سالم بن عبد اللہ (وفات: ذوالحجہ 106ھ مطابق مئی 725ء) مدینہ کے ان تابعین میں تھے جو علم وعمل کے امام تھے ۔

سالم بن عبد اللہ
معلومات شخصیت
مقام پیدائش مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 725  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن جنت البقیع  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد عبد اللہ بن عمر  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
نمایاں شاگرد عبد اللہ بن زيد جرمی بصری  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نام ونسبترميم

سالم نام،ابوعمر کنیت،عمر فاروق کے نامور فرزند عبد اللہ کے خلف الصدق تھے،دادھیال کی طرح ان کا نانہال بھی روشن وتاباں تھا، عمر کے عہدِ خلافت میں یزد گرد شاہنشاہ ایران کی جو لڑکیاں گرفتار ہوئی تھیں، ان میں سے ایک عبد اللہ کو دی گئی تھی،سالم اسی کے بطن سے تھے، اس طرح ان کی رگوں میں ایران کے شاہی خاندان کا خون بھی شامل تھا۔[1]

فضل وکمالترميم

سالم کے والد حضرت عبداللہؓ ان بزرگوں میں تھے جو علم و عمل کا پیکر اور زہد وورع کی تصویر تھے،ان کی تعلیم و تربیت نے انہیں بھی اپنا مثنیٰ بنادیا تھا،ارباب سیر کا متفقہ بیان ہے کہ عمرؓ کی تمام اولادوں میں سب سے زیادہ ان سے مشابہ عبداللہ تھے اورعبداللہ کی اولادوں میں اُن کے مشابہ سالم تھے [2] اس طرح سالم گویا عمر فاروق کا نقشِ ثانی تھے۔ ان کا شمار مدینہ کے ان تابعین میں تھا جو اقلیم وعمل دونوں کے فرماں روا تھے علامہ ذہبی لکھتے ہیں کہ سالم فقیہ، حجت اوران مخصوص علماء میں تھے، جن کی ذات علم وعمل دونوں کی جامع تھی [3] امام نووی لکھتے ہیں کہ سالم کی امامت ،جلالت،زہد وورع اور علوئے مرتبت پر سب کا اتفاق ہے۔ [4]

تفسیرترميم

تفسیر،حدیث،فقہ جملہ فنون میں ان کو یکساں درک تھا،لیکن شدتِ احتیاط کی وجہ سے قرآن کی تفسیر نہ بیان کرتے تھے [5] اسی لیے مفسر کی حیثیت سے انہوں نے کوئی خاص شہرت نہیں حاصل کی۔

حدیثترميم

حضرت عبداللہ بن عمرؓ حدیث کے رکن اعظم تھے،سالم نے زیادہ تر انہی کے خرمن سے خوشہ چینی کی تھی، ان کے علاوہ اکابر صحابہ میں ابو ہریرہؓ،ابوایوبؓ انصاری،اورعائشہؓ صدیقہ وغیرہ سے بھی استفادہ کیا تھا [6] ان بزرگوں کے فیض سے ان کا دامنِ علم نہایت وسیع ہوگیا تھا،علامہ ابن سعد لکھتے ہیں کہ سالم ثقہ، کثیر الحدیث اور عالی مرتبہ لوگوں میں تھے۔ [7]

تلامذہترميم

حدیث میں عمرو بن دینار، امام زہری،موسیٰ بن عقبہ،حمید الطویل،صالح بن کیسان، عبیداللہ بن عمرو بن دینار، امام زہری،موسیٰ بن عقبہ، حمید الطویل، صالح بن کیسان، عبیداللہ بن عمرو بن حفص، ابو وا قدلیثی، عاصم بن عبداللہ،عبداللہ بن ابی بکر، اور ابو قلابہ جرمی جیسے اکابر محدثین ان کے تلامذہ میں تھے۔ [8]

فقہترميم

سالم کا خاص اور امتیازی فن فقہ تھا، اس میں وہ امامت کا درجہ رکھتے تھے،بعض ائمہ جن میں ایک ابن مبارک بھی ہیں ان کو مدینہ کے مشہور سات فقہا میں شمار کرتے تھے۔[9] گو ساتویں فقیہ کی تعین میں اختلاف ہے ، مختلف اشخاص نے اپنی اپنی نظر وبصیرت کے مطابق مختلف نام لیےہیں، لیکن بہرحال اس زمرہ میں سالم کا نام بھی لیا جاتا ہے،ان کے فقہی کمالات کی سب سے بڑی سند یہ ہے کہ مدینہ کی صاحب افتا جماعت کے وہ ممتاز رکن تھے۔ [10]

