پاکستان ریلویز یا پاکستان راہ آہن( انگريزی: Pakistan Railways ) جس کا سابقہ نام 1947ء سے فروری 1961ء تک شمال مغربی ریلوے اور فروری 1961ء سے مئی 1974ء تک پاکستان مغربی ریلوے تھا، حکومت پاکستان کا ایک محکمہ ہے جو پاکستان میں ریلوے خدمات فراہم کرتا ہے۔ اس کا صدر دفتر لاہور میں ہے اور یہ وزارت ریلوے کے تحت کام کرتا ہے۔ پاکستان ریلویز پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی طرح اہم ہے جو پاکستان میں بڑے پیمانے پر آمد و رفت کی سستی تیز رفتار اور آرام دہ سہولیات فراہم کرتا ہے۔

پاکستان ریلویز
ماتحت وزارت ریلوے، حکومت پاکستان
صنعتریل نقل و حمل

کارگو ٹرانسپورٹ پارسل کیریئر

کیٹرنگ
قیام1947
صدر دفترلاہور، پنجاب
علاقہ خدمت
پاکستان
خدماتمسافروں اور مال کی ریل گاڑیوں کے ذریعے ترسیل
آمدنیپاکستانی روپیہ 48.65 بلین (2021-2022)
مالکحکومت پاکستان (100%)
ملازمین کی تعداد
72,078 (2016-2017) [1]
ڈویژن8
ویب سائٹpakrail.gov.pk
پاکستان ریلویز

تاریخ

ترمیم
 
خیبر بھاپ ریل گاڑی

موجودہ پاکستان میں ریلوے کا آغاز 13 مئی 1861ء میں ہوا جب کراچی سے کوٹری 169 کلومیٹر ریلوے لائن کا افتتاح ہوا۔ 24 اپریل 1865ء کو لاہور - ملتان ریلوے لائن کو ٹرینوں کی آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا۔ 6 اکتوبر 1876ء کو دریائے راوی, دریائے چناب اور دریائے جہلم پر پلوں کی تعمیر مکمل ہو گئی اور لاہور - جہلم ریلوے لائن کو کھول دیا گیا۔ 1 جولائی 1878ء کو لودهراں - پنوعاقل 334 کلومیٹر طویل ریلوے لائن کا افتتاح ہوا۔ 27 اکتوبر 1878ء کو دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر کوٹری سے سکھر براستہ دادو اور لاڑکانہ ریلوے لائن کو ٹرینوں کی آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا۔ رک سے سبی تک ریلوے لائن بچھانے کا کام جنوری 1880ء میں مکمل ہوا۔ اکتوبر 1880ء میں جہلم - راولپنڈی 115 کلومیٹر طویل ریلوے لائن کو ٹرینوں کی آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا۔ 1 جنوری 1881ء کو راولپنڈی - اٹک کے درمیان 73 کلومیٹر طویل ریلوے لائن کو کھول دیا گیا۔ 1 مئی 1882ء کو خیرآباد کنڈ - پشاور 65 کلومیٹر طویل ریلوے لائن تعمیر مکمل ہو گئی۔ 31 مئی 1883ء کو دریائے سندھ پر اٹک پل کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد پشاور - راولپنڈی سے بذریعہ ریل منسلک ہو گیا۔

1885ء تک موجودہ پاکستان میں چار ریلوے کمپنیاں سندھ ریلوے، انڈین فلوٹیلا ریلوے، پنجاب ریلوے اور دہلی ریلوے کام کرتیں تھیں۔ 1885ء میں انڈین حکومت نے تمام ریلوے کمپنیاں خرید لیں اور 1886ء میں نارتھ ويسٹرن اسٹیٹ ریلوے کی بنیاد ڈالی جس کا نام بعد میں نارتھ ويسٹرن ریلوے کر دیا گیا۔

مارچ 1887ء کو سبی - کوئٹہ ریلوے لائن کی تعمیر مکمل ہو گئی۔ 25 مارچ 1889ء کو روہڑی اور سکھر کے درمیان لینسڈاؤن پل کا افتتاح ہوا۔ اس پل کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد کراچی - پشاور سے بزریعہ ریل منسلک ہو گیا۔ 15 نومبر 1896ء کو روہڑی - حیدرآباد براستہ ٹنڈو آدم، نواب شاہ اور محراب پور ریلوے لائن کا افتتاح ہوا۔ 25 مئی 1900ء کو کوٹری پل اور 8 کلومیٹر طویل کوٹری - حیدرآباد ریلوے لائن مکمل ہو گئی۔ اس سیکشن کے مکمل ہو جانے کے بعد پاکستان ریلویز کی کراچی - پشاور موجودہ مرکزی ریلوے لائن بھی مکمل ہو گئی۔

