنچ کر مملوک علی نانوتوی کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا، یہیں محمد قاسم نانوتوی سے تعلق قائم ہوا، جو پھر ساری عمر قائم رہا۔ دہلی میں معقولات کی بعض کتابیں مفتی صدرالدین آزردہ سے بھی پڑھیں، آخر میں شاہ عبد الغنی مجددی کی خدمت میں رہ کر علم حدیث کی تحصیل کی۔

گرچہ قیامِ دار العلوم دیوبند میں کوئی فعال کردار آپ کا نہیں ملتا مگر طالب علمی کے زمانے سے ہی حجۃالاسلام محمد قاسم نانوتویؒ سے تعلق رہا۔ اسی وجہ سے مؤرخین کا کہنا ہے کہ 1283ھ مطابق 1866ء میں دار العلوم کے قیام سے آپ بے خبر نہیں تھے۔ مدرسہ عربی اسلامی دیوبند کے قیام کے دوسال بعد 1285ھ میں دار العلوم دیوبند سے حضرت گنگوہی کے رسمی تعلق کا سراغ ملتا ہے۔ حجۃالاسلام مولانا محمدقاسم نانوتویؒ بانئ دار العلوم دیوبند کی وفات کے بعد آپ دار العلوم دیوبند کے دوسرے سرپرست مقرر ہوئے۔ دار العلوم کے نصاب کو تیار کرنے میں آپ کا اہم کردار رہا ہے۔ اس لیے مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے ساتھ آپ بھی مسلک دار العلوم دیوبند کے پیشوا ہیں۔

برطانوی سامراج کے خلاف جنگ

1857ء میں خانقاہِ قدوسی سے مردانہ وار نکل کر انگریزوں کے خلاف صف آرا ہو گئے اور اپنے مرشد حضرت حاجی صاحب اور دوسرے رفقا کے ساتھ شاملی کے معرکۂ جہاد میں شامل ہوکر خوب داد شجاعت دی۔ جب میدان جنگ میں حافظ ضامن شہید ہوکر گرے تو آپ ان کی نعش اٹھاکر قریب کی مسجد میں لے گئے اور پاس بیٹھ کر قرآن شریف کی تلاوت شروع کردی۔

معرکۂ شاملی کے بعد گرفتاری کا وارنٹ جاری ہوا اور ان کو گرفتار کرکے سہارنپور کی جیل میں بھیج دیا گیا، پھر وہاں سے مظفرنگر منتقل کر دیا گیا، چھ مہینے جیل میں گزرے، وہاں بہت سے قیدی آپ کے معتقد ہو گئے اور جیل خانے میں جماعت کے ساتھ نماز اداکرنے لگے۔

درس حدیث

جیل سے رہائی کے بعد آپ نے درس و تدریس کا سلسلہ شروع فرمایا، 1299ھ میں تیسرے حج کے بعد آپ نے یہ التزام کیا کہ ایک سال کے اندر اندر پوری صحاح ستہ کو ختم کرادیتے تھے، معمول یہ تھا کہ صبح سے 12 بجے تک طلبہ کو پڑھاتے تھے۔ آپ کے درس کی شہرت سُن سُن کر طالبانِ حدیث دور دور سے آتے تھے، کبھی کبھی ان کی تعداد ستّر اسّی تک پہنچ جاتی تھی، جن میں ہندو بیرونِ ہند کے طلبہ بھی شامل ہوتے تھے۔ طلبہ کے ساتھ غایت محبت و شفقت سے پیش آتے تھے۔ درس کی تقریر ایسی ہوتی تھی کہ ایک عامی بھی سمجھ لیتا تھا، آپ کے درس حدیث میں ایک خاص خوبی یہ تھی کہ حدیث کے مضمون کو سن کر اس پر عمل کرنے کا شوق پیدا ہوجاتا تھا۔ جامع ترمذی کی درسی تقریر 'الکوکب الدری' کے نام سے شائع ہوچکی ہے، جو مختصر ہونے کے باوجود ترمذی کی نہایت جامع شرح ہے، 1314ھ تک آپ کا درس جاری رہا، تین سو سے زائد حضرات نے آپ سے دورۂ حدیث کی تکمیل کی۔ درسِ حدیث میں آپ کے آخری شاگرد حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کے والد ماجد محمد یحیٰ کاندھلوی تھے۔ آخر میں نزول الماء کی بیماری کی وجہ سے درس بند ہو گیا تھامگر ارشادوتلقین اور فتاویٰ کا سلسلہ برابر جاری رہا، ذکراللہ کی تحریص و ترغیب پر بڑی توجہ تھی، جو لوگ خدمت میں حاضر ہوتے، رغبتِ آخرت کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور لے کر جاتے، اتباع سنّت کا غایت اہتمام فرماتے تھے۔

دار العلوم کی سر پرستی

1297ھ میں قاسم نانوتوی کی وفات کے بعد دار العلوم دیوبند کے سرپرست ہوئے، مشکل حالات میں دار العلوم کی گتھیوں کو سلجھا دینا ان کی ایک بڑی خصوصیت تھی۔ 1314ھ سے مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور کی سرپرستی بھی قبول فرمالی تھی۔ فقہ اور تصوف میں تقریباً 14 کتابیں تصنیف فرمائیں۔ فتاویٰ رشیدیہ، زبدۃ المناسک مع عمدۃ المناسک،تفسیر رشیدی، تشریحات بخاری،الکوکب الدرری ، ہدایۃ الشیعہ ، سبیل الرشاد اور امداد السلوک قابل ذکر ہیں۔

وفات

باختلاف روایت 8 یا 9 جمادی الثانی 1323ھ مطابق 1905ء بروز جمعہ اذان جمعہ کے بعد 78 سال کی عمر میں وفات پائی۔ آپ کے تلامذہ کا ایک وسیع حلقہ ہے، جس میں بڑے بڑے نامور علما شامل ہیں۔ اسی طرح آپ کے خلفاء کی بھی ایک طویل فہرست ہے۔ آپ کے تفصیلی حالات تذکرۃ الرشید مصنفہ مولانا عاشق الٰہی میرٹھی میں درج ہیں، یہ کتاب دوجلدوں پر مشتمل ہے۔اس کے علاوہ "مولانا رشید احمد گنگوہی حیات اور کارنامے" تالیف مولانا اسیر ادروی بھی قابل ذکر ہے ۔

حوالہ جات

• تذکرۃ الرشید

• مولانا رشید احمد گنگوہی حیات اور کارنامے