علامہ امداد علی امام علی قاضی سندھ کے نامور ادیب، مفکر اور سندھ کے اعلیٰ پائے کے محقق تھے۔ آپ نے سندھی ادب، ثقافت، علم، فن اور تہذیب پر بہت کام کیا ہے۔

آئی آئی قاضی
علامہ امداد قاضی.jpg

معلومات شخصیت
پیدائش 18 اپریل 1886  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پاٹ شریف  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 13 اپریل 1968 (82 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
حیدرآباد  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ ایلسا قاضی  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی لندن اسکول آف اکنامکس  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ منصف  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

علامہ صاحب 09 اپریل 1886ء کو حیدرآباد، سندھ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم میاں عبد العزیز سے حاصل کی۔ 1907ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان گئے جہاں سے آپ نے اقتصادیات اور نفسیات کی تعلیم حاصل کی۔ 1910ء میں جرمنی گئے۔ جہاں ایلسا نامی جرمن خاتون سے ملے اور بعد میں شادی ہوئی۔

علامہ 1951ء میں سندھ یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر مقرر ہوئے۔ آپ نے 1959ء میں استعفا دیا اور سندھی ادبی بورڈ کے لیے کتابیں لکھنے لگے۔

وہ بین القوامی طور پر مانے ہوئے شخص تھے، ان سے متاثر ہونے والوں میں علامہ اقبال، ذاکر حسین (ہندوستان کے سابق صدر)، مولانا ابو الکلام آزاد اور جارج برنارڈ شا قابل ذکر ہیں۔

علامہ صاحب کی زوجہ ایلسا قاضی جنہیں سندھ کے لوگ احترام سے "امڑ ایلسا" کہتے تھے 28 مئی 1967ء میں انتقال کر گئیں۔ علامہ صاحب ان کی وفات کے بعد زیادہ عرصہ زندہ نہ رہ سکے اور 13 اپریل 1968ء کو خودکشی کر کے اپنی حیات کا خاتمہ کیا۔

کتابیاتترميم

علامہ صاحب نے اکثر کتاب اور مضامین انگریزی زبان میں لکھے۔

  • شاھ صاحب کے رسالے پر تحقیقی مقالا (سندھی)
  • Casual peeps at sophia (انگریزی)
  • A brown girl in the search of GOD (انگریزی)

حوالہ جاتترميم