نارتھ ويسٹرن ریلوے کو فروری 1961ء میں پاکستان ويسٹرن ریلوے اور مئی 1974ء میں پاکستان ریلویزمیں تبدیل کر دیا گیا۔

ریلوے بورڈممبران

ترمیم

ریلوے بورڈ، جو 1959ء سے 2000ء تک موجود تھا، بعد میں 2000ء اور 2014ء تک ایک ایگزیکٹو کمیٹی کے ساتھ اس کی ترمیم کر دی گئی تھی۔ ریلوے بورڈ کی تشکیل نو 20 فروری 2015ء کو دوبارہ ہوئی تھی۔ اس بورڈ کے ارکان درج ذیل ہیں:

  • وفاقی سیکرٹری ریلوے (چیئرمین بورڈ)
  • وفاقی سیکرٹری مواصلات
  • پاکستان کے فنانس سیکرٹری
  • سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ آف پاکستان
  • جنرل منیجر ریلوے (آپریشنز)
  • جنرل منیجر ریلوے (مینوفیکچرنگ اینڈ سروسز)
  • ممبر خزانہ، وزارت ریلوے

گیج (پٹری کی چوڑائی)

ترمیم

قیام پاکستان کے وقت پاکستان میں تین مختلف براڈ گیج، میٹر گیج اور نیرو گیج ریلوے لائنیں استمال ہوتی تھیں۔ جن میں سے کچھ میٹر گیج اور نیرو گیج ریلوے لائنیں براڈ گیج میں تبدل کر دیں گیئں ہیں اور باقی بند ہو چکی ہیں۔ اب پاکستان ریلوے کے نظام میں صرف براڈ گیج ریلوے لائنیں استعمال ہو رہی ہیں۔

برقی لائن

ترمیم

لاہور-خانیوال لائن کو 25 کے وی اے سی پر برقی کیا گیا تھا، لیکن الیکٹرک سروس 2011ء میں بند ہو گئی تھی۔

یونٹس

ترمیم

پاکستان ریلوے کے تین فعال یونٹس ہیں جن میں آپریشنز، مینوفیکچرنگ ویلفیئر اور خصوصی اقدامات۔آپریشن یونٹ کو تین اہم محکموں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ انفراسٹرکچر ڈیپارٹمنٹ سول انجینئرنگ، سگنلنگ، ٹیلی کمیونیکیشن، ڈیزائن اور ڈائریکٹوریٹ آف پراپرٹی کی نگرانی کرتا ہے۔ مکینیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ مکینیکل انجینئرنگ، پرچیزنگ، اسٹورز اور الیکٹریکل انجینئرنگ کی نگرانی کرتا ہے اور ٹریفک ڈیپارٹمنٹ مسافروں کی سہولیات، آپریشنز، مارکیٹنگ اور ڈائریکٹوریٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کی نگرانی کرتا ہے۔ عملہ، ریلوے پولیس، منصوبہ بندی، قانونی امور، تعلقات عامہ اور پاکستان ریلوے اکیڈمی سمیت کئی چھوٹے محکمے بھی آپریشن یونٹ کا حصہ ہیں۔

پاکستان ریلویز ڈویژنز

ترمیم

ریلوے کے 8 علاقائی آپریٹنگ ڈویژن ہیں:

اس کے علاوہ ایک ڈویژن نان آپریٹنگ ڈویژن ہے جو مغل پورہ ڈویژن، لاہور ہے۔ یہ ڈویژن بنیادی طور پر رولنگ اسٹاک کی دیکھ بھال میں مصروف ہے۔[2]

رفتار

ترمیم

پاکستان ریلویز کی ٹرینوں کی رفتار زیادہ سے زیادہ 120 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ کراچی - لاہور ریلوے سیکشن کے کچھ حصوں پر ٹرینں 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتیں ہیں۔ پاکستان ریلویز کراچی - خان پور ریلوے سیکشن کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہا ہے جس کے مکمل ہونے کے بعد اس سیکشن پر ٹرینں 140 کلومیٹر فی گھنٹہ سے چل سکیں گی۔

اہم ریلوے لائنیں

ترمیم
نمبر شمار رنگ/ کلر کوڈ ریلوے لائن کلومیٹر
1    کراچی-پشاور لائن (ایم ایل-1) 1687 km
2    کوٹری-اٹک لائن (ایم ایل-2) 1519 km
3    روہڑی-چمن لائن (ایم ایل-3) 523 km
4    کوئٹہ-تفتان لائن (ایم ایل-4) 633 km
5    ٹیکسلا-خنجراب لائن (ایم ایل-5) (مجوزہ) 682 km