زہد وتقویٰترميم

سالم علم کے ساتھ عمل کے بھی اسی درجہ پر تھے،امام مالک فرماتے تھے کہ سالم کے زمانہ میں ان سے زیادہ زہد وورع میں سلف صالحین سے مشابہ کوئی نہ تھا [11]امام نووی اورحافظ ذہبی وغیرہ جملہ ارباب سیران کے زہد وورع پر متفق البیان ہیں۔

صحت عقیدہترميم

عقائد میں وہ سلف صالحین کے سادہ اور بے آمیز عقیدہ کے پابند تھے اور بعد میں جونکتہ آفرینیاں ہوئیں انہیں سخت ناپسند کرتے تھے؛چنانچہ قدریوں پر جو قدر کی بنا پر خیر و شرکا عقیدہ رکھتے ہیں لعنت بھیجتے تھے۔ [12]

شدت احتیاطترميم

وہ ہرچیز میں انتہائی احتیاط برتتےتھے،جس بات میں جھوٹ کا خفیف سا شائبہ بھی نکلتا اسے پسند نہ کرتے تھے،اس زمانہ میں ایک کپڑا ست گز امشہور تھا جو سات گز سے کچھ کم ہوتا تھا،لیکن عرف عام میں وہ،ست گزا ہی کہلاتا تھا،مروان بن جبیر بزاز کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ سالم کپڑا خریدنے کے لیے آئے میں نے ان کے سامنے ست گزا پھیلا دیا،وہ سات گز سے کچھ کم تھا،فرمایا تم نے توسات گزکہا تھا،میں نے کہا ہم لوگ اسی کو ست گزا کہتے ہیں فرمایا جھوٹ ایسا ہی ہوتا ہے۔ [13]

خون مسلم کی حرمتترميم

آپ کے نزدیک مسلمان کا خون اتنا محترم تھا کہ مجرم مسلمان پر بھی ہاتھ نہ اٹھاتے تھے، ایک مرتبہ حجاج نے آپ کو ایک ایسے شخص کے قتل کا حکم دیا،جو حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کے معاونین میں تھا،آپ تلوارلے کرمجرم کی طرف بڑھے اور پاس جاکر اس سے پوچھا تم مسلمان ہو،اس نے کہا ہاں، مسلمان ہوں،لیکن آپ کو جو حکم دیا گیا ہے،اسےپورا کیجئے،آپ نے پوچھا تم نے آج صبح کی نماز پڑھی ہے اس نے کہا ہاں پڑھی ہے،یہ سن کر سالم لوٹ گئے اورحجاج کے سامنے تلوار پھینک کر کہا یہ شخص مسلمان ہے،آج صبح تک اس نے نماز پڑھی ہے،اوررسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جس شخص نے صبح کی نماز پڑھ لی وہ خدا کے حفظ وامان میں آگیا، حجاج نے کہا ہم اس کو صبح کی نماز کے لیے تھوڑے ہی قتل کرتے ہیں ؛بلکہ اس لیے قتل کرتے ہیں کہ وہ قاتلین عثمان کے معاونوں میں ہے، فرمایا اس کے لیے اور لوگ موجود ہیں جو عثمان کے خون کا انتقام لینے کے ہم سے زیادہ حق دار ہیں ،سالم کے والد حضرت عبداللہ کو یہ واقعہ معلوم ہوا تو انہوں نے فرمایا سالم نے سمجھ داری کا کام کیا۔ [14]

