عبد اللہ بن ابی سرح

عبد اللہ ابن سعد ((عربی: عبداللہ بن سعد بن أبي السرح)‏) عثمان بن عفان کے رضاعی بھائی اور سعد ابن سرح کے بیٹے تھے۔ مصر کی گورنری کے دوران میں (646ء تا 656ء)، ابن سعد نے مصری عرب بحریہ کی بنیاد رکھی۔ ان کی سپاہ سالاری میں مسلم بحریہ نے کئی فتوحات سمیٹیں جن میں 655ء میں بازنطینی حکمران قسطن ثانی سے پہلی بڑی بحری جنگ جنگ مستول بھی شامل ہے۔ ان کے عہد گورنری میں ایک اور اہم فتح 647ء میں تریپولی/طرابلس کی فتح بھی تھی، جس سے موجودہ لیبیا کا علاقہ اسلامی سلطنت کا حصہ بن گیا۔

عبد اللہ بن ابی سرح
معلومات شخصیت
پیدائش 7ویں صدی  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 656 (5–6 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسقلان  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
مناصب
گورنر (2 )   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
646  – 656 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png عمرو ابن العاص 
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عملی زندگی
پیشہ عسکری قائد،  والی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

صحابی رسول اور کاتب وحی تھے۔ یہ عثمان غنی کے رضاعی بھائی ہیں، فتحِ مکہ سے پہلے ہی ایمان قبول کیا اور ہجرت کی، پھر شیطان کے بہکاوے میں آکر مرتد ہو گئے اور مشرکینِ مکہ سے جا ملے، فتحِ مکہ کے دن عثمان غنی کی سفارش پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو امان دیا، پھر انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور بہت پختہ مسلمان رہے، اسلام ہی پر ان کا خاتمہ ہوا۔[1]

ارتداد سے پہلے دربارِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں کتابت کا بھی موقع نصیب ہوا، اہلِ تاریخ و سیر کا اس پر اتفاق ہے۔[2]

ان کے سلسلے میں بعض کتابوں میں یہ بات ملتی ہے کہ: ابن ابی سرح قرآن مجید کی کتابت میں تبدیلی کر دیا کرتے تھے، اس پر ڈاکٹر محمد مصطفٰی اعظمی نے بڑی مفصل گفتگو کی ہے انہوں نے متعدد روایتوں کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے:

”حقیقت یہ ہے کہ سارا قصہ غلط ہے اور ابن ابی سرح کی طرف غلط منسوب ہے اس طرح کی بات کی نسبت متعدد لوگوں کی طرف کی گئی ہے، انہیں میں سے عبد اللہ بن خطل انصاری بھی ہے، جو مرتد ہو کر مرا تھا اور دفنائے جانے کے بعد زمین نے اس کو باہر پھینک دیا تھا،[3]

قرآن مجید کی ہر قسم کی تحریف سے سلامتی، اللہ تعالیٰ کا اس کی حفاظت کا ذمہ اٹھانا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قرآن مجید کے معاملہ میں نمایاں درجہ کی احتیاط جس کی شہادت دوستوں سے قبل دشمنوں نے دی، ان تمام چیزوں کی موجودگی میں، ہمارے لیے یہ ممکن نہیں رہتا کہ ہم قرآن مجید میں تغیر کے اس قسم کے قصوں کو تسلیم کر لیں، خصوصاً ایسی روایات کی بنا پر جو بے سند ہیں اور جن کو ابن ابی سرح کے دشمنوں نے تراشا اور پھر ان سے دوسروں نے نقل کی۔

”معتمد علیہ قدیم مصادر میں ابن ابی سرح کے متعلق اس قسم کا کوئی قصہ مذکور نہیں ہے، قدیم مصادر میں سے ہمارے پاس سیرة ابن ہشام، سیرة ابن اسحاق وغیرہ ہیں ان میں صرف کتابت اور ارتداد کی بات ہے اور بس“۔

”اصل میں یہ حکایت ابن کلبی سے منقول ہے جو شیعہ تھا اور عثمانیوں کا دشمن تھا اور واقدی سے منقول ہے جو ضعیف بلکہ وضعِ حدیث کیساتھ متہم تھا۔“اخیر میں خلاصہ کے طور پر لکھتے ہیں:

”کاتبانِ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف منسوب کوئی ایسی بات کہ فلاں اور فلاں قرآن میں تحریف کیا کرتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ اللہ علیہ و آلہ و سلم اس سے غافل تھے، جھوٹی اور خلافِ واقع بات ہے، دین اس قسم کی ہفوات کو تسلیم کرتا ہے نہ علمی مباحث میں ایسی باتوں کو کوئی حیثیت حاصل ہے“۔ [4]

محمد بن عبد اللہ کے دور میںترميم

ابن جریر طبری اپنی تفسیر قرآن مین نقل کرتے ہیں کہ ابن ابی سرح نے اسلام چھوڑ دیا تھا، بعد میں وہ فتح مکہ سے قبل دوبارہ اسلام میں داخہ ہوئے۔[5][6]دوسری طرف، طبری نے اپنی کتاب تاریخ طبری میں ابن ابی سرح اور محمد بن عبدا للہ کے متعلق لکھے ہیں کہ وہ عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح ان کے لیے کتابت کیا کرتے تھے۔۔ وہ مرتد ہو گئے لیکن پھر فتح مکہ کے دن دوبارہ اسلام میں داخل ہوئے۔[7] ایک حدیث جو سنن ابی داؤد میں مذکور ہے، اس میں ہے کہ اس دن (فتح مکہ کے) ابن سعد کی محمد بن عبدا للہ سے تنی ہوئی زبان کے ساتھ گفتگو ہوئی۔[8]

عثمان بن عفان کے دور میںترميم

جب 644ء میں عثمان بن عفان خلیفہ بنے تو انھوں نے ابن ابی سرح کو مصر میں عمرو ابن عاص کی جگہ گورنر کا عہدہ دیا اور محمد ابن ابی حدیفہ ان کا نائب کیا۔[9]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. الاستیعاب 2/ 375، فتح الباری 8/ 11، البدایہ والنہایہ 5/35
  2. (سیرة ابن ہشام 3/ 405، تاریخ خلیفہ بن خیاط 1/ 77
  3. تاریخ القرآن ص 55
  4. ”نقوش“ رسول نمبر 7/ 173 تا 176
  5. "al-Tabari's Tafsir for 6:93". 14 جون 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 07 جنوری 2013. 
  6. [1]
  7. Al-Tabari, "History of al-Tabari Vol. 9 – The Last Years of the Prophet"، transl. Ismail K. Poonawala, p.148, Albany: State University of New York Press
  8. Translation of Sunan Abu-Dawud (partial)۔ Translated by Professor Ahmad Hasan (online) Hadith 14:2677
  9. Archdeacon George (fl. 715)، as transferred to Severus of Muqaffa؛ B. Evetts (1904). "Benjamin I". History of the Patriarchs of the Coptic church of Alexandria.  On George's authorship of Lives 27-42:Robert G. Hoyland (1998). Seeing Islam As Others Saw It. Darwin Press. صفحہ 447.