برانچ لائنز

ترمیم

شہری ریلوے

ترمیم

مجوزہ یا زیر تعمیر

ترمیم

سیاحت اور ورثہ ریلوے

ترمیم

اہم ریلوے اسٹیشن

ترمیم
 
کراچی چھاونی ریلوے اسٹیشن
 
لاہور جنکشن

کراچی تا پشاور مرکزی ریلوے لائن

دیگر ریلوے لائنیں

بین الاقوامی ریل رابطے

ترمیم

پاکستان بھارت, ایران اور ترکی سے بذریعہ ریل منسلک ہے۔ پاکستان کا افغانستان کے راستے وسطی ایشیا تک ریلوے ٹریک بچھانے کا منصوبہ زیر غور ہے۔

پاکستان بھارت سے لاہور - دہلی اور میرپور خاص - جودھ پور ریلوے لائنوں کے ذریعے ملا ہوا ہے۔ دو مسافر ٹرینیں سمجھوتہ ایکسپریس لاہور اور دہلی کے درمیان ہفتہ میں دو بار اور تھر اکسپريس ہفتہ وار کراچی اور جودھ پور کے درمیان چلتی ہیں۔ جموں-سیالکوٹ ریلوے سے بھی بھارت کا رابطہ ہوا کرتا تھا۔

پاکستان ایران سے کوئٹہ-تفتان لائن (ایم ایل-4) براستہ زاہدان ریلوے اسٹیشن سے منسلک ہے۔ مہینے میں دو مسافراور مال بردار ٹرینیں کوئٹہ اور زاہدان کے درمیان چلتی ہیں۔

ایران میں کرمان - زاہدان ریلوے لائن کی تعمیر مکمل ہوجانے کے بعد پاکستان ترکی اور یورپ سے بھی بذریعہ ریل منسلک ہو گیا ہے۔ 14 اگست 2009ء کو پاکستان اور ترکی کے درمیان مال بردار ٹرین کا آغاز ہو چکا ہے جو اسلام آباد سے استنبول براستہ تہران 6,500 کلومیٹر کا فاصلہ 14 دن میں طے کرتی ہے۔

فی الحال افغانستان سے کوئی ریل رابطہ نہیں ہے، لیکن پاکستان ریلوے نے تین مرحلوں میں افغان ریل نیٹ ورک بنانے میں مدد کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ پہلا مرحلہ چمن سے اسپن بولدک تک روہڑی-چمن ریلوے لائن کی توسیع کے طور پر پھیلے گا۔ دوسرا مرحلہ اسپن بولدک سے قندھار تک لائن کو بڑھا دے گا۔ تیسرا مرحلہ قندھار سے ہرات اور خوشکا، ترکمانستان تک چلے گا۔

موجودہ چین کے ساتھ کوئی ریل رابطہ نہیں ہے۔ خنجراب ریلوے یا قراقرم ریلوے، پاکستان کے گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ نگر کو براستہ درہ خنجراب عوامی جمہوریہ چین کے خود مختار علاقے شنجیانگ سے ملانے کا ایک منصوبہ ہے۔

کوچز/بوگیاں

ترمیم

پاکستان ریلوے میں سفر کی کئی کلاسیں ہیں۔ روٹ کے لحاظ سے، کچھ ٹرینوں کی ایک کلاس ہوتی ہے۔ کلاسوں کے کرایے مختلف ہوتے ہیں، غیر محفوظ نشستوں کے ساتھ سب سے کم مہنگی ہوتی ہے۔ درج ذیل جدول میں کلاسز اور کوڈز کی فہرست ہے۔

کلاس کوڈ
AC سلیپر ACSL
AC پارلر پی سی
AC بزنس ACLZ
AC سٹینڈرڈ ACL
فرسٹ کلاس سلیپر آئی ایس ایل
اکانومی کلاس EC
سیکنڈ کلاس SEC

پاکستان ریلویز پولیس

ترمیم

پاکستان ریلویز کی حفاظت پاکستان ریلویز پولیس کرتی ہے جو وزارت ریلوے (پاکستان) کے تحت آتی ہے۔ ریلوے پولیس کا صدر دفتر لاہور میں واقع ہے ۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. "Pakistan Railway Divisions"۔ PakPedia۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 مارچ 2017 

مزید دیکھیے

ترمیم