عرب لیگ یا عرب جمعیت (عربی: جامعة الدول العربية )عرب اکثریتی ریاستوں کی تنظیم ہے جس کا صدر دفتر مصر کے دار الحکومت قاہرہ میں ہے۔ لیگ کے میثاق کے مطابق رکن ریاستیں اقتصادی معاملات بشمول تجارتی تعلقات، مواصلات، ثقافتی معاملات، قومیت، پاسپورٹ اور ویزا، معاشرتی اور صحت کے معاملات میں ایک دوسرے سے تعاون کریں گی۔ عرب لیگ کے میثاق کے مطابق تمام رکن ریاستیں ایک دوسرے کے خلاف جارحیت کا ارتکاب بھی نہیں کرسکتیں۔ عرب لیگ کا قیام 22 مارچ 1945ء کو اسکندریہ میں عمل میں آیا۔

عرب لیگ

عرب لیگ کا پرچم
عرب ریاستوں کی لیگ کا قیام
22 مارچ 1945 (میثاق اسکندریہ)
رکن ریاستیں 22
سرکاری زبان عربی
عرب لیگ صدر دفاتر قاہرہ، مصر (تیونس شہر، تیونس 1979–1989)
کونسل سوڈان
عرب پارلیمنٹ نبیہ بری
ویب گاہ عرب لیگآرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ arableagueonline.org (Error: unknown archive URL)

رکنیت

ترمیم
 

عرب لیگ کے موجودہ ارکان اور ان کی لیگ میں شمولیت کی تواریخ:


جنوری 2005ء میں    نے بطور مبصر عرب لیگ میں شمولیت اختیار کی

دیگر تنظیموں سے تقابل

ترمیم

عرب لیگ آرگنائزیشن آف امریکن اسٹیٹس، کونسل آف یورپ اور افریقن یونین جیسی تنظیموں ملتی جلتی ہے جو بنیادی طور پر سیاسی مقاصد رکھتی ہیں، انھیں اقوام متحدہ کے علاقائی شکل بھی کہا جا سکتا ہے۔ گوکہ عرب لیگ کی رکنیت ثقافتی بنیادوں پر دی جاتی ہے اس لیے وہ اس کو دیگر مندرجہ بالا تنظیموں سے ممتاز کرتی ہے۔

عرب لیگ دیگر معروف علاقائی تنظیموں جیسے یورپی یونین سے بھی مختلف ہے کیونکہ نہ اس نے علاقائی تعاون میں اہم کامیابی حاصل کی اور نہ اس تنظیم کی رکن ریاستوں کے شہری براہ راست ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ عرب لیگ کے تمام اراکین اسلامی کانفرنس کی تنظیم موتمر عالم اسلامی کے بھی ارکان ہیں۔

انتظامیہ

ترمیم
عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل
نام قومیت تقرری سبکدوشی
عبد الرحمن حسن عزام مصر 1945 1952
عبد الخالق حسنی مصر 1952 1972
محمود ریاض مصر 1972 1979
شدلی کلبی تیونس 1979 1990
ڈاکٹر احمد عصمت عبد المجید مصر 1991 2001
عمر موسی مصر 2001 تاحال

عرب لیگ کے اجلاس

ترمیم
  •   قاہرہ مصر، 13 تا 17 جنوری 1964ء
  •   اسکندریہ، مصر، 5 تا 11 ستمبر 1964ء
  •   الدارالبدیہ (کاسابلانکا)، مراکش، 13 تا 17 ستمبر 1965ء

دیگر تنظیموں کے ساتھ تعلقات

ترمیم
 عرب لیگاو آئی سی رکن ممالک کا پارلیمانی اتحادتنظیم تعاون اسلامیمغرب عربی اتحاداغادیر معاہدہعرب اقتصادی اتحاد کونسلمجلس تعاون برائے خلیجی عرب ممالکمغربی افریقی اقتصادی و مالیاتی اتحاداقتصادی تعاون تنظیمترکی کونسللپتاکو-گوورما اتھارٹیلپتاکو-گوورما اتھارٹیاقتصادی تعاون تنظیمالبانیہملائیشیاافغانستانلیبیاالجزائرتونسمراکشلبنانمصرصومالیہآذربائیجانبحرینبنگلہ دیشبیننبرونائیبرکینا فاسوکیمرونچاڈاتحاد القمریجبوتیگیمبیاجمہوریہ گنیگنی بساؤگیاناانڈونیشیاایرانعراقکوت داوواغاردنقازقستانکویتکرغیزستانمالدیپمالیموریتانیہموزمبیقنائجرنائجیریاسلطنت عمانپاکستانقطرسوڈانفلسطینسرینامشامتاجکستانٹوگوترکیترکمانستانیوگنڈامتحدہ عرب اماراتازبکستانيمنسینیگالگیبونسیرالیونمغرب عربی اتحاداغادیر معاہدہسعودی عرب
تنظیم تعاون اسلامی کے اندر مختلف کثیر القومی تنظیموں کے درمیان تعلقات۔ ایک کلک پزیر اویلر تصویر مبت


مزید دیکھیے

ترمیم
  • عرب لیگ

حوالہ جات

ترمیم

سانچہ:فہرستیں ممالک اور زبانیں