شہناز رحمت اللہ

بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والی گلوکارہ


شہناز رحمت اللہ (پیدائش: 2 جنوری 1952ء— وفات: 23 مارچ 2019ء) بنگلا دیش سے تعلق رکھنے والی گلوکارہ تھیں۔ اُن کی وجہ شہرت ملی نغمے سوہنی دھرتی اور جیوے پاکستان ہیں۔

شہناز رحمت اللہ
(بنگالی میں: শাহনাজ রহমতুল্লাহ ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

معلومات شخصیت
پیدائش 2 جنوری 1952ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ڈھاکہ ،  مشرقی پاکستان   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 23 مارچ 2019ء (67 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ڈھاکہ ،  عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات دورۂ قلب   ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت   ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش
مملکت پاکستان   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ گلو کارہ   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان بنگلہ   ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
IMDB پر صفحہ[1]  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سوانح

ترمیم

شہناز بیگم 2 جنوری 1952ء کو ڈھاکا میں پیدا ہوئیں۔ نو عمری میں ہی وہ موسیقی سے منسلک ہوگئیں۔شہناز بیگم کی شادی میجر ریٹائرڈ ابوالبشر رحمت اللہ سے ہوئی۔[2] مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والی وہ پہلی گلوکارہ تھیں جنھوں نے اردو زبان میں ملی نغمے گائے۔ شہناز بیگم پانچ دہائیوں تک فن سے وابستہ رہیں اور انھوں نے شہنشاہ غزل مہدی حسن سے گلوکاری کے اسرار و رموز سیکھے جبکہ ان کا گانا ’’کہاں ہو تم چلے آؤ‘‘ بھی کافی مقبول ہوا۔مشہور ملی نغمے جیوے جیوے پاکستان اور سوہنی دھرتی سے کافی شہرت ملی۔[3] بنگلا دیش کے قیام کے بعد وہ وہاں منتقل ہوگئیں اور اپنے آبائی ملک بھی گلوکاری کا سلسلہ جاری رکھا۔ 1990ء میں انھیں فلم چھوتر پھاندے میں بہترین گلوکاری پر نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا جبکہ 1992ء میں انھوں نے ایکوشے پدک ایوارڈ بھی جیتا۔ عمرہ کی ادائیگی کے بعد انھوں نے گلوکاری کو خیرباد کہہ دیا تھا اور گوشہ نشیں ہو گئی تھیں۔شہناز بیگم نے سوگواران میں شوہر، بیٹا اور بیٹی کو چھوڑا ہے۔

وفات

ترمیم

23 مارچ 2019ء کو شہناز بیگم دورہ قلب سے 67 سال کی عمر میں انتقال کرگئیں۔ نمازِ جنازہ 23 مارچ 2019ء کو نماز ظہر کے بعد ڈھاکہ میں اداء کی گئی۔

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم