صدیق بلوچ

پاکستانی بلوچ صحافی و ماہر اقتصادیات

صدیق بلوچ (10 فروری 1940[1] – 5 فروری 2018)[2] ایک پاکستانی انگریزی-زبان کے صحافی اور اور ممتاز سیاسی ماہر اقتصادیات تھے۔[3]

صدیق بلوچ
معلومات شخصیت
پیدائش 10 فروری 1940(1940-02-10)
Lyari، کراچی، برطانوی ہند (اب پاکستان)
وفات 5 فروری 2018(2018-20-50) (عمر  77 سال)
کراچی، پاکستان
رہائش کراچی (1940–1990)
کوئٹہ (1990–2018)  ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت پاکستان (1 اگست 1947–5 فروری 2018)
برطانوی ہند (1940–14 اگست 1947)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کراچی   ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان، صحافی
پیشہ ورانہ زبان انگریزی ،  اردو   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت ڈان   ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

وہ انگریزی روزنامے بلوچستان ایکسپریس (کوئٹہدی گارڈین (کراچی) ایک اردو روز نامے آزادی اور انگریزی ہفتہ وار ایکسپریس، (کوئٹہ) کے مدیر رہے۔ وہ مستقل ڈان اخبار میں کالم لکھتے تھے اور وہ بلوچستان کی سماجی، سیاسی اور اقتصادی امور کے ماہر مانے جاتے تھے۔

ذاتی زندگی

ترمیم

صدیق بلوچ لیاری کے مضافات میں ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے، جو پاکستان کے کاروباری دار الحکومت کراچی میں واقع ہے، لیکن1990ء میں کوئٹہ، بلوچستان iمیں منتقل ہو گئے[4]

وہ 'آزادی اظہار' پر انتہائی یقین رکھتے تھے اور پرویز مشر فکے دور آمریت میں سالوں تک، آمریت کے خلاف کھل کر بات کرتے رہے جس کی پاداش میں ان کے میڈیا پر آنے پر پابندی لگا دی گئی۔ یہ پابندی نومبر 2007 صدر پرویز مشرف کی طرف سے پیمرا (پاکستان) (پیمرا) آرڈینینس میں ترمیم کا نتیجہ تھی۔[5]

تعلیم

ترمیم

صدیق بلوچ نے ابتداغي تعلیم کراچی کے پرائمری اسکول سے حاصل کی۔ 1959ء میں مایہ ناز سندھ مدرسۃ الاسلام اسکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔[4] 1961ہ میں ایس ایم کالج میں داخلہ لیا جہاں سے 1964ء میں گریجویٹ کیا۔ 1964ء میں صدیق بلوچ نے جامعہ کراچی سے معاشیات میں ایم اے کیا۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. Balochistan: Veteran journalist Siddique Baloch passes away | Balochwarna News
  2. https://www.pakistantoday.com.pk/2018/02/06/siddiq-baloch-passes-away-in-karachi/
  3. Syed Ali Shah | Imtiaz Ali (2018-02-06)۔ "Veteran journalist Siddique Baloch passes away in Karachi"۔ DAWN.COM (بزبان انگریزی)۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 06 فروری 2018 
  4. ^ ا ب "' 'Feeling of alienation of Baloch youth irreversible – The News اپریل 10, 2009"۔ www.thenews.com.pk۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  5. "' 'Press Freedom' – By Special Report"۔ www.weeklypulse.org۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