سیالکوٹ جنکشن ریلوے اسٹیشن

سیالکوٹ جنکشن ریلوے اسٹیشن صوبہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں وزیر آباد - نارووال برانچ ریلوے لائن پر واقع ہے۔ یہ اسٹیشن 1880ء میں برطانوی دور حکومت میں قائم کیا گیا۔ یہ سیالکوٹ شہر اور سیالکوٹ چھاونی ریلوے لائن کا جنکشن اسٹیشن ہے۔ قیام پاکستان سے قبل یہ ریلوے لائن سیالکوٹ کو جموں سے منسلک کرتی تھی۔

سیالکوٹ جنکشن ریلوے اسٹیشن
Sialkot Jn Railway Station
محل وقوعسیالکوٹ
مالکوزارت ريلوے
لائن(لائنیں)وزیر آباد-نارووال برانچ لائن
دیگر معلومات
اسٹیشن کوڈSLK
خدمات
پچھلا اسٹیشن پاکستان ریلوے اگلا اسٹیشن
اگوکی وزیرآباد-نارووال برانچ لائن تاثیر آباد
Map
پاکستان ریلوے نیٹ ورک

صفحہ ماڈیول:Coordinates/styles.css میں کوئی مواد نہیں ہے۔32°29′56″N 74°32′31″E / 32.4988°N 74.5420°E / 32.4988; 74.5420

اٹھارہ سو اسی میں قائم ہونے والا سیالکوٹ کا ریلوے اسٹیشن کبھی جموں اور گورداسپور کے راستوں پہ ایک اہم جنکشن تھا۔ اسٹیشن پر پنجاب کے محبوس میدانوں سے گھبرا کر ہمالے کا رخ کرنے والے مسافروں کی بھیڑ ہوتی اور اس میں ہندو کھانا، مسلمان کھانا یا ہندو پانی، مسلمان پانی کی تکرار کان پڑی آواز سننے نہیں دیتی تھی۔ یہ اسٹیشن اب دو موسموں کے بیچ نہیں بس شہر کے دو حصوں کے درمیان واقع ہے۔ ریل کی باریک لکیر اب جموں کی طرف جاتے جاتے، چھاؤنی سے تھوڑا آگے بڑھ کر رک جاتی ہے۔

تاریخ ترمیم

سیالکوٹ جنکشن وزیرآباد، ناروال برانچ لائن پر واقع ہے جسے 1880ء میں تعمیر کیا گیا تھا اور اس کی دوبارہ تعمیر 1962ء میں کی گئی تھی۔ ناروال سے شاہدرہ برانچ لائن کے ذریعے سیالکوٹ لاہور، کراچی اور ملک کے دیگر حصوں سے جڑا ہوا ہے یہاں سے کراچی کے لیے واحد چلنے والی گاڑی 9/10 علامہ اقبال ایکسپریس ہے جو مکمل طور پر اکانومی کلاس پر مشتمل ہے۔ یہی علامہ اقبال ایکسپریس شام کو ساڑھے چار بجے شاہین پیسنجر بن کر وزیر آباد جاتی ہے اور صبح پونے چھ روانہ ہوکر چھ بج کر پچاس منٹ پر سیالکوٹ جنکشن پہنچ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سیالکوٹ سے لاہور کے لیے لاثانی ایکسپریس بھی چلتی ہے۔ سیالکوٹ جنکشن سے ایک لائن جموں کشمیر جاتی ہے جس کی لمبائی 43 کلومیٹر ہے۔ 1890ء میں پہلی بار مہاراجا پرتاب سنگھ کے دور میں ریاست جموں و کشمیر میں یہ ریلوے لائن بچھائی گئی اور یہ نارتھ ویسٹرن ریلوے کا حصہ تھی۔ 1935ء کے ٹائم ٹیبل کے مطابق جموں کے لیے چار گاڑیاں چلتی تھیں دو وزیر آباد سے جموں اور دو سیالکوٹ سے جموں۔ اس لائن پر سیالکوٹ جنکشن کے بعد اگلا اسٹیشن سیالکوٹ چھاؤنی ہے جس کے بعد بارڈر آ جاتا ہے اور کشمیر شروع ہو جاتا ہے۔ تین چھوٹے اسٹیشنوں کے بعد جموں کینٹ اسٹیشن آتا ہے۔ تقسیم ہند کے بعد سے یہ سیکشن مکمل طور پر بند ہے۔

سہولیات ترمیم

ریلوے اسٹیشن کوڈ ترمیم

پاکستان ریلویز کی سرکاری ویب گاہ کے مطابق سیالکوٹ ریلوے اسٹیشن کا کوڈ SLK ہے۔ سیالکوٹ جنکشن ریلوے اسٹیشن میں پارکنگ سمیت تمام بنیادی سہولیات موجود ہیں۔ ٹکٹ کی خریداری کے لیے موجودہ اور پیشگی ریزرویشن دفاتر؛ پلیٹ فارم پر کھانے، پینے اور کتابوں کے اسٹالز؛ اور کارگو اور پارسل کی خدمات وغیرہ۔

بکنگ اور ٹکٹنگ ایریا ترمیم

بکنگ اور ٹکٹنگ ایریا ریلوے اسٹیشن کی شمالی عمارت میں واقع ہے۔ پریمیم کلاسز اور سیکنڈ کلاس کے لیے الگ الگ کاؤنٹر ہیں۔ یہ تمام کاؤنٹر کمپیوٹرائزڈ ٹکٹنگ فراہم کرتے ہیں۔

انتظار گاہیں ترمیم

ریلوے اسٹیشن کمپلیکس کی شمالی عمارت میں ویٹنگ ہال بھی واقع ہیں۔ ایک مشترکہ ویٹنگ ایریا تمام سیکنڈ کلاس مسافروں کی خدمت کرتا ہے اور پریمیم کلاس کے مسافروں کے لیے ایک الگ ایئر کنڈیشنڈ ویٹنگ ہال موجود ہے۔

کارگو ایریا ترمیم

سیالکوٹ جنکشن ریلوے اسٹیشن لوگوں کو اسٹیشن پر غیر صنعتی کارگو بک کرنے کی سہولیات بھی فراہم کرتا ہے۔ اس سہولت میں کارگو بکنگ اور ڈیلیوری شامل ہے اور یہ ریلوے اسٹیشن کمپلیکس کی شمال مغربی عمارت میں واقع ہے۔

ایڈمن آفسز ترمیم

انتظامیہ کے دفاتر جن میں سیالکوٹ ریلوے اسٹیشن اور سیالکوٹ ریلوے ریجن کے انتظامی دفاتر، ریلوے پولیس اور سیکیورٹی، اسٹیشن ماسٹر اور دیگر انتظامی خدمات ریلوے اسٹیشن کی عمارت کے ساتھ واقع ہیں۔

مزید دیکھیے ترمیم

بیرونی روابط ترمیم

نگار خانہ ترمیم