عزیز نیسن
معلومات شخصیت
پیدائشی نام (ترکی میں: Mehmet Nusret Nesin ویکی ڈیٹا پر پیدائشی نام (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 20 دسمبر 1915[1][2][3]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
استنبول[2]  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 6 جولا‎ئی 1995 (80 سال)[4][5][3][6][7]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
چشمے[8]  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات دورۂ قلب  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن استنبول  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر طرزِ موت (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت
عملی زندگی
مادر علمی کولئیلی ملٹری ہائی اسکول (–1935)  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ شاعر، مصنف[9][10][2]، ناول نگار، ادیب اطفال، صحافی[2]، مصنف[11][12]  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان ترک زبان[2]  ویکی ڈیٹا پر مادری زبان (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان ترک زبان[13][2]  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تحریک اسلام  ویکی ڈیٹا پر تحریک (P135) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

محمد نصرت قلمی نام عزیز نیسن (انگریزی: Aziz Nesin) (پیدائش : 20 دسمبر 1915ء - وفات: 6 جولائی 1995ء) بیسویں صدی کا ترکی کا مشہور ادیب، شاعر، ڈراما نگار، مزاح نگار، 100 سے زائد کتابوں کے مصنف اور جدید ترکی ادب کا معروف ترین نام ہے۔

حالات زندگیترميم

پیدائش و خاندانی پس منظرترميم

عزیز نیسن 20 دسمبر 1915ء کو جزائر پرنس، سلطنت عثمانیہ میں پیدا ہوئے۔ وہ کریمیائی تاتار نسل سے تعلق رکتے تھے۔[14]

خدماتترميم

عزیز نیسن نے متعدد طنزیہ رسائل کی ادارت کی۔ عزیز نیسن ایک فعال سیاسی کارکن رہے۔ 1980ء میں جب ترکی میں فوجی انقلاب کے بعد دانشوروں سمیت سارا ملک شدید دباؤ کا شکار تھا، عزیز نیسن نے دانش وروں کی ایک قابلِ لحاظ تعداد کو آمرانہ حکومت کے خلاف متحد کیا۔ زندگی کے آخری برسوں میں مذہبی شدت پسندی کے خلاف برسرِ پیکار رہے۔ اپنے سیاسی نظریات کی بنا پر وقتاً فوقتاً جیل جانا پڑا۔ عزیز نیسن نے عام آدمی کے دبائے اور کچلے جانے کے خلاف شدید رد عمل ظاہر کیا اور نوکر شاہی کو اپنے بھرپور طنز کا نشانہ بنایا۔ ان کی تخلیقات کے تیس سے زائد زبانوں مین ترجمے ہو چکے ہیں۔[14]

نیسن فاؤنڈیشن کا قیامترميم

انہوں نے 1972ء میں "نیسن فاؤنڈیشن" قائم کی۔ فاؤنڈیشن کا مقصد ہر سال چار بچوں کو فاؤنڈیشن کے قائم کردہ گھر میں لاکر ان کی تمام ضروریات کی کفالت کرنا ہے۔ ان ضرورریات میں روٹی، کپڑے اور مکان کے ساتھ ساتھ ابتدائی اسکول سے اعلیٰ تعلیمی اداروں تک بچوں کی تعلیم و تربیت بھی شامل ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے عزیز نیسن نے اپنی تمام تخلیقات کے ترکی اور بیرونِ ترکی طباعت، ترجمے، اسٹیج پر پیش کیے جانے، فلم یا ٹیلی وژن پر پیش کش کے تمام حقوق دائمی طور پر فاؤنڈیشن کے نام کردیے۔[14]

اعزازاتترميم

انہیں ترکی، اطالیہ، بلغاریہ اور سابق سوویت یونین میں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔

وفاتترميم

عزیزنیسن کی وفات حرکتِ قلب بند ہونے سے 6 جولائی 1995ء کو چشمے، ترکی میں ہوئی۔ وصیت کے مطابق بغیر کسی تقریب کے "نیسن فاؤنڈیشن" کی زمین میں کسی نامعلوم مقام پر دفن کیے گئے۔

حوالہ جاتترميم

  1. http://data.bnf.fr/12158040/aziz_nesin/ — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. ^ ا ب پ ت ٹ http://data.bnf.fr/12158040/aziz_nesin/ — مصنف: Paul de Roux — عنوان : Nouveau Dictionnaire des œuvres de tous les temps et tous les pays — اشاعت دوم — جلد: 1 — صفحہ: 194 — ناشر: Éditions Robert Laffont — ISBN 978-2-221-06888-5
  3. ^ ا ب ISFDB author ID: http://www.isfdb.org/cgi-bin/ea.cgi?263275 — بنام: Aziz Nesin — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12158040t — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  5. http://en.academic.ru/dic.nsf/hotels/901661017
  6. Munzinger person ID: https://www.munzinger.de/search/go/document.jsp?id=00000018646 — بنام: Aziz Nesin — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  7. Brockhaus Enzyklopädie online ID: https://brockhaus.de/ecs/enzy/article/nesin-aziz — بنام: Aziz Nesin
  8. http://www.nytimes.com/1995/07/07/obituaries/aziz-nesin-of-turkey-dies-at-80-writer-escaped-militants-arson.html
  9. http://www.tandfonline.com/doi/full/10.1080/00263206.2012.759101
  10. http://www.tandfonline.com/doi/pdf/10.1080/03064228408533770
  11. http://www.jstor.org/stable/762713
  12. http://www.reuters.com/article/2012/03/13/us-turkey-protest-idUSBRE82C0U120120313
  13. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12158040t — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  14. ^ ا ب پ عزیز نیسن، مصنف کا تعارف، اردو ڈائجسٹ لاہور، ص 258