سرشار صدیقی

اردو زبان کے شاعر

سرشار صدیقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے ممتاز شاعر اور ادبی نقاد تھے۔

سرشار صدیقی
معلومات شخصیت
پیدائش 25 دسمبر 1926  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کانپور،  اتر پردیش،  برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 7 ستمبر 2014 (88 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی،  پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

حالات زندگیترميم

سرشار صدیقی کی پیدائش 25 دسمبر 1926ء کو کانپور، اتر پردیش، برطانوی ہند میں ہوئی۔ وہ ترقی پسند تحریک کے علاوہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا میں بھی سرگرم رہے۔ پاکستان منتقل ہونے کے بعد کراچی میں رہائش اختیار کی۔ وہ نیشنل بینک آف پاکستان کراچی میں مطبوعات کے انچارج رہے۔ 9 نثری کتابوں کے علاوہ ان کے بارہ شعری مجموعے شائع ہوئے۔ انہوں نے ایک طویل منظوم تمثیل بھی لکھی۔ ایک مفتی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد طبیب تھے اور وہ طیبہ کالج دہلی میں لیکچرار تھے۔ ان کے گھر کا ماحول ملا جلا تھا نہ بہت مذہبی اور نہ بہت آزاد خیالی تھی۔ خاندانی روایات کے مطابق مکتب سے تعلیم کا آغاز کیا۔ جامعہ العلوم کانپور میں تجوید القرآن مکمل کی۔ یہ مدرسہ مولانا سید سلیمان ندوی کا قائم کیا ہوا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے فیض عام اسکول، پھر پریزیڈنسی ہائی اسکول کلکتہ اور حلیم مسلم کالج کانپور سے تعلیم مکمل کی۔ جب سرشار صدیقی کو قرآن کے حفظ کے لئے بٹھایا گیا تو دوسرے دن ان کے خوبصورت بال مکتب میں قینچی سے کاٹ دئیے گئے۔اس کے بعد انہوں نے مکتب جانا چھوڑ دیا ان کا کہنا تھا کہ سکول کے زمانے میں جب میرے پاس جیب خرچ ختم ہو جاتا تو والدین سے چھپا کر درسی کتابیں اونے پونے بیچ کر اپنا خرچ پورا کرتا تھا۔ چٹورا ہونے کی بناء پر انہیں اس قسم کی حرکتیں کرنی پڑتی تھیں۔ اس قسم کا ایک اور واقعہ انہوں نے بتایا کہ میچ کھیلنے کے لئے اسکول کے سارے بچے اپنی کتابیں جماعت کی الماری میں رکھ کر فیلڈ میں چلے جاتے میں ایک دوست کی مدد سے بچوں کے بستوں سے قیمتی کتابیں نکال کر کتب فروش کے ہاں بیچ دیتا اور حاصل ہونے والی رقم سے مٹھائی خرید کر تمام کھلاڑیوں میں تقسیم کر دیتا۔

ادبی خدماتترميم

سرشار صدیقی نے بچپن ہی سے بچوں کے لئے کہانیاں لکھنی شروع کر دی تھیں۔ انہوں نے سکول کے زمانے ہی میں معارف، نگار، مولوی اور زمانہ جیسے معتبر علمی جریدے پڑھنے شروع کر دئیے تھے۔ سکول کے زمانے میں انہوں نے ڈرامے اور مشہور نظموں کے ٹیبلو لکھے۔ جنہیں وقتاً فوقتاً اسکول کی سٹیج پر پیش کیا جاتا تھا۔ حافظ ولی اللہ سے انہوں نے قرآن مجید پڑھا۔ پریزیڈنسی سکول کلکتہ میں مشہور ترقی پسند شاعر پرویز شاہدی ان کے استاد تھے۔ جنہیں وہ کبھی بھول نہ پائے۔ انہوں نے سرشار صدیقی کی شاعری کے حوالے سے تربیت کی اور انہیں اس قابل بنایاکہ وہ عوامی اور اجتماعی سطح پر انسانی مسائل کا تجزیہ کر سکیں حلیم مسلم کالج میں پرنسپل عبدالشکور ‘ پروفیسر اویس احمد ادیب اور پروفیسر عبدالعلیم شیرکوٹی کا ذکر انتہائی محبت اور احترام سے کرتے تھے۔ اسکول میں ان کے ساتھیوں میں ڈاکٹر ابوالخیر کشفی ‘ پروفیسر حسنین کاظمی ‘ ڈاکٹر حنیف فوق ‘ پروفیسر مرتضیٰ شفیع اور اشتیاق اظہر] شامل ہیں۔

وفاتترميم

سرشار صدیقی بعمر 87 برس 7 ستمبر 2014ء کو کراچی میں وفات پا گئے۔

حوالہ جاتترميم