امراء کی دولت سے بے نیازیترميم

آپ غیر خدا کے سامنے کسی حاجت کو پیش کرنا پسند نہ کرتے اور امراء کی دولت اوراُن کی داد ودہش سے اتنے بے نیاز تھے؛کہ ان کی درخواست پر بھی کبھی خواہش کا اظہار نہ کرتے تھے،ہشام بن عبدالملک آپ کو بہت مانتا تھا اوراتنا احترام کرتا تھا کہ آپ نہایت معمولی اور موٹے جھوٹے لباس میں بے محابا اس کے دربار میں چلے جاتے تھے اور وہ اسی لباس میں آپ کو تخت شاہی پر ساتھ بٹھا تا تھا [15] ایک مرتبہ وہ حج کے لیے آیا خانہ کعبہ میں دونوں کی ملاقات ہوئی،ہشام نے آپ سے درخواست کی آپ کی جو ضروریات ہوں انہیں بیان کیجئے، آپ نے فرمایا خدا کے گھر میں کسی غیر سے نہ مانگوں گا۔ [16] یلو موننی فی سالم والو مھم وجلدۃ بین العین والانف سالم لوگ مجھے سالم کے معاملہ میں ملامت کرتے ہیں اورمیں ان کو ملامت کرتا ہوں سالم آنکھ اورناک کے درمیانی چمڑے کی طرح عزیز ہیں۔

وفاتترميم

ذوالحجہ 106ھ مطابق مئی 725ء میں مدینہ میں وفات پائی،ہشام بن عبد الملک نے جو حج سے فراغت کے بعد مدینہ آیا ہوا تھا،نماز جنازہ پڑھائی، جنازہ میں خلقت کا اتنا ہجوم تھا کہ بقیع کے میدان میں نماز پڑھائی گئی۔ [17]

حلیہ ولباس وغیرہترميم

سالم کی زندگی نہایت سادہ تھی، اس میں تکلف وتصنع کا گذر نہ تھا ،حافظ ذہبی لکھتے ہیں کہ ان کی زندگی نہایت خشک اورسادہ تھی،صوف کا لباس پہنتے تھے،پورے لباس کی قیمت دو درہم سے زیادہ نہ ہوتی تھی،غذا میں صرف روٹی اورروغن زیتون ہوتا تھا[18]فاروق اعظمؓ کی زندگی بھی یہی تھی،گوشت بہت کم کھاتے تھے اورلوگوں کو منع کرتے تھے کہ گوشت کم کھایا کرو اس میں شراب کی جیسی تیز ی ہوتی ہے۔ [19] لیکن اس غذا کے باوجود جسم سرسبز وشاداب تھا،ایک مرتبہ ہشام نے حج کے موقعہ پر جبکہ لباس میں صرف احرام ہوتا ہے،ان کے جسم کی تازگی دیکھ کرپوچھا ابو عمیر کیا کھاتے ہو انہوں نے کہا روٹی اورروغن زیتون ،اس نے کہا یہ غذا کیسے کھائی جاتی ہے،فرمایا اسے ڈھک کر رکھ دیتا ہوں،جب بھوک معلوم ہوتی ہے،اس وقت کھالیتا ہوں۔ [20]

اولادترميم

اپنے بعد کئی اولادیں یادگار چھوڑیں ،عمر،ابوبکر،عبداللہ،عاصم،جعفر ،عبدالعزیز،فاطمہ اورحفصہ۔

حوالہ جاتترميم

  1. تہذیب التہذیب:3/438
  2. (ابن سعد:۵/۱۴۵)
  3. (تذکرہ الحفاظ:۱/۷۷)
  4. (تہذیب الاسماء،جلد اول،ق اول،ص۲۷)
  5. (ابن سعد:۵/۱۴۸)
  6. (تہذیب التہذیب:۳/۴۳۷)
  7. (ابن سعد:۵/۱۴۸)
  8. (تہذیب التہذیب:۳/۴۳۷)
  9. (تہذیب الاسماء،جلد اول ،ق اول،ص:۲۰۸)
  10. (اعلام الموقعین :۱/۲۵)
  11. (تذکرہ الحفاظ:۱/۷۷)
  12. (ابن سعد:۵/۱۴۷)
  13. (ابن سعد:۵/۱۴۷)
  14. (ایضاً:۱۴۵)
  15. (تذکرۃ الحفاظ:۱/۷۷)
  16. (ابن خلکان:۱/۱۹۸)
  17. ابن سعد:5/148
  18. ( تذکرۃ الحفاظ:۱/۷۷)
  19. (ابن خلکان:۱/۱۹۸)
  20. (ابن سعد: ۱۴۷)