شاندارلی علی پاشا (وفات: 18 دسمبر 1406ء) چھٹے وزیراعظم سلطنت عثمانیہ تھے۔ شاندارلی کا تعلق شاندارلی خاندان سے تھا جو سلطنت عثمانیہ کے ابتدائی زمانہ میں با اثر ترین خاندان تھا۔ شاندارلی علی پاشا 1387ء سے 1406ء تک طویل عرصہ یعنی 19 سال تک وزیر اعظم سلطنت عثمانیہ رہے۔ علی پاشا سلطان نے 2 سال سلطان مراد اول، 13 سال سلطان بایزید اول اور 4 سال سلیمان چلبی کے ادوارِ حکومت میں بحیثیت وزیر اعظم سلطنت عثمانیہ وزارت کی۔ علی پاشا نے 1402ء میں عثمانی زمانہ تعطل کا زمانہ بھی دیکھا، وہ عثمانی زمانہ تعطل (1402ء1413ء) کے پہلے وزیر اعظم تھے۔

شاندارلی علی پاشا
تفصیل= ازنیق، بورصہ میں واقع شاندارلی علی پاشا اور اُن کے والد شاندارلی خلیل پاشا کبیر کی قبریں۔ تصویر ہذا میں شاندارلی علی پاشا کی قبر بائیں جانب ہے۔
تفصیل= ازنیق، بورصہ میں واقع شاندارلی علی پاشا اور اُن کے والد شاندارلی خلیل پاشا کبیر کی قبریں۔ تصویر ہذا میں شاندارلی علی پاشا کی قبر بائیں جانب ہے۔

وزیراعظم سلطنت عثمانیہ
مدت منصب
22 جنوری 1387ء18 دسمبر 1406ء
حکمران سلطان مراد اول، سلطان بایزید اول، سلیمان چلبی
شاندارلی خلیل پاشا کبیر
امام زادہ خلیل پاشا
معلومات شخصیت
پیدائش سلطنت عثمانیہ   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 27 دسمبر 1406ء   ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سلطنت عثمانیہ   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت سلطنت عثمانیہ   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب سنی اسلام
والد شاندارلی خلیل پاشا کبیر   ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
شاندارلی ابراہیم پاشا   ویکی ڈیٹا پر (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سوانح

ترمیم

شاندارلی علی پاشا شاندارلی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ 22 جنوری 1387ء کو سلطان مراد اول نے علی پاشا کو اُن کے والد شاندارلی خلیل پاشا کبیر کی وفات کے بعد وزیر اعظم مقرر کیا اور اِس عہدہ پر علی پاشا اپنی وفات تک یعنی 18 دسمبر 1406ء تک فائز رہے۔ علی پاشا شاندارلی ابراہیم پاشا کبیر کے بھائی تھے جو مستقبل میں وزیراعظم سلطنت عثمانیہ بنے۔ 1388ء میں فتح بلغاریہ اور دبروجہ کی مہمات میں علی پاشا عثمانی فوج کے سربراہ تھے۔ 1389ء میں سلطان بایزید اول نے پاشا کا خطاب دیا۔

1396ء میں علی پاشا جنگ نکوپولس میں روم ایلی سپاہی دستوں کے بھی سربراہ تھے۔ 1402ء میں عثمانی زمانہ تعطل کا آغاز ہوا تو علی پاشا بورصہ چلے گئے جہاں وہ سلیمان چلبی کے دربار سے وابستہ ہو گئے اور بحیثیت وزیراعظم سلطنت عثمانیہ اپنے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ چار سال بعد بورصہ میں 18 دسمبر 1406ء کو علی پاشا نے وفات پائی اور ازنیق، بورصہ میں اپنے والد شاندارلی خلیل پاشا کبیر کے پہلو میں دفن کیے گئے۔ مؤرخین علی پاشا کو عثمانی وزرائے اعظم میں بہترین کردار اور اخلاق کی حامل شخصیت گردانتے ہیں۔

وجہ شہرت

ترمیم

علی پاشا کی وجہ شہرت اُن کی تعمیر کردہ سبز مسجد (ازنیق) ہے جو بورصہ میں واقع ہے، مسجد کی تعمیر 1378ء میں شروع ہوئی اور 1392ء میں تکمیل کو پہنچی۔ علی پاشا بورصہ کے شہری نہیں تھے مگر بورصہ کے مقامی لوگوں کی حمایت کی خاطر وہ بورصہ میں تعمیرات میں مشغول رہے۔ علاوہ ازیں شہر سیرس اور شہر گلیبولو ان کی فتوحات ہیں جن سے وہ عثمانی دائرہ اقتدار میں شامل ہو گئے۔

حوالہ جات

ترمیم
سیاسی عہدے
ماقبل  وزیراعظم سلطنت عثمانیہ
22 جنوری 1387ء18 دسمبر 1406ء
مابعد